Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

Thursday, October 2, 2025

ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس

ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس

دل سن کے ایک نام دھڑکتا ضرور ہے

یہ بہت مشہور شعر ہے۔ یقیناً آپ نے بھی کبھی نہ کبھی اسے پڑھا یا سنا ہو گا۔

یہ مقبول شعر اردو کے معروف شاعر ساقی فاروقی کا ہے۔

Saturday, December 5, 2020

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

بغیر اُس کے اب آرام بھی نہیں آتا 


وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا 


اُسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئے 


وہ ماہ رُخ جو لبِ بام بھی نہیں آتا 


کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام 


مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا 


بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے پر 


جدھر حبابِ تہی جام بھی نہیں آتا 


چُرا کے خواب وہ آنکھوں کو رہن رکھتا ہے 


اور اُس کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا  

Thursday, December 3, 2020

پرانی نسل، نئی نسل، مستقبل کے شان دار مواقع

 نفسیات، نیورو سائنس اور معاصر ابلاغی سائنس اور دوسرے بہت سارے پرانے اور نئے علوم کی جو کتابیں، تحقیقی مضامین، ویڈیو لیکچر، سائنسی ویڈیو وغیرہ نیٹ پر بِلا معاوضہ ملتی ہیں، انھیں پڑھ، سن اور دیکھ کر یہ سمجھا ہے کہ جس طرح اشتہارات اور خریداری پر مائل کرنے والے دوسرے مواد سے دنیا بھر کے لوگوں کے ذہنوں کو ایسی چیزیں خریدنے پر بھی تیار کر لیا گیا ہے جن کی انھیں بالکل ضرورت نہیں، اسی طرح آج کل دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں کے شہریوں سمیت سب کے ذہن، ذہنیت، سوچنے کا انداز، یقین اور رویے سب کچھ انتہائی کارگر سائنسی طریقوں اور ٹیکنولوجیوں سے بدل کر نئے سانچوں میں ڈھالا جا رہا ہے۔ 


حتیٰ کہ ہزاروں سال سے چلے آنے والے یقین اور رویے تک بدلے جا رہے ہیں۔


روشن اور امید افزا رُخ:

آنے والے سال پوری دنیا میں نوجوانوں کے لیے انتہائی شان دار مواقع لے کر آ رہے ہیں۔


افسوس ہم بڑی عمر کے لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ہمارے بچوں کا مستقبل ہماری نوجوانی کے زمانے سے بالکل مختلف ہو گا۔


ہدیۂ ناچیز:

مہربان دوستو آپ کا ناچیز دوست وسائل بالکل نہ ہونے کے باوجود حقیقت میں دن رات معاصر مفکّرین، سائنس دانوں، سماجی سائنس کے ماہرین، تازہ ترین ناولوں، شاعری، مصوری، موسیقی اور بہت کچھ بامعنی مواد پڑھ، سن اور دیکھ کر ان سب کا حاصل/ نچوڑ آپ کی خدمت میں کامل اخلاص و محبت کے ساتھ پیش کر رہا ہے تاکہ ذہین دوست مستقبل کے شان دار مواقع سے مستفیض ہو سکیں۔


ناچیز ناقابلِ تصور ذاتی مسائل میں پھنسا دیے جانے کے باوجود کوشش کرتا ہے کہ لایعنی چیزیں پوسٹ یا شیئر کر کے اپنا اور دوستوں کا وقت ضائع نہ کرے۔ مجھے یقین ہے کہ دیانت دار و ایثار کیش دوست یہ حقیقت مانیں گے اور زہریلے حاسدوں کے لا انتہا شر سے زندہ در گور اپنے ناچیز دوست کو دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔


اللہ آپ سب پر رحمت فرمائے، آمین۔

Tuesday, February 4, 2020

موبائل فون پر اردو میں بول کر ٹائپنگ کرنے کا طریقہ

موبائل فون پر میسیج، کومینٹ یا پوسٹ اردو میں بول کر ٹائپ کرنے کا طریقہ یہ ہے۔

اپنے اینڈرائیڈ فون میں پلے سٹور سے گوگل جی بورڈ انسٹال کیجیے۔ یہ ہدایت ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے گوگل جی بورڈ پہلے سے انسٹال نہیں کیا ہوا ہو۔

فون کی سیٹنگ میں گوگل جی بورڈ کو "ڈیفالٹ کی بورڈ" سیٹ کیجیے۔

فون سیٹنگ ہی میں "کی بورڈ اور اِن پُٹ میتھڈ" Keyboard and Input Method کو کلک کیجیے۔

یہاں "گوگل جی بورڈ" کی سیٹنگ میں جا کر "ملٹی لِنگُواَل ٹائپنگ" Multi Ligual Typing کے آپشن میں پہلے سے موجود انگلش زبان کے ساتھ اردو شامل کیجیے۔

گوگل جی بورڈ کی سیٹنگ میں "وائس ٹائپنگ" کا آپشن ہوتا ہے۔ اسے کلک کر کے وائس ٹائپنگ کی سہولت آن کر لیجیے۔

فون سیٹنگ میں "گوگل وائس ٹائپنگ" Google Voice Typing لکھا ہوتا ہے۔ اسے کلک کیجیے اور پہلے سے موجود انگلش کے ساتھ اردو شامل کر دیجیے۔

وائس ٹائپنگ آپشن میں بلیو ٹوتھ اور تار والے ہیڈفون کے ذریعے ٹائپنگ کی سہولت آن کرنے کا آپشن بھی ہوتا ہے۔ اِنھیں آن کر دیجیے تاکہ جب بلیو ٹوتھ ہیڈفون یا تار والا ہیڈفون لگایا ہو تب بھی بول کر ٹائپ کی جا سکے۔

آپ نے جب بھی کچھ لکھنا ہو تو کی بورڈ کے اوپر والی پَٹّی پر موجود مائیک کے آئیکن کو کلک کر کے صاف آواز میں مناسب رفتار سے اردو میں بول کر ٹائپنگ کر سکیں گے۔

یاد رہے وائس ٹائپنگ کرتے ہوئے کسی بھی زبان میں بولتے ہوئے بولنے میں زیادہ وقفہ ہو جائے تو مائیک کے آئیکن کو دوبارہ کلک کرنا پڑتا ہے، اس لیے مناسب رفتار سے صاف آواز میں بولنا جاری رکھیے۔ اس طرح مائیک آف نہیں ہو گا اور جی بورڈ آپ کے بولے ہوئے لفظ ٹائپ کرتا چلا جائے گا۔

Thursday, November 28, 2019

شکستہ حال سا، بے آسرا سا لگتا ہے

شکستہ حال سا، بے آسرا سا لگتا ہے

یہ شہر دل سے زیادہ دُکھا سا لگتا ہے

ہر اک کے ساتھ کوئی واقعہ سا لگتا ہے

جسے بھی دیکھو وہ کھویا ہوا سا لگتا ہے

زمین ہے سو وہ اپنی ہی گردشوں میں کہیں

جو چاند ہے سو وہ ٹُوٹا ہوا سا لگتا ہے

مِرے وطن پہ اترتے ہوئے اندھیروں کو

جو تم کہو، مجھے قہرِ خدا سا لگتا ہے

یہ رات کھا گئی ایک ایک کر کے سارے چراغ

جو رہ گیا ہے، وہ بجھتا ہُوا سا لگتا ہے

دعا کرو کہ میں اس کے لیے دعا ہو جاؤں

وہ ایک شخص جو دل کو دعا سا لگتا ہے


تو دل میں بجھنے سی لگتی ہے کائنات تمام

کبھی کبھی جو مجھے تُو بُجھا سا لگتا ہے

جو آ رہی ہے صدا، غور سے سنو اُس کو

کہ اس صدا میں خدا بولتا سا لگتا ہے

ابھی خرید لیں دنیا کہاں کی منہگی ہے

مگر ضمیر کا سودا بُرا سا لگتا ہے

یہ موت ہے یا کوئی آخری وصال کے بعد

عجب سکون میں سویا ہوا سا لگتا ہے

ہوائے رنگِ دو عالم میں جاگتی ہوئی لَے

علیم ہی کہیں نغمہ سرا سا لگتا ہے

شاعر: عبید اللہ علیم

اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں

دوستو


یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد

تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو


لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس

برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو


شامِ الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا

راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو


پھرتے ہیں مثلِ  موجِ ہوا شہر شہر میں

آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو


آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لُٹی محفلوں کی دھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو


شاعر: منیر نیازی

Tuesday, January 22, 2019

تمام دُکھ ہے

گوتم کا آخری وعظ

مَيں دُکھ اُٹھا کر

مِرے عزيزو! مَيں دکھ اٹھا کر

حيات کی رمزِ آخريں کو سمجھ گيا ہوں: تمام دکھ ہے

وجود دکھ ہے، وجود کی يہ نمود دکھ ہے

حيات دکھ ہے، مَمَات دکھ ہے

يہ ساری موہوم و بے نشاں کائنات دکھ ہے

شعور کيا ہے ؟ اک اِلتِزامِ وجود ہے، اور وجود کا التزام دکھ ہے

جدائی تو خير آپ دکھ ہے، مِلاپ دکھ ہے

کہ ملنے والے جدائی کی رات ميں ملے ہيں، يہ رات دکھ ہے

يہ زندہ رہنے کا، باقی رہنے کا شوق، يہ اہتمام دکھ ہے

سکوت دکھ ہے، کہ اس کے کربِ عظيم کو کون سہہ سکا ہے

کلام دکھ ہے، کہ کون دنيا ميں کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے

يہ ہونا دکھ ہے، نہ ہونا دکھ ہے، ثبات دکھ ہے، دوام دکھ ہے

مِرے عزيزو! تمام دکھ ہے!

مِرے عزيزو! تمام دکھ ہے!

