ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس
دل سن کے ایک نام دھڑکتا ضرور ہے
یہ بہت مشہور شعر ہے۔ یقیناً آپ نے بھی کبھی نہ کبھی اسے پڑھا یا سنا ہو گا۔
یہ مقبول شعر اردو کے معروف شاعر ساقی فاروقی کا ہے۔
ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس
دل سن کے ایک نام دھڑکتا ضرور ہے
یہ بہت مشہور شعر ہے۔ یقیناً آپ نے بھی کبھی نہ کبھی اسے پڑھا یا سنا ہو گا۔
یہ مقبول شعر اردو کے معروف شاعر ساقی فاروقی کا ہے۔
بغیر اُس کے اب آرام بھی نہیں آتا
وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا
اُسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئے
وہ ماہ رُخ جو لبِ بام بھی نہیں آتا
کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے پر
جدھر حبابِ تہی جام بھی نہیں آتا
چُرا کے خواب وہ آنکھوں کو رہن رکھتا ہے
اور اُس کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا
نفسیات، نیورو سائنس اور معاصر ابلاغی سائنس اور دوسرے بہت سارے پرانے اور نئے علوم کی جو کتابیں، تحقیقی مضامین، ویڈیو لیکچر، سائنسی ویڈیو وغیرہ نیٹ پر بِلا معاوضہ ملتی ہیں، انھیں پڑھ، سن اور دیکھ کر یہ سمجھا ہے کہ جس طرح اشتہارات اور خریداری پر مائل کرنے والے دوسرے مواد سے دنیا بھر کے لوگوں کے ذہنوں کو ایسی چیزیں خریدنے پر بھی تیار کر لیا گیا ہے جن کی انھیں بالکل ضرورت نہیں، اسی طرح آج کل دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں کے شہریوں سمیت سب کے ذہن، ذہنیت، سوچنے کا انداز، یقین اور رویے سب کچھ انتہائی کارگر سائنسی طریقوں اور ٹیکنولوجیوں سے بدل کر نئے سانچوں میں ڈھالا جا رہا ہے۔
حتیٰ کہ ہزاروں سال سے چلے آنے والے یقین اور رویے تک بدلے جا رہے ہیں۔
روشن اور امید افزا رُخ:
آنے والے سال پوری دنیا میں نوجوانوں کے لیے انتہائی شان دار مواقع لے کر آ رہے ہیں۔
افسوس ہم بڑی عمر کے لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ہمارے بچوں کا مستقبل ہماری نوجوانی کے زمانے سے بالکل مختلف ہو گا۔
ہدیۂ ناچیز:
مہربان دوستو آپ کا ناچیز دوست وسائل بالکل نہ ہونے کے باوجود حقیقت میں دن رات معاصر مفکّرین، سائنس دانوں، سماجی سائنس کے ماہرین، تازہ ترین ناولوں، شاعری، مصوری، موسیقی اور بہت کچھ بامعنی مواد پڑھ، سن اور دیکھ کر ان سب کا حاصل/ نچوڑ آپ کی خدمت میں کامل اخلاص و محبت کے ساتھ پیش کر رہا ہے تاکہ ذہین دوست مستقبل کے شان دار مواقع سے مستفیض ہو سکیں۔
ناچیز ناقابلِ تصور ذاتی مسائل میں پھنسا دیے جانے کے باوجود کوشش کرتا ہے کہ لایعنی چیزیں پوسٹ یا شیئر کر کے اپنا اور دوستوں کا وقت ضائع نہ کرے۔ مجھے یقین ہے کہ دیانت دار و ایثار کیش دوست یہ حقیقت مانیں گے اور زہریلے حاسدوں کے لا انتہا شر سے زندہ در گور اپنے ناچیز دوست کو دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔
اللہ آپ سب پر رحمت فرمائے، آمین۔
اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں
دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس
برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو
شامِ الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا
راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو
پھرتے ہیں مثلِ موجِ ہوا شہر شہر میں
آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو
آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لُٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
شاعر: منیر نیازی
گوتم کا آخری وعظ
مَيں دُکھ اُٹھا کر
مِرے عزيزو! مَيں دکھ اٹھا کر
حيات کی رمزِ آخريں کو سمجھ گيا ہوں: تمام دکھ ہے
وجود دکھ ہے، وجود کی يہ نمود دکھ ہے
حيات دکھ ہے، مَمَات دکھ ہے
يہ ساری موہوم و بے نشاں کائنات دکھ ہے
شعور کيا ہے ؟ اک اِلتِزامِ وجود ہے، اور وجود کا التزام دکھ ہے
جدائی تو خير آپ دکھ ہے، مِلاپ دکھ ہے
کہ ملنے والے جدائی کی رات ميں ملے ہيں، يہ رات دکھ ہے
يہ زندہ رہنے کا، باقی رہنے کا شوق، يہ اہتمام دکھ ہے
سکوت دکھ ہے، کہ اس کے کربِ عظيم کو کون سہہ سکا ہے
کلام دکھ ہے، کہ کون دنيا ميں کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے
يہ ہونا دکھ ہے، نہ ہونا دکھ ہے، ثبات دکھ ہے، دوام دکھ ہے
مِرے عزيزو! تمام دکھ ہے!
مِرے عزيزو! تمام دکھ ہے!