شاعر: اسلم انصاری، مُلتان

Monday, January 14, 2019

دُکھ سُکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا

دُکھ سُکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا

اِک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا

دادا حیات تھے جب، مٹّی کا ایک گھر تھا

چوروں کا کوئی کھٹکا نہ ڈاکووں کا ڈر تھا

کھاتے تھے رُوکھی سُوکھی، سوتے تھے نیند گہری

شامیں بھری بھری تھیں، آباد تھی دوپہری

سنتوش تھا دلوں کو، ماتھے پہ بل نہیں تھا

دل میں کَپَٹ نہیں تھا، آنکھوں میں چَھل نہیں تھا

تھے لوگ بھولے بھالے لیکن تھے پیار والے

دنیا سے کتنی جلدی سب ہو گئے روانہ

دکھ سکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا

اک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا

اَبّا کا وقت آیا، تعلیم گھر میں آئی

تعلیم ساتھ اپنے تازہ وِچار لائی

آگے روایتوں سے بڑھنے کا دھیان آیا

مٹی کا گھر ہٹا تو پَکّا مکان آیا

دفتر کی نوکری تھی تنخواہ کا سہارا

مالک پہ تھا بھروسا، ہو جاتا تھا گزارا

پَیسا اگرچہ کم تھا، پھر بھی نہ کوئی غم تھا

کَیسا بھرا پُرا تھا اپنا غریب خانہ

دکھ سکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا

اک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا

اب میرا دور ہے یہ، کوئی نہیں کسی کا

ہر آدمی اکیلا، ہر چہرہ اجنبی سا

آنسو نہ مسکراہٹ، جِیون کا حال ایسا

اپنی خبر نہیں ہے مایا کا جال ایسا

پَیسا ہے مرتبہ ہے، عزت وقار بھی ہے

نوکر ہیں اور چاکر، بنگلہ ہے کار بھی ہے

زر پاس ہے زمیں ہے لیکن سُکُوں نہیں ہے

پانے کے واسطے کچھ کیا کیا پڑا گنوانا

دکھ سکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا

اک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا

اَے آنے والی نسلو، اے آنے والے لوگو

بھوگا ہے ہم نے جو کچھ وہ تم کبھی نہ بھوگو

جو دکھ تھا ساتھ اپنے تم سے قریب نہ ہو

پِیڑا جو ہم نے جھیلی تم کو نصیب نہ ہو

جس طرح بھیڑ میں ہم زندہ رہے اکیلے

وہ زندگی کی محفل تم سے نہ کوئی لے لے

تم جس طرف سے گزرو میلہ ہو روشنی کا

راس آئے تم کو موسم اکیسویں صدی کا

ہم تو سُکُوں کو ترسے تم پر سُکُون برسے

آنند ہو دلوں میں، جیون لگے سہانا

شاعر: ظفر گورکھپوری

راہ بَر لُوٹ نہ لیں مجھ کو اکیلا پا کر

راہ بَر لُوٹ نہ لیں مجھ کو اکیلا پا کر

رہ زَنو دُور نہ جاؤ مجھے ڈر لگتا ہے

شاعر: قتیل شفائی

Friday, December 14, 2018

ہم اکیسویں صدی کے اردو والے کیا پڑھیں؟

اکیسویں صدی کا پہلا ربع ختم ہونے کے آخری برس ہیں۔ یہ نئی دنیا ہے۔ ہم نوعِ انسان کی بڑی ہی خوش نصیب نسل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نئی دنیا میں جی رہے ہیں۔

بہتر ہے کہ اب ہم اردو والے زمانۂ حاضر کا ۔۔۔۔ آج اور اب کا ۔۔۔۔ ادب پڑھیں۔ جو لوگ افسانوں، ناولوں اور شاعری کے علاوہ نان فکشن پڑھ سکتے ہیں وہ آج کا نان فکشن پڑھیں۔

اس طرح ہم اردو والے اپنے آپ کو، اپنے بچوں کو اور معاشرے کو آج کا اپنا آپ، آج کے بچے اور آج کا معاشرہ بنانے میں اپنا کردار مثبت اورتعمیری انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

Friday, November 23, 2018

ہم لوگ تِرے شہر میں خُوش بُو کی طرح ہیں

ہم لوگ تِرے شہر میں خُوش بُو کی طرح ہیں

محسوس تو ہوتے ہیں دِکھائی نہیں دیتے

یہ معروف شعر تسنیم کوثر کا ہے۔

Tuesday, August 28, 2018

تنہائی میری سب سے اچھی دوست ہے

تنہائی میری سب سے اچھی دوست ہے
میرے ساتھ ہنستی ہے
میرے ساتھ روتی ہے
میں بھوکا ہوتا ہوں تو یہ بھی کھانا نہیں کھاتی
مجھے نیند نہ آئے
تو یہ بھی رات آنکھوں میں کاٹتی ہے

تنہائی میری سب سے اچھی دوست ہے
یہ زود رنج نہیں ہے
گفتگو میں مجھ پہ حاوی ہونے کی کوشش نہیں کرتی
کوئی بات پوچھوں تو سچ بولتی ہے
چھوٹی چھوٹی مالی منفعتوں کے لیے
مجھے چھوڑ کر دوسروں سے ناتا نہیں جوڑتی
میرے ساتھ اچھے وقت کا انتظار کرتی ہے
میرے ساتھ دکھ جھیلتی ہے

تنہائی میری سب سے اچھی دوست ہے

شاعر: طارق ہاشمی

Saturday, August 25, 2018

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

جس کا ہم سائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

یہ بھی ممکن ہے بتا دے وہ کوئی کام کی بات

اک نجومی کو چلو ہاتھ دکھایا جائے

دیکھنا یہ ہے کہ کون آتا ہے سایا بن کر

دھوپ میں بیٹھ کے لوگوں کو بلایا جائے

یا مری زیست کے آثار نمایاں کر دے

یا بتا دے کہ تجھے کیسے بھلایا جائے

اس کے احسان سے انکار نہیں ہے لیکن

نقش پانی پہ ظفرؔ کیسے بنایا جائے

Thursday, May 24, 2018

کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم

کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم

مصنف: آرتھر سی بروکس (صدر ’’امریکن اینٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ)

میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتا ہوں۔ یہ نفرت میرے کھیل کے میدان کے برسوں سے نہیں پھوٹی بلکہ اس کی بجائے بیس بائیس سال کی عمر میں ایک پیشہ ورسمفنی آرکسٹرا میں کام کرنے کے میرے تجربے سے پھوٹی ہے۔ آرکسٹرا کے موسیقار جبر، ظلم اور ضرورت سے زیادہ کام لینے کی عادت کے باعث بدنام ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سازندوں کی فن کارانہ زندگی کو مکمل کنٹرول میں رکھنے کی وجہ سے بھی بدنام ہیں۔ وہ اپنی طاقت مستحکم کرنے کی غرض سے سازندوں کو ایک دوسرے کا مخالف بنا دیتے ہیں، ان کی کمزوریوں کی تاک میں رہتے ہیں اور ان کا اعتماد تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔جیسا کہ ہم کہا کرتے ہیں، موسیقار ’’ایول جینیئس‘‘ ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ سارے مجسم شر ہوتے ہیں۔
کئی عشرے گزرنے کے بعد موسیقاروں کے لیے میری رائے تھوڑی نرم ہو گئی ہے لیکن کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں کے متعلق میری رائے پہلے جیسی ہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ لوگوں کی اکثریت بھی کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتی ہے۔ ’’ہوریبل باسز‘‘ اور ’’ریوینج آف دی نرڈز‘‘ جیسی فلموں میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم اپنے مظالم کی سزا پاتے ہیں۔ فلموں کے شائقین کا بڑی تعداد میں یہ فلمیں دیکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جس طرح میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتا ہوں، اسی طرح لوگوں کی اکثریت بھی کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتی ہے۔ کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں کے خلاف عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والوں کی کوششوں پر غور کیجیے۔خاتونِ اوّل یعنی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیوی میلانیا ٹرمپ کی ’’بہترین بنو‘‘ کے نعرے کے تحت شروع کی ہوئی مہم اس سلسلے کی تازہ ترین کوشش ہے۔
چناں چہ یہ ایک اَسرار آمیز امر ہے کہ ایک جمہوری معاشرے میں منڈی کی بنیاد پر استوار مظہر ۔۔۔ یعنی سیاسی مباحثے ۔۔۔ پر اِس وقت انسانی کردار کی اس نفرت انگیز خصوصیت کا غلبہ ہے۔ ٹیلی ویژن سے لے کر سوشل میڈیا اور اعلیٰ ترین سطح کی روزمرہ سیاست تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور لوگ اپنے سے کم تر رتبے کے حامل افراد اور کمزور لوگوں کی تحقیر، تذلیل اور تضحیک کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم موجود ہیں تو انھیں عوامی حلقوں میں شہرت و مقبولیت، توجہ اور حتیٰ کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں انعام و اکرام کیوں ملتا ہے؟ انھیں رد کیوں نہیں کر دیا جاتا؟
اس سوال کے تین جواب اور توضیحات ہیں۔ اوّل، لوگ اخلاقیات کے معاملے میں پسند ناپسند اور جانب داری و تعصب سے کام لیتے ہیں۔ دوسرے فریق کا کمزوروں پر دھونس جمانے والا بزدل ظالم شخص ایک ہولناک شخص ہوتا ہے جب کہ اپنی جانب کا کمزوروں پر دھونس جمانے والا بزدل ظالم شخص ’’سچ بولنے والا‘‘ ہوتا ہے۔ بلا شبہ ہم بعض اوقات اس بیانیے سے بھی ہٹ جاتے ہیں اور یہاں تک کہنے لگتے ہیں کہ ہماری جانب کا کمزوروں پر دھونس جمانے والا بزدل ظالم شخص تو اصل میں مظلوم انسان ہے جو کمزوروں پر دھونس جمانے والا بڑے بزدل ظالموں سے لڑ رہا ہے۔
دوم، صورتِ حال اُلٹ ہے، جو کچھ یوں ہے کہ عوام کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم اشخاص کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ سماجی سائنس داں ژاں لِپ مَین بلومن نے اپنی کتاب ’’دی الیور آف ٹوکسک لیڈرز‘‘ (The Allure of Toxic Leaders) میں دکھایا ہے کہ لوگ سیاسی ڈکٹیٹروں اور جابر منتظمین کے خلاف شکوے شکایت تو کرتے ہیں لیکن تقریباً ہمیشہ ہی ایک غیر یقینی دنیا میں طاقت کی قدیمی پسندیدگی و ستائش اور تحفظ کی ضرورت کے تحت ان کے وفادار رہتے ہیں۔
جہاں تک آرکسٹرا کے جہان کا تعلق ہے تو وہاں وائیولا بجانے والے ایک سازندے کا لطیفہ اکثر سنایا جاتا ہے جسے موسیقار نے برسوں سے گالم گلوچ اور اذیت کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ایک دن وہ ریہرسل کر کے گھر واپس آیا تو دیکھا کہ اس کا گھر جل کر راکھ ہو چکا ہے۔ وہاں موجود پولیس والوں نے اسے بتایا کہ یہ کام اس کے آرکسٹرا کے موسیقار نے کیا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کوئی سوال کرنا چاہتا ہے۔ اس نے لمحہ بھر سوچنے کے بعد نرم لہجے میں پوچھا، ’’کیا استاد جی میرے گھر تشریف لائے تھے؟‘‘
تیسری توضیح سادہ رضامندی ہے۔ 1999ء میں ’’جرنل آف ایڈولسینس‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بڑی معروف ہے۔ یہ تحقیق تین ماہرینِ نفسیات نے اس موضوع پر کی تھی کہ جب بچے کسی بزدل ظالم کو اپنے سے کمزور شخص پر دھونس جماتا دیکھتے ہیں تو وہ کس طرح کا ردِ عمل کرتے ہیں۔
کھیل کے میدان میں کھیلتے کودتے ہزاروں بچوں کی ویڈیوز بنائی گئیں۔ اس دوران کمزوروں پر دھونس جمانے کے 200واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم یہ بات بہت زیادہ پسند کرتے ہیں کہ جب وہ کسی کمزور پر دھونس جما رہے ہوں تو اس دوران ان کے ارد گرد تماشائی موجود ہوں۔ ریکارڈ کیے جانے والے 200واقعات میں سے 100واقعات ایسے تھے جن میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم اور مظلوم کے علاوہ دو یا دو سے زیادہ لوگ موجود تھے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات رونما ہونے کے وقت جو لوگ موجود ہوتے ہیں، وہ کیا کرتے ہیں؟ محولہ 200واقعات میں سے جن 100واقعات میں دوسرے جتنے بھی لوگ موجود تھے ان میں سے 21فی صد نے کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم کا ساتھ دیا تھا جب کہ 25فی صد نے مظلوم کا ساتھ دیا تھا۔ باقی 54فی صد لوگ غیر جانب دار رہے تھے۔ وہ بغیر کوئی ردِ عمل کیے ’’تماشا‘‘ دیکھتے رہے تھے۔ انھوں نے نہ تو کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم کا ساتھ دیا تھا اور نہ ہی مظلوم کی مدد کی تھی۔ جب سیاست کے میدان میں بزدل ظالم سیاست دان کمزوروں پر دھونس جماتے ہیں تو بالغ افراد کا ردِ عمل اُن بچوں سے مختلف نہیں ہوتاجن کی ویڈیوز محولہ تحقیق کے دوران بنائی گئی تھیں۔سیاسی تقریر ہو یا معمول کا مزاح کمزوروں پر دھونس جمانے کے بد ترین واقعے پر بھی بے نیازی سے کندھے جھٹک دیے جاتے ہیں۔
امریکا کے سابق صدر تھیوڈور روزویلٹ نے امن کا نوبل انعام حاصل کرتے وقت جو تقریر کی تھی، اس میں انھوں نے کہا تھا، ’’ہم نجی اور سرکاری زندگی میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں، عادی جھگڑا لو لوگوں اور جابروں سے نفرت اور حقارت کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے اپنی زندگی بخش تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا تھا، ’’لیکن ہم بزدلوں اور عیش و عشرت میں دل چسپی لینے والوں سے بھی کم نفرت نہیں کرتے ۔ اگر کوئی انسان حقوق سے محرومی اور ذلت و خواری کا مقابلہ نہیں کرتا یا ناانصافی کے شکار اپنے پیاروں کی خاطر نہیں لڑتا تو وہ انسان کہلائے جانے کا حق دار نہیں۔‘‘
امریکا کے سابق صدر تھیوڈور روزویلٹ نے یہ بات اجنبیوں کا دفاع کرنے کے بارے میں نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کے (’’اپنے پیاروں‘‘ کے) حق میں کھڑے ہونے کے بارے میں کی تھی۔ بالکل درست لیکن اپنے آپ سے پوچھیے کہ آپ کے حقیقی اتحادی کون کون ہیں؟ اگر کوئی ایسا شخص آپ کا دوست ہو جس سے آپ سیاسی اعتبار سے اتفاق رائے نہیں رکھتے ہوں تو کیا وہ شخص سیاسی اعتبار سے آپ کے ہم خیال کسی مسخرے، سیاست دان یا ٹوئٹر پر دوسروں کو دِق کرنے والے شخص کی نسبت آپ کا زیادہ اتحادی نہیں ہو گا؟ اگر ایسا ہو تو کیا آپ کو اس مرد یا عورت کو کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم سے بچانے کے لیے کھڑا نہیں ہونا چاہیے، خواہ کمزوروں پر دھونس جمانے والا وہ بزدل ظالم شخص سیاسی اعتبار سے آپ کا ہم خیال ہو؟
بزدل ظالم اپنے سے کمزور افراد پر تب ہی دھونس جماتے ہیں جب اس طرزِ عمل کی طلب موجود ہو، اس کے علاوہ وہ تب ہی ایسا کرتے ہیں جب ان کے اس طرزِ عمل پر کوئی ردِ عمل نہ کیا جائے: انھیں دیکھنے والے شائقین اور تماش بین مطلوب ہوتے ہیں۔ چناں چہ وائٹ ہاؤس کے اخباری نمائندگان کے عشایئے کے میزبان یا ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر پر الزام مت دھریئے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم امریکی بزدلوں اور تعیش پرستوں کی قوم بن چکے ہیں۔ ہم غیر فعالیت سے بیٹھے ہیں جب کہ ہمارے سیاسی بیانیے پر گالم گلوچ اور تحقیر کا غلبہ ہو چکا ہے۔
اگر آپ اس صورتِ حال سے نفرت کرتے ہیں تو کھڑے ہو جائیے۔ میں نے آرکسٹرا میں ایسا صرف ایک مرتبہ ہوتے دیکھا تھا۔ ایک مہمان موسیقار ریہرسل کے دوران ہمیں ڈانٹ رہا تھا اور بعض سازندوں کو گالیاں دے رہا تھا۔ آخر ایک سازندہ کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا، ’’استادِ محترم میں اپنے تمام ساتھیوں کی طرف سے آپ کے کامل احترام کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ مسئلہ ہم نہیں، آپ ہیں۔‘‘
موسیقار نے اس سازندے کو ریہرسل سے نکال دیا تھا لیکن ہم سب کے لیے وہ ہیروتھا۔