شاعر: اسلم انصاری، مُلتان
دُکھ سُکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا
اِک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا
دادا حیات تھے جب، مٹّی کا ایک گھر تھا
چوروں کا کوئی کھٹکا نہ ڈاکووں کا ڈر تھا
کھاتے تھے رُوکھی سُوکھی، سوتے تھے نیند گہری
شامیں بھری بھری تھیں، آباد تھی دوپہری
سنتوش تھا دلوں کو، ماتھے پہ بل نہیں تھا
دل میں کَپَٹ نہیں تھا، آنکھوں میں چَھل نہیں تھا
تھے لوگ بھولے بھالے لیکن تھے پیار والے
دنیا سے کتنی جلدی سب ہو گئے روانہ
دکھ سکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا
اک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا
اَبّا کا وقت آیا، تعلیم گھر میں آئی
تعلیم ساتھ اپنے تازہ وِچار لائی
آگے روایتوں سے بڑھنے کا دھیان آیا
مٹی کا گھر ہٹا تو پَکّا مکان آیا
دفتر کی نوکری تھی تنخواہ کا سہارا
مالک پہ تھا بھروسا، ہو جاتا تھا گزارا
پَیسا اگرچہ کم تھا، پھر بھی نہ کوئی غم تھا
کَیسا بھرا پُرا تھا اپنا غریب خانہ
دکھ سکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا
اک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا
اب میرا دور ہے یہ، کوئی نہیں کسی کا
ہر آدمی اکیلا، ہر چہرہ اجنبی سا
آنسو نہ مسکراہٹ، جِیون کا حال ایسا
اپنی خبر نہیں ہے مایا کا جال ایسا
پَیسا ہے مرتبہ ہے، عزت وقار بھی ہے
نوکر ہیں اور چاکر، بنگلہ ہے کار بھی ہے
زر پاس ہے زمیں ہے لیکن سُکُوں نہیں ہے
پانے کے واسطے کچھ کیا کیا پڑا گنوانا
دکھ سکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا
اک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا
اَے آنے والی نسلو، اے آنے والے لوگو
بھوگا ہے ہم نے جو کچھ وہ تم کبھی نہ بھوگو
جو دکھ تھا ساتھ اپنے تم سے قریب نہ ہو
پِیڑا جو ہم نے جھیلی تم کو نصیب نہ ہو
جس طرح بھیڑ میں ہم زندہ رہے اکیلے
وہ زندگی کی محفل تم سے نہ کوئی لے لے
تم جس طرف سے گزرو میلہ ہو روشنی کا
راس آئے تم کو موسم اکیسویں صدی کا
ہم تو سُکُوں کو ترسے تم پر سُکُون برسے
آنند ہو دلوں میں، جیون لگے سہانا
شاعر: ظفر گورکھپوری
راہ بَر لُوٹ نہ لیں مجھ کو اکیلا پا کر
رہ زَنو دُور نہ جاؤ مجھے ڈر لگتا ہے
شاعر: قتیل شفائی
اکیسویں صدی کا پہلا ربع ختم ہونے کے آخری برس ہیں۔ یہ نئی دنیا ہے۔ ہم نوعِ انسان کی بڑی ہی خوش نصیب نسل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نئی دنیا میں جی رہے ہیں۔
بہتر ہے کہ اب ہم اردو والے زمانۂ حاضر کا ۔۔۔۔ آج اور اب کا ۔۔۔۔ ادب پڑھیں۔ جو لوگ افسانوں، ناولوں اور شاعری کے علاوہ نان فکشن پڑھ سکتے ہیں وہ آج کا نان فکشن پڑھیں۔
اس طرح ہم اردو والے اپنے آپ کو، اپنے بچوں کو اور معاشرے کو آج کا اپنا آپ، آج کے بچے اور آج کا معاشرہ بنانے میں اپنا کردار مثبت اورتعمیری انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
ہم لوگ تِرے شہر میں خُوش بُو کی طرح ہیں
محسوس تو ہوتے ہیں دِکھائی نہیں دیتے
یہ معروف شعر تسنیم کوثر کا ہے۔
تنہائی میری سب سے اچھی دوست ہے
میرے ساتھ ہنستی ہے
میرے ساتھ روتی ہے
میں بھوکا ہوتا ہوں تو یہ بھی کھانا نہیں کھاتی
مجھے نیند نہ آئے
تو یہ بھی رات آنکھوں میں کاٹتی ہے
تنہائی میری سب سے اچھی دوست ہے
یہ زود رنج نہیں ہے
گفتگو میں مجھ پہ حاوی ہونے کی کوشش نہیں کرتی
کوئی بات پوچھوں تو سچ بولتی ہے
چھوٹی چھوٹی مالی منفعتوں کے لیے
مجھے چھوڑ کر دوسروں سے ناتا نہیں جوڑتی
میرے ساتھ اچھے وقت کا انتظار کرتی ہے
میرے ساتھ دکھ جھیلتی ہے
تنہائی میری سب سے اچھی دوست ہے
شاعر: طارق ہاشمی
اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہم سائے کے آنگن میں بھی سایا جائے
یہ بھی ممکن ہے بتا دے وہ کوئی کام کی بات
اک نجومی کو چلو ہاتھ دکھایا جائے
دیکھنا یہ ہے کہ کون آتا ہے سایا بن کر
دھوپ میں بیٹھ کے لوگوں کو بلایا جائے
یا مری زیست کے آثار نمایاں کر دے
یا بتا دے کہ تجھے کیسے بھلایا جائے
اس کے احسان سے انکار نہیں ہے لیکن
نقش پانی پہ ظفرؔ کیسے بنایا جائے
اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...