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛  ترجمہ: محمد احسن بٹ)

Thursday, May 17, 2018

کرپشن، فراڈ اور بلیک منی کا ہیڈکوارٹر

کرپشن، فراڈ اور بلیک منی کا ہیڈکوارٹر

مصنف: اولیور بُلو

برطانوی حکام ان الزامات سے تنگ آ چکے ہیں کہ برطانیہ ’’ڈرٹی منی‘‘ (غیر قانونی ذرائع سے کمائے ہوئے پیسے) کا گھناؤنا مرکز بن چکا ہے اور یہ کہ وہ جعلی کارپوریشنوں کے پردے میں چھپائی گئی دولت کا سراغ لگانے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ آپس میں باتیں کرتے ہوئے شکوہ کرتے ہیں کہ وہ پیسے کی آمد کے راستوں کو عیاں کرنے اور بدعنوانی سے کمائی ہوئی دولت کو ملک سے باہر نکالنے کے لیے جو کام کر رہے ہیں، ان پر تنقید کرنے والے لوگ اس کام کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ چناں چہ جب انھیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کا خوب چرچا کرتے ہیں۔ پچھلے مہینے تجارتی کمپنیوں کا اندراج کرنے والے محکمے ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ نے ایک ایسے شخص کے خلاف قانونی کارروائی کامیابی سے کی جس نے کمپنی قائم کرنے کے لیے جھوٹ بولا تھا۔ یہ ’’وائٹ کالر جرائم‘‘ میں سے ایک جرم ہے جس کا ارتکاب شائستہ و مہذب دکھائی دینے والے فراڈیے کر رہے ہیں اور برطانوی عوام کو روزانہ لوٹ رہے ہیں جب کہ حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ برطانیہ کے کاروبار، توانائی اور صنعتی حکمتِ عملی کے وزیر اینڈریو جیمز گرفتھس نے ایک پریس ریلیز میں کہا، ’’یہ قانونی کارروائی برطانیہ میں اپنی نوعیت کی اوّلین کارروائی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کے خلاف سخت اقدامات کرے گی جو قانون کو جان بوجھ کر توڑتے ہیں اور کمپنی کا اندراج کرواتے وقت جھوٹی معلومات فراہم کرتے ہیں۔‘‘ اس واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ واروِک شائر کے ایک شخص کیون بروئر نے اقرارِ جرم کر لیا تھا۔ اس نے جرمانہ اور مقدمے پر خرچ ہونے والی حکومت کی رقم ادا کی۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جو دو کمپنیاں بنائی تھیں، ان میں سے ایک کا تعلق رکنِ پارلیمان وِنس کیبل اور دوسری کمپنی کا تعلق رکنِ پارلیمان جیمز کلیورلی، لیڈی نیوائل رولف اور ایک اسرائیلی شہری سے ہے۔ اسرائیلی شہری کے بارے میں پتا چلا کہ وہ ایک فرضی کردار تھا۔ ابتدا میں عوام نے اس خبر پر جو ردِ عمل کیا وہ حکومت کی امید کے مطابق تھا۔ معروف برطانوی روزنامے ’’دی ٹائمز‘‘ نے جرم کی تفصیلات سے اپنے صفحات بھر دیے۔ اخبار میں بتایا گیا تھا کہ حکومت فراڈ اور فراڈ کی وجوہ کے خلاف سخت اقدامات کرے گی۔ بہرحال یہ فتح زیادہ دیر برقرار نہیں رہی۔ محولہ بالا فاتحانہ پریس ریلیز کے ایک ہی ماہ بعد حکومت کے اینٹی کرپشن چیمپیئن اور ٹوری (قدامت پسند) رکنِ پارلیمان جان پینروز نے اس مقدمے کے حوالے سے کہا، ’’یہ نامہ بر کو گولی مار دینے جیسا احمقانہ اقدام تھا۔‘‘ ہو سکتا ہے کیون بروئر اپنے دعوے کے مطابق بے قصور ہو لیکن وہ برطانوی قوانین و ضوابط کی وہ خامی عیاں کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جو کھربوں پونڈ کے فراڈ ممکن بناتی ہے۔ اسے انعام یہ ملا کہ پہلے تو اسے نظر انداز کیا جاتا رہا اور آخرِ کار اسی کو مجرم قرار دے دیا گیا۔
برطانیہ میں تجارتی کمپنیوں کا اندراج کرنے والے محکمے میں چالیس لاکھ کمپنیوں کا اندراج ہو چکا ہے۔ ان چالیس لاکھ رجسٹرڈ کمپنیوں نے برطانیہ کی معیشت تشکیل دی ہے اور وہ اس کی خوش حالی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ جس طرح ہجوم میں جیب کترے چھپے ہوتے ہی اسی طرح ان چالیس لاکھ رجسٹرڈ کمپنیوں کے درمیان ہزاروں ایسی جعلی کمپنیاں بھی چھپی ہوئی ہیں جنھیں فراڈیے جرائم کے ارتکاب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کمپنیوں کے ذریعے مجرم اپنے آپ کو قانونی کاروبار کرنے والے افراد کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے فراڈ کرتے اور ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کمپنیاں اپنے ملکوں کی قومی اور عوامی دولت لوٹنے والے حکمرانوں کے جرائم کو معمول کا کاروبار ظاہر کرنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ یہ جعلی کمپنیاں واضح خامیوں کی حامل ہوتی ہیں جیسا کہ من گھڑت پتے، آف شور ملکیت یعنی کمپنیوں کے مالکان کا دوسرے ملکوں کا شہری ہونا، ایسی کمپنیاں جو اپنے آپ کو دوسری کمپنیوں کی مالک ظاہر کر رہی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ کیون بروئر کی کمپنیوں کی انوکھی بات یہ تھی کہ ان میں یہ خامیاں موجود نہیں تھیں۔ ان کا اندراج کیون بروئر کے پتے پر کروایا گیا تھا؛ اس کا کاروبار ان کمپنیوں کے ایجنٹ کی حیثیت سے چلایا جا رہا تھا؛ وہ ارکانِ پارلیمان اور معاصرین کو بتا چکا تھا کہ وہ ان کے نام پر کاروبار کر رہا ہے اور اس نے اس کے بعد کمپنیاں تحلیل کر دی تھیں۔ اگر وہ مجرم تھا تو بڑا انوکھا مجرم تھا: بینک لوٹنے والا ایسا لٹیرا جس نے ایک پیسہ بھی نہیں لوٹا تھا، اپنا کاروباری کارڈ بینک کے کاؤنٹر پر چھوڑ گیا تھا اور بینک کے مینیجر کے نام لکھے خط میں اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔ حقیقی بینک لوٹنے والے ہمارے اردگرد کھلے پھر رہے ہیں جب کہ کیون بروئر پکڑا گیا تھا۔ اس کی کہانی ’’منی لانڈرنگ‘‘سے نبرد آزما ہونے کی کم زور حکمتِ عملی کی حقیقت بیان کرنے کے علاوہ برطانیہ کی سرحدوں سے دور تک پھیلے جرم سے جنگ کرنے میں برطانیہ کی ناکامی عیاں کرتی ہے۔
چھیاسٹھ سالہ کیون بروئر تجارتی کمپنیاں قائم کرنے میں سرمایہ کو مدد فراہم کرنے کا کام کرتے ہیں۔ وہ 1984ء سے آج تک کی اپنی عملی زندگی میں پانچ لاکھ کمپنیوں کے قیام میں مدد دے چکے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میرا کام ملک میں ہر کسی کے لیے کمپنیاں قائم کرنا تھا۔ یہ کام ترقی کرتے کرتے قومی سطح تک پھیل چکا تھا۔ میرے بنیادی گاہک وکیل اور اکاؤنٹنٹ ہوتے تھے۔ میں فخریہ کہتا ہوں کہ میری خدمات کے اعلیٰ معیار کی وجہ سے عام لوگوں کی بجائے پیشہ ور افراد میری خدمات حاصل کیا کرتے تھے۔‘‘ یہ کام بہت محنت طلب تھا۔ انھیں اپنے گاہک کی شناخت کی تصدیق کرنا پڑتی تھی، اس کے پاس موجود رقم کا منبع اور اس کی کمپنی کا مقصد جاننا پڑتا تھا۔ اکثر اوقات پولیس، محکمۂ مال اور کسٹمز کے تفتیش کاران کی فائلیں دیکھنے کی درخواست کرتے اور وہ انھیں اپنی فائلوں کی مدد سے یہ جاننے میں مدد دیتے تھے کہ کسی جرم کا ارتکاب کرنے والی کمپنی کے پیچھے کون ہے۔ انھوں نے بتایا، ’’میں ہر بڑے مقدمے میں شہادتی بیانات دے چکا ہوں۔ برطانیہ کے ’’سیریئس فراڈ آفس‘‘ نے میری خدمات کے اعتراف میں مجھے شکریہ کا خط لکھا تھا۔‘‘ ان کے مسئلے کا آغاز 2011ء میں اتحادی حکومت کے دور میں اس وقت ہوا تھا جب وزیرِ تجارت ونس کیبل نے ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کے آن لائن رجسٹریشن سسٹم کا افتتاح کیا تھا۔ کم سرمائے سے کاروبار شروع کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے چلائی جانے والی مہم کے دوران یہ سہولت فراہم کی گئی کہ کاغذی کارروائی کرنے یا کیون بروئر جیسے ایجنٹوں کے ذریعے کمپنی کا اندراج کروانے کی بجائے کوئی بھی شخص اس محکمے کے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنی کمپنی کا اندراج خود کروا سکتا ہے۔ 2012ء میں بس اڈوں پر ’’برطانیہ عظیم ہے‘‘ کی اشتہاری مہم چلائی گئی تھی ، جس کی ایک ذیلی سرخی میں فخریہ کہا گیا تھا کہ برطانیہ میں کمپنی کے اندراج میں چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت لگتا ہے۔وزیروں کے خیال میں یہ ایک کارنامہ تھا جب کہ کیون بروئر جیسے ایجنٹوں کا خیال تھا کہ یہ ان کے کام کی بربادی ہے۔انھوں نے کہا، ’’بہت ہی تھوڑی رقم سے دنیا کا کوئی بھی شخص لاگ اِن ہو کر کمپنی بنا سکتا ہے۔ وہ کسی کا بھی نام درج کر سکتا ہے ۔۔۔ سراسر جعلی نام ۔۔۔ ان کی کمپنیاں بنا سکتا ہے اور ان کے لیے سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکتا ہے۔ چاہے وہ روس میں ہوں یا جمیکا میں یا کسی بھی ملک میں۔‘‘ کیون بروئر جیسے ایجنٹ کمپنی کا اندراج کروانے کے لیے 100پونڈ معاوضہ لیتے ہیں جب کہ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘صرف 18پونڈ لیتا ہے۔ کیون بروئر اور دوسرے ایجنٹ گاہک کے ارادوں اور اس شناخت کی تصدیق کرتے ہیں لیکن ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کسی بھی چیز کی تصدیق نہیں کرتا۔ اس سے اُن کا کاروبار تو خطرے میں پڑا ہی ہے، اس سے جس پیمانے پر فراڈ کی راہ کھلی ہے وہ پہلے کبھی دیکھا نہیں گیا۔ انھیں یقین ہے کہ حکومت نے اپنی پالیسی کے نتائج پر غور و غوض نہیں کیا۔ کیون بروئر نے وزیرِ تجارت ونس کیبل کے نام خط میں لکھا، ’’پالیسی ناصرف غلط اور مہنگی ہے بلکہ اس نے فراڈ اور فریب کاری کے بے پناہ مواقع بھی فراہم کر دیے ہیں۔ ہم نے اپنا موقف واضح کرنے کے لیے ایک کمپنی آپ کی مرضی کے بغیر اور آپ کے علم میں لائے بغیر آپ کے نام پر قائم کی ہے۔ ہم آپ کی شناخت استعمال کرتے ہوئے تجارت شروع کر سکتے ہیں۔‘‘ جان ونسنٹ کیبل سروسز لمیٹڈ 23مئی 2013ء کو قائم کی گئی تھی، جس کا صرف ایک شیئر ہولڈر تھا ۔۔۔ برطانیہ کا وزیرِ تجارت!
وزیرِ تجارت ونس کیبل کی طرف سے خاتون رکنِ پارلیمان جو سونسن نے ان کے خط کے جواب میں طویل خط لکھا، جس میں تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ پر اینٹی منی لانڈرنگ قوانین و ضوابط کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا۔ جو سونسن نے انھیں انتباہ دیتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے جعلی کمپنی بنا کر جرم کا ارتکاب کیا ہے لیکن یہ کہ وہ اس کے خلاف مقدمہ چلانا نہیں چاہتیں۔ ’’ڈیلی مرر‘‘ نے اسے ایک عجوبہ قرار دیا اور یہ اس معاملے کا اختتام تھا۔ وزارتِ تجارت، توانائی اور صنعتی حکمتِ عملی (بی ای آئی ایس) کا ایک ترجمان پچھلے ہفتے کیون بروئر کے بارے میں میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بڑا محتاط تھا۔ اس نے کہا کہ کیون بروئر نے وزیرِ تجارت ونس کیبل کو خبردار کرتے ہوئے کامل دیانت داری سے کام نہیں لیا تھا۔ وہ ملکی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنے مفاد کے لیے سرگرمِ عمل تھا کیوں کہ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ میں آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں اس کا کاروبار ٹھپ ہو گیا تھا۔ اگرچہ یہ درست تھا لیکن اس کی وجہ سے اس حقیقت سے توجہ نہیں ہٹانا چاہیے تھی کہ کیون بروئر نے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت کے مجرمانہ استعمال کی جو نشان دہی کی تھی، اس میں وزن تھا۔
برطانیہ کی کمپنیوں نے عالم گیر سطح پر فراڈ ممکن بنا دیا ہے۔ یوکرین کے سابق صدر اور ان کے حواریوں نے اپنی املاک چھپانے کے لیے برطانوی کمپنیوں کو استعمال کیا تھا۔ روس سے دو کروڑ دس لاکھ ڈالر باہر لے جانے والی پیچیدہ منی لانڈرنگ سکیم ’’رشیئن لانڈرومیٹ‘‘ سکاٹش لمیٹڈ پارٹنر شپس کے ذریعے چلائی گئی تھی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، یو کے (ٹی آئی -یو کے) نے پچھلے سال کرپشن کے باون مقدمات کا جائزہ لے کر پتا چلایا کہ ان میں سات سو ستاسٹھ برطانوی تجارتی کمپنیاں ملوث تھیں، جنھوں نے تقریباً اسّی (80) ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کی (یعنی غیرقانونی رقم کو قانونی بنایا)۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، یوکے نے اس حوالے سے ’’نظروں کے سامنے چھپانا‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں لکھا، ’’ان جرائم کی زد میں آنے والے لوگوں کا انسانی نقصان ہنوز شمار کیاجا رہا ہے۔‘‘ تجارتی کمپنیوں کو بطور آڑ استعمال کیے بغیر اس قسم کے ’’معززانہ‘‘ مالی جرائم کا ارتکاب ناممکن ہے۔ کیروزل فراڈ میں تاجروں نے اشیا برطانیہ درآمد کیں، انھیں برآمد کرنے سے پہلے متعلقہ کمپنیوں کے ذریعے انھیں اپنے آپ کو بیچااور ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی واپسی کے لیے دعویٰ دائر کر دیا حالاں کہ یہ ٹیکس ادا کیا ہی نہیں گیا تھا۔ صرف اس ایک جرم سے برطانیہ کو ہر سال پانچ کروڑ پونڈ سے ایک ارب پونڈ تک کا نقصان ہو رہا ہے۔ نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی پچھلے سال کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ ہر سال فراڈ کی وجہ سے 193ارب پونڈ کا نقصان اٹھا رہا ہے جب کہ تقریباً 100ارب پونڈ کی غیر قانونی رقم ملک کے مالیاتی نظام کی خامیوں کے باعث قانونی بنائی جا رہی ہے۔ سابق وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت نے اس جرم کا ارتکاب روکنے کے لیے برطانوی کمپنیوں پر لازم کیا تھا کہ کم از کم ایک ایسے شخص کا نام افشا کریں جو اس کمپنی پر خاصا کنٹرول رکھتا ہو (اسے پی ایس سی کہا جاتا ہے اور اس سے مراد ایسا شخص ہے جو حقیقتاً کمپنی کے حصص کا مالک ہوتا ہے)۔ ڈیوڈ کیمرون کی حکومت نے عوام کو یہ سہولت بھی دی کہ’ ’کمپنیز ہاؤس‘‘ کی ویب سائٹ پر کسی بھی کمپنی کو بلامعاوضہ تلاش کیا جا سکتاہے۔ اس اقدام کا مقصد عوامی جانچ پڑتال میں اضافہ کرنا تھا۔ مشکل یہ ہے کہ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ میں کوئی بھی یہ جائزہ نہیں لے رہا کہ جمع کروائی جانے والی معلومات درست ہیں یا نہیں۔ کوئی چیز کتنی بھی شفاف کیوں نہ ہو، ٹیکنولوجی کی دنیا کی پرانی کہاوت اس پر صادق آتی ہے کہ ’’گند ڈالا جائے گا تو گند ہی باہر آئے گا۔‘‘ بعض شہری ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کو یہ مسئلہ حل کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے اس کے ڈیٹا میں تضادات ڈھونڈ رہے ہیں۔ کرپشن اور تنازعات پھیلانے والے کاموں کے بارے میں تحقیق کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’’گلوبل وِٹنیس‘‘ نے جنوری میں ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کی ویب سائٹ پر پی ایس سی کے اندراجات کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ 4,000 شیرخوار بچے کمپنیوں کے مالک ہیں جب کہ ایک کامالک تو ابھی پیدا ہونا تھا۔ گراہم بیرو مالیاتی جرائم کا کھوج لگانے کے ماہر ہیں اور آج کل ڈوئچے بینک میں کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنے لنکڈ اِن پیج پر دل چسپ جرائم کی کہانیاں پوسٹ کیا کرتے ہیں۔انھوں نے حال ہی میں ایک شخص کے جرائم کا قصہ لکھا ہے جو اپنا نام چھ مختلف ہجوں میں لکھتا ہے اوراس طرح اس نے انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی تلاش مشکل بنا دی ہے۔ بہرحال ایسا لگتا ہے کہ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ ان انکشافات پر کوئی ردِ عمل نہیں کرے گا۔ میں نے 2016ء میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں ایک خاتون کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ متعدد کمپنیوں کی مالک ہے۔ حتیٰ کہ فوت ہو نے کے دو سال بعد بھی وہ ایک رجسٹرڈ کمپنی کے مالکان میں شامل ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، یو کے نے ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کو ایسی فعال کمپنیوں کے بارے میں خبردار کیا ہے جو اس کی تفتیش کے مطابق منی لانڈرنگ میں ملوث رہی ہیں۔ اس اطلاع پر ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ نے ان کمپنیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ گراہم بیرو نے میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں کئی عالمی بینکوں میں کام کر چکا ہوں۔ وہ سب اپنی خامیوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو کروڑوں ڈالر جرمانہ ادا کر چکے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کارکردگی کے اعتبار سے اتنا برا نہیں جتنا کہ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ برا ہے۔ مجھے بے چارے کیون بروئر پر ترس آ رہا ہے۔ اس نے تو یہ دِکھانے کی کوشش کی تھی کہ معاملات کس قدر خراب ہیں اور اسی کو مجرم قرار دے دیا گیا!‘‘
منی لانڈرنگ کے حوالے سے بنائے گئے قوانین و ضوابط بھی اس مسئلے کا حصہ ہیں۔ اگر کوئی وکیل یا اکاؤنٹنٹ کمپنی بنائے تو بائیس محکمے اس کا جائزہ لیں گے۔ ان بائیس محکموں کی کارکردگی کا جائزہ نیا بنایا جانے والا محکمہ ’’آفس فار پروفیشنل باڈی اینٹی منی لانڈرنگ سپرویژن‘‘ (او پی بی اے ایس) لیتا ہے۔ ’’آفس فار پروفیشنل باڈی اینٹی منی لانڈرنگ سپرویژن‘‘ (او پی بی اے ایس) ’’فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی‘‘ (ایف سی اے) کا حصہ ہے۔ جہاں تک کمپنیاں قائم کرنے میں مدد دینے والے کیون بروئر جیسے ایجنٹوں کا تعلق ہے تو ان کے کام کی نگرانی الگ سے کی جاتی ہے حالاں کہ وہ بالکل ویسا ہی کام کر رہے ہیں۔وہ ایچ ایم آر سی کو اپنے کاموں کی رپورٹ دیتے ہیں، جو کسی بھی وزارت کے تحت نہیں۔ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کوئی کمپنی قائم کرتا ہے تو اس دوران اس کمپنی کی جانچ پڑتال منی لانڈرنگ روکنے والے قوانین و ضوابط کے تحت نہیں کی جاتی۔ محکمۂ موسمیات، این سی اے اور کیبنٹ آفس میں خدمات انجام دینے والے جان بینٹن پچھلے سال ہی ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ کرپشن اور مالیاتی جرائم کی تفتیش کیا کرتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ خفیہ معلومات ایک دوسرے تک پہنچانا تو الگ بات ان محکموں میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرنے تک کا سوفٹ ویئر موجود نہیں۔ انھوں نے میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اب میں نجی شعبے میں کام کر رہا ہوں اور مالیاتی اداروں کے زیرِ استعمال تجزیہ کار سوفٹ ویئرز کی طاقت دیکھ رہا ہوں۔ یہ ادارے قانون نافذ کرنے والے سرکاری اداروں سے کئی عشرے آگے ہیں۔ ہم برٹش ورجن آئی لینڈ میں ہونے والے مالیاتی جرائم پر تنقید کرتے ہیں حالاں کہ یہ جرائم تو ہمارے ملک میں ہی بڑے پیمانے پر کیے جا رہے ہیں۔‘‘ مارچ میں ارکانِ پارلیمان نے پابندیوں اور اینٹی منی لانڈرنگ مسودۂ قانون پر بحث کی۔شیڈو وزیرِ خزانہ لیبر پارٹی کے انیلیز ڈوڈس نے اس میں دو ترامیم تجویز کیں جو کیون بروئر، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، یو کے، گلوبل وٹنیس، گراہم بیرو، جان بینٹن اور ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کی کارکردگی کا جائزہ لینے والے ہر شخص کے دریافت کردہ مسائل کو حل کریں گی۔ ایک ترمیم کے تحت ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کے ضوابط میں منی لانڈرنگ کے خلاف ضوابط شامل کیے جائیں گے جب کہ دوسری ترمیم کے تحت ایسے لوگوں کے برطانیہ میں کمپنیاں قائم کرنے پر امتناع عائد کر دیا جائے گا ، جن پر برطانوی ضوابط لاگو نہیں ہوتے۔ شیڈو وزیرِ خزانہ لیبر پارٹی کے انیلیز ڈوڈس نے پبلک بل کمیٹی کو بتایا، ’’بے شمار کمپنیاں کسی جانچ پڑتال کے بغیر قائم کی جا چکی ہیں۔ پچھلے سال 251,628کمپنیوں کا اندراج جانچ پڑتال کے بغیر کروایا گیا۔ ہماری تجویز کو بوجھ قرار دیا جا رہا ہے حالاں کہ یہ ہمارے ووٹروں کو فراڈیوں کے ہاتھوں لٹنے سے بچنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ فراڈیے دن یا رات کسی بھی وقت آزادانہ یہاں آکر ہمارے شہریوں کو لوٹ کر فرار ہو سکتے ہیں اور ان کی کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنے والے ہمارے لوگ مشکل میں پھنسے پیچھے رہ جاتے ہیں۔‘‘ وزیرِ خزانہ جان گلین نے حکومت کی جانب سے جواب دیا۔ جو سونسن نے 2013ء میں جو دلائل بروئر کو دیے تھے، انھوں نے وہی دلائل دہرائے یعنی یہ کہ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ صرف معلومات جمع کرنے والا محکمہ ہے۔ وہ اس اختیار کا حامل نہیں کہ پیش کی جانے والی معلومات کی جانچ پڑتال کروا سکے۔ انھوں نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ یہ قانونی کمپنیوں کے ساتھ انصاف نہیں ہو گا کہ وہ بینک اکاوٌنٹ کھلواتے وقت اپنی شناخت کی پڑتال کروانے کے بعد ایک بار پھر اسی عمل سے گزریں۔انھوں نے کہا، ’’اتنی زیادہ کمپنیوں کی جانچ پڑتال کروانے پر وسائل بھی بہت زیادہ خرچ ہوں گے۔ اس کام کے لیے ہر سال کروڑوں پونڈادا کرنے کا بوجھ برطانیہ کی معیشت پر پڑ جائے گا۔‘‘
مسودۂ قانون میں لیبر پارٹی کی تجویز کردہ تبدیلیوں پر آنے والے خرچ کا حساب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، یو کے نے بھی لگایا تھا۔ اس کے اندازے کے مطابق جتنا خرچ حکومت بتا رہی تھی، اس سے کہیں کم خرچ آئے گا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، یو کے نے حساب لگایا کہ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ نئی کمپنی کا اندراج کروانے کی فیس میں صرف 5 پونڈ سے 10پونڈ تک کا اضافہ کر کے اصلاح کا خرچ پورا کر سکتا ہے۔ اس طرح برطانیہ میں نئی کمپنی قائم کرنے کا خرچ 20پونڈ کے لگ بھگ ہو جائے گا، جو عالمی معیارات سے ہنوز سستا ہو گا۔ برٹش ورجن آئی لینڈز میں کمپنی خریدنا اس سے 50گنا زیادہ مہنگا ہے۔ دیوالیہ ہو جانے والی کمپنیوں کے معاملات کا تجربہ رکھنے والی وکیل اور فراڈ ایڈوائزری پینل کی ڈائریکٹر فرانسس کولسن برطانوی شہریوں کو مالیاتی جرائم سے بچانے کے مقصد سے سرگرمِ عمل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 100پونڈ بھی خرچ آ جائے تب بھی فائدہ ہی ہو گا۔انھوں نے کہا، ’’یہ ایک سوراخ ہے جس کے ذریعے لوگ غیر قانونی پیسے کو قانونی بنا سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس خامی کو دور کرنا کاروباری افراد کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنے گا۔ ان کے لیے 100پونڈ کی بھلا کیا حیثیت؟ جب کہ ریاست کو تو اس پر کچھ بھی خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔ رجسٹرار کے ہاں ایسی ہزاروں کمپنیاں ہیں جنھوں نے بکواس معلومات درج کروا رکھی ہیں۔ ہمیں اکثر ان سے واسطہ پڑتا ہے۔ وہ معلومات بکواس کے سوا کچھ نہیں ہوتیں۔ پس سوال یہ ہے کہ یہ کس قسم کے کاروبار کی راہ میں رکاوٹ ڈالے گی؟ کیا ہم فراڈیوں کو کھلی چھوٹ دینا چاہتے ہیں؟ یہ قانونی کاروبار کے لیے رکاوٹ نہیں بنے گی کیوں کہ انھیں بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے ایسی ہی جانچ پڑتال کروانا پڑتی ہے۔‘‘ ڈوڈس نے کہا کہ ان کے خیال میں حکومت سمجھ ہی نہیں سکی کہ یہ کتنا بڑا مسئلہ ہے۔درمیانی ایجنٹوں کے ذریعے کھولی جانے والی کمپنیوں کے مقابلے میں ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ میں براہِ راست کھولی جانے والی کمپنیوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا تناسب 50فی صد ہو چکا ہے۔ اگر تمام نئی کمپنیوں میں سے آدھی کے مالکان کی معلومات غیر مصدقہ ہو تو اس سے پورے محکمے کی دیانت داری پر شک ہو جاتا ہے۔ ہمیں مطلقاً تیقن کرنا چاہیے کہ لندن یا پوٹرس بار یا گلاسگو ’’ڈرٹی منی‘‘ کو ’’دھونے‘‘ (غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ دولت کو قانونی بنانے) کے مقامات نہیں ہیں کیوں کہ یہ غریبوں کا پیسہ لوٹنے کا معاملہ ہے اور ہمیں حقیقتاً مجرموں کی مدد نہیں کرنا چاہیے۔ ہوا صرف یہ ہے کہ اس بے چارے کو سزا سنا دی گئی ہے۔ یہ غصہ دلانے والی بات ہے۔ کسی بھی کام کو موزوں طریقے سے انجام دینا اس قدر مہنگا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ 2015ء کے انتخابات کے بعد ونس کیبل اپنے منصب سے محروم ہو گئے تو کیون بروئر نے قدامت پسندوں کی حکومت کو قائل کرنے کی مہم ایک بار پھر شروع کر دی۔ انھوں نے ایسے ارکانِ پارلیمان کو خطوط لکھے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ ان کی بات پر ہمدردانہ توجہ دیں گے۔ اس کے علاوہ انھوں نے وزیروں کو بھی خط لکھ کر قائل کرنے کی کوشش کی کہ منی لانڈرنگ کے خلاف برطانیہ کے ضوابط اتنے کمزور ہیں کہ ان کے حوالے سے انھیں فکر مند ہونا چاہیے۔ انھیں ٹوری (قدامت پسند) ارکانِ پارلیمان کے فری اینٹرپرائز گروپ کے راہ نما جیمز کلیورلی کی طرف سے دوستانہ جواب موصول ہوا جنھوں نے کہا انھیں امید ہے کہ وہ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کی ذمہ دار وزیر لیڈی نیوائل رولف کو قائل کر لیں گے۔ انھوں نے وہی ترکیب آزمانے کا فیصلہ کیا جو ونس کیبل کو متاثر کرنے میں ناکام رہی تھی۔ انھوں نے 17مئی 2016ء کو ایک نئی کمپنی ۔۔۔ کلیورلی کلوگس لمیٹڈ ۔۔۔ قائم کی۔ جیمز کلیورلی اور لیڈی نیوائل رولف اس کے حصص کے مالکان اور ڈائریکٹر تھے۔ ان کے علاوہ ایک اسرائیلی تھا، جو کہ فرضی کردار تھا۔ کیون بروئر نے اس فرضی اسرائیلی شخص کے پتے کی جگہ ایک شاپنگ مال کا پتا درج کروایا تھا۔ کمپنی قائم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ جیمز کلیورلی سے کیون بروئر کی ملاقات بہت خوش گوار تھی لیکن وہ لیڈی نیوائل رولف اور دوسرے وزیروں سے کبھی نہ مل سکے۔ یہ وزیر بھی اپنے لبرل ڈیموکریٹ پیش رووں کی طرح وعدہ خلاف نکلے تھے۔ کیون بروئر نے کہا، ’’کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ مجھے محسوس ہو اجیسے میں سراب کے پیچھے بھاگتا رہا ہوں۔ میں حقیقتاً مایوس ہو چکا تھا۔ میں سوچنے لگا تھا کہ میں اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہوں۔ یہ 2016ء کی بات ہے۔‘‘
وہ تو ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کا پیچھا چھوڑ چکے تھے لیکن ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ دیوالیہ ہونے والی کمپنیوں کے لیے بنائے گئے سرکاری محکمے کا ایک تفتیش کار ان سے تفتیش کرنے پہنچ گیا۔ کیون بروئر نے اسے سارے خطوط دکھائے اور واضح کیا کہ وہ کس طرح ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کو اپنے اقدامات کے بارے میں آگاہ کرتے آئے ہیں اور کمپنی بنانے کے لیے جن لوگوں کے نام استعمال کیے ہیں، انھیں بھی آگاہ کرتے آئے ہیں۔ انھوں نے تفتیش کار کو سمجھایا کہ وہ ایک مسئلے کو سامنے لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں نے غلط ارادے سے کوئی کام نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد میں نے فوراً وہ کمپنیاں بند کر دی تھیں۔ کسی نے نہیں کہا تھا کہ مجھے مجرم قرار دے دیا جائے گا۔ میں نے یہ کام سادگی میں کیے تھے۔ میری نیت صاف تھی۔ میں مکالمہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا کیوں کہ میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ سمجھ نہیں سکے ہیں۔ مجھے جس وزیر کی طرف سے بھی خط ملا، سب لفظ بہ لفظ ایک جیسے تھے۔‘‘ پھر 11دسمبر کو سمن آ گئے۔ انھیں ریڈچ مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہونے کا کہا گیا تھا۔ انھوں نے ایک وکیل سے مشورے کے بعد 15مارچ کو اقرارِجرم کر لیا۔ انھیں جرمانے کے علاوہ مقدمے پر ہونے والے حکومت کے اخراجات بھی اپنی جیب سے ادا کرنا پڑے تھے۔ مقدمے پر ہونے والے ان کے اپنے اخراجات الگ تھے۔ انھیں کُل 22,800پونڈ بھرنا پڑے تھے۔اینٹی کرپشن چیمپیئن قدامت پسند رکنِ پارلیمان جان پینروز کو اس فیصلے پر بہت غصہ آیا تھا۔ انھوں نے لندن میں فرنٹ لائن کلب کے میرے ترتیب دیے ہوئے’’ کلیپٹو سکوپ ایونٹ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’افسوس اتنے بڑے جرم کی نشان دہی کرنے والے شریف انسان کو مجرم قرار دے دیا گیا۔ یہ واحد مقدمہ ہے جو منی لانڈرنگ کے حوالے سے قائم کیا گیا، وہ بھی ایک شریف شہری کے خلاف، جو حکام کی توجہ نظام کی خامیوں کی طرف دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسے اتنی تکلیفیں اٹھانے کا کیا صلہ ملا؟ 22000پونڈ کا خرچ۔ یہ فیصلہ اس امر کا بدیہی ثبوت ہے کہ ہم اس مسئلے پر توجہ نہیں دے رہے کہ غلط معلومات درج کروائی جا رہی ہیں۔ میں خود بھی پچھلے چوبیس گھنٹوں میں یہ معاملہ کئی وزیروں کے سامنے پیش کر چکا ہوں۔‘‘ مجھے یہ معلوم کرنے میں پورا ایک دن لگ گیا کہ کیون بروئر پر مقدمہ چلانے کا اقدام کس نے کروایا تھا۔میں نے بی ای آئی ایس کے وزیر اینڈریو گرفتھس سے بات کی تو انھوں نے مجھے ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ بھیج دیا۔ اس کے عملے نے کہا کہ کیون بروئر پر مقدمہ کرنے کا اقدام ’’نامعلوم‘‘ سرکاری افراد نے کیا تھا۔ کراؤن پراسیکیوشن سروس کے ایک ترجمان نے اپنا ا طمینان چھپائے بغیر بتایا کہ اِس محکمے کا اس مقدمے میں کوئی کردار نہیں۔ آخرِ کار دیوالیہ ہو جانے والی کمپنیوں کے معاملات طے کرنے والے محکمے سے پتا چلا کہ ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ نے فائل انھیں بھیجی تھی۔محکمے کے ترجمان نے مجھے بتایا، ’’ہمارے محکمے کے پراسیکیوٹر نے فائل پڑھ کر نتیجہ اخذ کیا کہ کوڈ فار کراؤن پراسیکیوٹرز کے مطابق مقدمہ قائم کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں اور یہ کہ ایسا کرنا عوام کے مفاد میں ہو گا۔‘‘
کوڈ فار کراؤن پراسیکیوٹرز اٹھارہ صفحات پر مشتمل دستاویز ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کسی کو عدالت میں لے جانے سے پہلے کن کن باتوں پر غور کرنا چاہیے۔ اس میں مختلف مراحل بیان کیے گئے ہیں اور کیون بروئر کا معاملہ ثبوت والے مرحلے سے گزر چکا تھا کیوں کہ انھوں نے یا تو خود ہی تمام ثبوت پیش کر دیے تھے یا ’’کمپنیز ہاؤس‘‘ کی فائلوں میں مہیا کر دیے تھے۔ بہرحال عوامی مفاد والا مرحلہ زیادہ دل چسپ تھا۔ اس میں لکھا گیا تھا کہ ’’جرم کا نشانہ بننے والے حالات‘‘ کو زیرِ غور لایا جائے۔ سوال یہ تھا کہ کیون بروئر کے جرم کا نشانہ کون تھا؟ کیا لیڈی نیوائل رولف ان کے جرم کا نشانہ تھیں؟ وہ کیون بروئر سے کبھی نہیں ملی تھیں اور انھیں اس حقیقت کا ادراک نہیں ہوا تھا کہ یہ جرم تو لگتا ہے لیکن حقیقت میں نظام کی خامی واضح کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ کیا کلیورلی اس جرم کا نشانہ تھے؟ بہرحال وہ کیون بروئر سے ملاقات کر چکے تھے اور وہ شاید ان کی حسِ مزاح کو سمجھ چکے تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ انھیں تو کیون بروئر پر مقدمہ چلانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آئی۔ ونس کیبل نے، جو اَب لبرل ڈیموکریٹوں کے راہ نما تھے، ایک بیان میں کہا کہ ان کا خیال ہے یہ ضرورت سے زیادہ ردِ عمل ہے۔انھوں نے کہا، ’’سِوِل سروینٹ مجھے محفوظ رکھنے کا اپنا فرض ادا کر رہے تھے کیوں کہ انھیں خدشہ تھا کہ یہ فراڈ نہ ہو۔ بہر حال معاملات پر ایک بار پھر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ یہ اقدام سخت تھا اور انھوں نے اس حقیقت کا ادراک نہیں کیا تھا کہ کیون بروئر نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انھیں جرمانہ واپس کر دینا چاہیے۔‘‘

(بشکریہ دی گارڈین؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

انتہائی ہلاکت انگیز عالم گیر وبا کا خطرہ


مصنف: مِشیلا ٹِنڈرا

’’نئے جراثیم مسلسل پیدا ہو رہے ہیں جب کہ ہماری دنیا فضائی سفر کے ذریعے جڑی ہوئی ہے، اس لیے کسی بڑے حیاتیاتی دہشت گرد حملے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری زندگیوں کے دوران کسی بھی وقت کوئی ہمہ گیر اور انتہائی ہلاکت انگیز عالم گیر وبا پھوٹ پڑنے کا بھی خاصا امکان ہے۔‘‘ خوف طاری کر دینے والے ان امکانات و خدشات کا اظہار بل گیٹس نے بوسٹن میں منعقدہ ’’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘‘ کے ’’شٹک لیکچر‘‘ کے سلسلے کے تحت اپنے لیکچر میں کِیا۔ بل گیٹس حفظانِ صحت کے مستقبل کے حوالے سے امید پرست انسان ہیں لیکن کسی عالم گیر وبا کے پھوٹ پڑنے کا خدشہ انھیں ہمیشہ متفکر و مضطرب رکھتا ہے۔ ’’سپینش فلو‘‘ کا پھوٹ پڑنا صرف سو (100) سال پہلے ہی کا واقعہ ہے۔ اس وبا میں صرف چند ہفتوں ہی میں چھ لاکھ پچہتر ہزار (675,000) امریکی فلو کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ فلو یا انفلوئنزا سانس کی ایک بیماری ہے۔ اس کا وائرس ناک اور منہ کے راستے انسان کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ انفلوئنزا یا فلو کی عام نشانیوں میں بخار، ناک بہنا، گلے کا دُکھنا، پٹھوں میں درد، کھانسی اور تھکن محسوس ہونا شامل ہیں۔بیماری کی یہ نشانیاں وائرس جسم میں داخل کے ہونے کے دو دن بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔ عام فلو/ انفلوئنزا تقریباً ایک ہفتہ برقرار رہتا ہے۔ کھانسی تقریباً دو ہفتے رہ سکتی ہے جب کہ بچوں کو متلی اور قے بھی ہو سکتی ہے۔ ’’سپنیش فلو‘‘ نامی وبا کے دوران ایک سال میں پوری دنیا میں پانچ کروڑ انسان ہلاک ہو گئے تھے۔ اپنے لیکچر کے دوران بل گیٹس نے ’’انسٹی ٹیوٹ فار ڈیزیز ماڈلنگ‘‘ کا کمپیوٹر پرکیا گیا ایک تجربہ بھی سامعین کو دکھایا۔ اس تجربے کے مطابق اگر ہوا کے ذریعے پھیل جانے والے فلو کے جراثیم اس سال پھیل جائیں تو چھ مہینوں کے اندر اندر تقریباً تین کروڑ تیس لاکھ انسان اس بیماری سے ہلاک ہو جائیں گے۔
بل گیٹس نے کہا، ’’ہالی وُڈ کی سنسنی خیز فلمیں دیکھتے ہوئے آپ سوچیں گے کہ دنیا ہلاکت انگیز جراثیم سے عوام کو محفوظ رکھنے کے معاملے میں بہت اچھی ہے لیکن حقیقی دنیا میں عمومی بیماریوں سے تحفظ اور ان کے علاج کا ہمارا نظام بڑی وبائیں پھوٹ پڑنے کی صورت میں کسی کام نہیں آ سکے گا۔ خاص طور سے غریب ملکوں کا عوام کی صحت کے تحفظ کا نظام کسی وبا کے پھوٹ پڑنے کی صورت میں بالکل کام نہیں آ سکے گا۔ حتیٰ کہ امریکا جیسے دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک میں بھی کسی بڑے حیاتیاتی دہشت گرد حملے یا کسی بڑی وبا کے پھوٹ پڑنے کی صورت میں حفظانِ صحت کا ہماراموجودہ ناکافی ثابت ہو گا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ اس امکانی المیے سے بچنے کے لیے مربوط عالم گیر کوششیں کرنا ضروری ہے۔ضروری ہے کہ دنیا وبا کا سراغ جلد لگانے کا نظام، اس سے نمٹنے کے ذرائع اور اس پر قابو پانے کا نظام تشکیل دے۔ انھوں نے بتایا کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کئی منصوبوں پر کام پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے۔ فلو کی ویکسین تیار کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ فلو کی امکانی عالم گیر وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے فلو کی ویکسین چند ہفتوں میں تیار کرنے کی استعداد پیدا کرنے کے لیے پچھلے سال ’’کولیشن فار ایپی ڈیمک پری پیئرڈنیس اِنّوویشنز‘‘ کا آغاز کیا گیا، جس کے لیے مخیر افراد نے چھ کروڑ تیس لاکھ ڈالر کے عطیات دینے کے وعدے کیے۔ بروڈ انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، برکلے فلو کی جلد تشخیص کے لیے کرِسپر (سی آر آئی ایس پی آر)ٹیکنولوجی استعمال کرتے ہوئے ایک تشخیصی ٹیسٹ ایجاد کرنے پر کام کر رہے ہیں (کرِسپر ٹیکنولوجی کے ذریعے کسی بھی خلیے میں موجود جینیاتی مواد میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے)۔ اس کے علاوہ یہ جاننے کے لیے کہ وبا کے شکار انسان زِیکا وائرس سے متاثرہ ہیں یا ڈینگی وائرس سے ، یہ دونوں ادارے کاغذ کی ایک چھوٹی سی پٹّی کے ذریعے تشخیصی ٹیسٹ ایجاد کرنے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں، جیسے کہ حمل کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ مارچ میں امریکا کی مقننہ (کانگریس) نے ٹرمپ حکومت کو ہدایت کی کہ صحت کی عالمی سلامتی کو مضبوط تر بنانے کے لیے منصوبہ سازی کی جائے۔ اپنے لیکچر میں بل گیٹس نے کہا، ’’دنیا کو عالم گیر وبا سے نمٹنے کے لیے اُسی طرح تیاریاں کرنا چاہئیں جیسے کوئی فوج جنگ لڑنے کے لیے تیاریاں کرتی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ تربیت یافتہ طبی عملے اور رضاکاروں پر مشتمل ایک ریزرو دستہ تیار کیا جائے جو کسی عالم گیر وبا کے پھوٹ پڑنے کی صورت میں چند لمحوں کے اندر اندر اس سے مقابلے کے لیے میدان میں نکل سکتا ہو۔ انھوں نے امریکا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ادویات کی تیاری اور تحقیق کے لیے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے نیز ادویات ساز کمپنیوں کی تیار کردہ ادویات کو جائزہ بھی لیا جائے۔
انھوں نے اپنے لیکچر کے دوران اعلان کیا کہ گوگل کے بانی لیری پیج اور بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے فلو کی عالم گیر وبا سے نمٹنے کے لیے ایسی ویکسین ایجاد کرنے کے مقابلے کا اعلان کیا ہے جو ہر قسم کے فلو کے لیے کارآمد ہو۔ سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی کی غرض سے اس مقابلے کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن پہلے ہی ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزیزِز‘‘ جیسی دوسری تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزیزِز‘‘ نے فلو کی ایک ویکسین بنائی ہے جو انسانوں پر آزمائے جانے کے مرحلے میں ہے۔ بل گیٹس نے کہا، ’’جیسا کہ میں نے اپنے لیکچر کے آغاز میں کہا تھا، میں ایک امید پرست انسان ہوں۔ مجھے امید ہے کہ ہم اگلی بڑی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔‘‘ بل گیٹس نے اپنے لیکچر کے دوران بتایا کہ انھوں نے ورلڈ بینک کی 1993ء کی ایک رپورٹ پڑھی تھی جس سے انھیں عالمی سطح پر صحت کے تحفظ کے لیے اپنی دولت کا بڑا حصہ عطیہ کرنے کی تحریک ملی تھی۔ انھوں نے سامعین کو بتایا کہ اُس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ترقی پذیر ملکوں میں صرف چند بیماریاں بہت زیادہ اموات کی وجہ ہیں۔انھوں نے کہا، ’’رپورٹ پڑھتے ہی میرے ذہن میں پہلا خیال یہ آیا کہ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے ایسی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ادویات اور دوسری چیزیں ایجاد نہیں کیں۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ اچھی ادویات وغیرہ موجود ہیں لیکن ان کی مذکورہ ملکوں میں دست یابی ممکن بنانے کا نظام ناقص ہے، جسے درست کیا جانا ضروری ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے جانا کہ ترقی پذیر دنیا میں حفظانِ صحت کا ایسا نظام موجود نہیں جس کے ذریعے اینٹی بایوٹک ادویات اور ویکسین عوام تک پہنچائی جا سکیں۔ اس الم ناک حقیقت سے آگاہ ہوتے ہی بل گیٹس اور ان کی بیوی ملنڈا گیٹس نے اپنی دولت کا بہت بڑا حصہ انسانی صحت کے تحفظ کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے ایسی عام بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے تحقیق کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ کیا جن کے لیے اُس وقت کم مالی وسائل مہیا کیے جا رہے تھے۔ اُن میں ملیریا جیسی بیماریاں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ترقی پذیر ملکوں کے بچوں کے لیے نیوموکوکل ویکسین اور روٹا وائرس ویکسین فراہم کرنے کے لیے عطیات دینے کا فیصلہ کیا۔ 1990ء کے عشرے سے دیے جانے والے ان کے عطیات کا نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں 1990ء میں ترقی پذیر ملکوں میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے ایک کروڑ تیس لاکھ بچے موت کے شکار ہو جاتے تھے، وہاں 2016ء میں ایسی اموات کی تعداد گھٹ کر پچاس لاکھ رہ گئی۔اس حوالے سے انھوں نے کہا، ’’ہم چاہتے تھے کہ ہم صرف اس صورت میں اپنی کمائی کا بہت بڑا حصہ وقف کریں، جب اس کا نتیجہ بھی بڑے اعداد کی صورت میں سامنے آئے۔‘‘ محولہ بالا اعدادوشمار سے پتا چلا کہ ہوا بھی ایسا ہی
بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا قیام 2000ء میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت سے یہ تنظیم ملیریا، پولیو، ایچ آئی وی اور تپِ دق جیسے عوام کی صحت کو لاحق انتہائی خطرناک بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کی کوششوں کے نتیجے میں ان بیماریوں کے خلاف نوعِ انسان کو اپنی جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ صرف 2012ء میں دنیا کے بیس کروڑ ستّر لاکھ انسان ملیریا کے شکار ہوئے تھے جن میں چھ لاکھ انسان ہلاک ہو گئے تھے۔ اس خوف ناک بیماری کو مٹانے کی غرض سے اپریل 2018ء میں لندن میں منعقدہ ’’ملیریا سمٹ‘‘ میں بل گیٹس نے ایک ارب ڈالردینے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے وہ اسی کارِ خیر کے لیے دو ارب ڈالر وقف کر چکے ہیں۔ ان کے حالیہ وقف کردہ ایک ارب ڈالر 2023ء تک ملیریا کو مٹانے کی غرض سے مہیا کیے جائیں گے۔ اس سے پہلے بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے ایڈز، تپِ دق اور ملیریا کا مقابلہ کرنے کے لیے چھ کروڑ ڈالر وقف کیے تھے۔ 2017ء سے 2019ء تک ان بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی غرض سے بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے مزید ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر وقف کیے۔ ایک وقت تھا کہ پولیو ہر سال دنیا کے ایک سو پچیس ملکوں کے تین لاکھ پچاس ہزار بچوں کو معذور کر دیا کرتا تھا۔ 2016ء میں پوری دنیا میں صرف چالیس بچے پولیو کے شکار ہوئے تھے۔ 2020ء تک پولیو کو دنیا سے مٹانے کے لیے بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے پچھلے سال چار کروڑ پچاس لاکھ ڈالر وقف کرنے کا اعلان کیا۔ ذیلی صحارائی افریقی ملکوں میں بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی مالی مدد سے کیے جانے والے کئی سال پر محیط ایک بڑے تجربے کی رپورٹ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے اپریل 2018ء کے شمارے میں شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر فراہم کی جانے والی اینٹی بایوٹک دوا ازتھرومائیسن کے استعمال کے نتیجے میں ایک ماہ سے پانچ سال تک کے بچوں کی اموات کی شرح میں 13.5فی صد کمی واقع ہوئی۔ ازتھرومائیسن دنیا بھر میں تجویز کی جاتی ہے اور یہ بیکٹیریا کی وجہ سے لاحق ہونے والی آنکھوں کی ایک بیماری کے علاج کے لیے خصوصاً استعمال کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ کے حوالے سے بل گیٹس نے اپنے لیکچر میں کہا، ’’یہ ایک نہایت مسرت بخش خبر ہے۔ میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس رپورٹ کا مطالعہ کریں۔‘‘ اقوامِ متحدہ کو ان نتائج کی روشنی میں اپنے اُس ہدف کو پانے میں مدد مل سکتی ہے جس کے تحت اسے 2030ء تک دنیا بھر کے بچوں کو ایسی بیماریوں سے مرنے سے بچانا ہے جن کا علاج ممکن ہے۔ مذکورہ تحقیق میں شریک سائنس دانوں نے کہا ہے کہ یہ بات ٹھیک ٹھیک جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ اس دوا نے کس طرح بچوں کو موت سے بچایا۔

(بشکریہ فوربز؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

Wednesday, May 16, 2018

وہ کون سے معاملات ہیں جو چین کے صدر کوشب بھر بیدار رکھتے ہیں


مصنف: کرِس بکلی

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک اور دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی کے راہنما کی حیثیت سے چین کے صدر شی جِن پِنگ کے لیے بہت سے معاملات فکر مندی کا سبب ہیں۔ ایک نئی کتاب ان معاملات پر روشنی ڈالتی ہے جو امکاناً انھیں راتوں میں جگائے رکھتے ہیں۔ ’’قومی سلامتی‘‘ کے بارے میں چین کے صدر شی جِن پِنگ کے خیالات پر مبنی 272صفحات کی کتاب میں ان کے وہ تبصرے بھی شامل ہیں جو اس سے پہلے شائع نہیں ہوئے اور جو اُن کو تحریک دینے والے عوامل کی کمیونسٹ پارٹی کے پروپیگنڈے کی نسبت زیادہ واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے بیانات کا انتخاب ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنولوجی کی دوڑ جیتنا: چین اور امریکا کے مابین حالیہ تجارتی تنازعے نے ٹیکنولوجی کے میدان میں چین کے خود انحصار بننے کے شدید اشتیاق کی طرف توجہ دلائی۔ زیرِ نظر کتاب سے عیاں ہوتا ہے کہ حالیہ تنازعے سے بہت پہلے ہی صدر شی جِن پِنگ تہیہ کر چکے تھے کہ چین کو اپنے مائیکرو چپس، آپریٹنگ سسٹمز اور دوسری بنیادی ٹیکنولوجیوں میں ماہرِ کامل بنانا ہے۔ دو تقریروں میں ۔۔۔ جولائی 2013ء اور اگست 2013ء میں ۔۔۔ صدر شی جِن پِنگ نے واضح اور غیر مبہم انداز میں کہا تھا کہ مغرب کو ٹیکنولوجی کی وجہ سے دنیا پر غلبہ حاصل ہوا تھا۔ ’’ایڈوانسڈ ٹیکنولوجی جدید ریاست کا سب سے کارگر ہتھیار ہے۔ جدید زمانے میں مغربی ملکوں کے دنیاپر غالب آنے کا ایک اہم سبب یہ تھا کہ ان کے پاس ایڈوانسڈ ٹیکنولوجی تھی۔ آپ بنیادی نوعیت کی حقیقی ٹیکنولوجیاں خرید نہیں سکتے۔ یہ درست کہا جاتا ہے کہ ’کسی ریاست کے سب سے کارگر ہتھیار کو سب کے سامنے نہیں لانا چاہیے۔‘ ہماری ٹیکنولوجی ترقی یافتہ ملکوں کی ٹیکنولوجی سے پیچھے ہے اور ہمیں فوائد کے حصول کے لیے ان ملکوں سے آگے نکلنے کے لیے غیر معمولی حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔‘‘
انٹرنیٹ کا استعمال: انٹرنیٹ کے متعارف کروائے جانے کے وقت سے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے راہنما اسے تخریب اور جاسوسی کے لیے استعمال کیے جانے کے بارے میں فکر مند ہیں۔ صدر شی جِن پِنگ نے اگست 2013ء میں پروپیگنڈا کے موضوع پر تقریر کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سی آئی اے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے امریکا کی نگرانی کرنے کی جو اہلیتیں افشا کی ہیں، ان کے بارے میں انھیں تشویش ہے۔ ’’رائے عامہ پر قابو پانے کی کش مکش میں انٹرنیٹ سب سے بڑا میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ بعض ساتھیوں نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ ’سب سے بڑا تغیر‘ ہے جس کا ہمیں سامنا ہے اور اگر ہم اس سے درست انداز سے نبرد آزما نہیں ہوں گے تو یہ ’ہمارے ذہنوں پر مسلط عذاب بن جائے گا۔‘ چین مخالف مغربی طاقتیں ’چین کو چِت کرنے کے لیے‘ انٹرنیٹ کو مستقلاً استعمال کر رہی ہیں مگر وہ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہی ہیں۔ برسوں پہلے بعض مغربی سیاست دانوں نے اعلان کیا تھا کہ ’انٹرنیٹ کی صورت میں ہمیں چین سے نبرد آزما ہونے کا وسیلہ دست یاب ہو گیا ہے‘ اور ’سوشلسٹ ملک خود بخود مغرب کے سامنے سپر انداز ہو جائیں گے۔‘ امریکا کے تناظر سے دیکھا جائے تو ’ایکس کی سکور‘ اور نگرانی کے دوسرے پروگرام، نگرانی کی اہلیتیں اور اس حوالے سے انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کا دائرہ ہر کسی کی سوچ سے بھی زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ ہم انٹرنیٹ پر جاری یہ جنگ جیتتے ہیں یا نہیں، اس کا براہِ راست اثر ہمارے ملک کی نظریاتی اور سیاسی سلامتی پر پڑے گا۔‘‘
فوجی برتری کی دوڑ: چین اپنی فوج کو بہتر بنانے پر بھاری رقوم خرچ کر رہا ہے۔ دسمبر 2014ء میں صدر شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں چین کے فوجی افسروں کو خبردار کیا کہ خدشہ ہے امریکا ٹیکنولوجی کے میدان میں ان پر سبقت پا سکتا ہے۔ ’’ایک نیا ٹیکنولوجیکل اور صنعتی انقلاب برپا ہو رہا ہے، فوجی معاملات میں برپا ہونے والے عالم گیر انقلاب کی رفتار تیز ہوتی جا رہی ہے اور بین الاقوامی فوجی مقابلے کے انداز میں تاریخی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ امریکافوجی معاملات میں برپا ہونے والے اس انقلاب کا قائد ہے۔ بہت سے شعبے ایسے ہیں جن میں اس نے سب سے پہلے اقدامات کیے ہیں اور وہ فوجی ٹیکنولوجیوں میں بھی نئے فوائد حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ امریکا عالمی سطح پر تیزی سے حملہ کرنے کی اہلیتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور اس کے بعض جدید ہتھیار تیکینکی اعتبار سے زمان و مکاں کی حدود توڑ چکے ہیں۔ انھیں حقیقی جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا تو وہ حملے اور دفاع کے روایتی طریقوں کو بنیادی اعتبار سے کاملاً تبدیل کر دیں گے۔‘‘
چھپے ہوئے مالیاتی خطرے: چین کی قیادت بڑھتے ہوئے قرض سے پیدا ہونے والے مالیاتی خطروں کو ختم کرنے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ فعال ہوتی جا رہی ہے اور صدر شی جِن پِنگ نے دسمبر 2016ء میں اپنی ایک تقریر میں جن خیالات کا اظہار کیا، ان سے پتا چلتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ ’’اس وقت مالیاتی خطرے انتہائی سنگین اور کثیر ہیں۔ اگرچہ ایسے مالیاتی خطرے عمومی طور سے قابو میں ہیں، جو سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام کا حصہ ہیں لیکن غیرفعال اثاثے، لیکوئڈٹی، بانڈ ڈیفالٹس، شیڈو بینکس، خارجی دھچکے، پراپرٹی ببل، حکومتی قرض اور انٹرنیٹ فنانسنگ کی وجہ سے خطروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ فنانشل مارکیٹس میں بھی افراتفری ہے۔ بعض مالیاتی خطرے طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ وہ مرض کے منڈلاتے ہوئے سرچشمے ہیں جو بہت گہرائی میں چھپے ہوئے ہیں اور اچانک پھٹ سکتے ہیں۔ امریکا کا قرض کا بحران ایک ہی رات میں پھٹ پڑا تھا۔ اگر ہمیں مستقبل میں کسی بڑی مشکل کا سامنا ہوا تو وہ اسی شعبے میں رونما ہو گی۔ چناں چہ ہمیں اس شعبے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘
آلودگی کے حوالے سے بے چینی: صدر شی جِن پِنگ سموگ، مٹی کے زہر آلود ہونے اور دوسری آلودگیوں کے خلاف چین کی حکومت کی کوششوں میں تیزی لا چکے ہیں۔ مئی 2013ء میں انھوں نے اپنی تقریر میں اس موضوع پر جن خیالات کا اظہار کیا تھا، ان سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ عوام کے غصے اور احتجاجوں کے حوالے سے کس قدر فکر مند ہیں، جنھیں چینی حکام ’’عوامی واقعات‘‘ کہتے ہیں۔ ’’عوام ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے انتہائی پریشان ہے اور عوام کی خوشی کے اشاریوں میں ماحولیاتی مسائل کا درجہ زیادہ سے زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ جب معیشت اور معاشرہ ترقی کرتے ہیں اور لوگوں کے معیاراتِ زندگی اونچے ہوتے ہیں تو ماحولیاتی مسائل عوام میں بے چینی پیدا ہونے کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں اور اگر ان سے درست انداز میں نمٹا نہیں جائے تو ان کی وجہ سے اکثر اوقات عوامی واقعات رونما ہوتے ہیں۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛ انتخاب: دنیا ریسرچ سیل؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2018-05-16&edition=LHR&id=3912531_39273449

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...