Showing posts with label New World. Show all posts
Showing posts with label New World. Show all posts

Thursday, December 3, 2020

پرانی نسل، نئی نسل، مستقبل کے شان دار مواقع

 نفسیات، نیورو سائنس اور معاصر ابلاغی سائنس اور دوسرے بہت سارے پرانے اور نئے علوم کی جو کتابیں، تحقیقی مضامین، ویڈیو لیکچر، سائنسی ویڈیو وغیرہ نیٹ پر بِلا معاوضہ ملتی ہیں، انھیں پڑھ، سن اور دیکھ کر یہ سمجھا ہے کہ جس طرح اشتہارات اور خریداری پر مائل کرنے والے دوسرے مواد سے دنیا بھر کے لوگوں کے ذہنوں کو ایسی چیزیں خریدنے پر بھی تیار کر لیا گیا ہے جن کی انھیں بالکل ضرورت نہیں، اسی طرح آج کل دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں کے شہریوں سمیت سب کے ذہن، ذہنیت، سوچنے کا انداز، یقین اور رویے سب کچھ انتہائی کارگر سائنسی طریقوں اور ٹیکنولوجیوں سے بدل کر نئے سانچوں میں ڈھالا جا رہا ہے۔ 


حتیٰ کہ ہزاروں سال سے چلے آنے والے یقین اور رویے تک بدلے جا رہے ہیں۔


روشن اور امید افزا رُخ:

آنے والے سال پوری دنیا میں نوجوانوں کے لیے انتہائی شان دار مواقع لے کر آ رہے ہیں۔


افسوس ہم بڑی عمر کے لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ہمارے بچوں کا مستقبل ہماری نوجوانی کے زمانے سے بالکل مختلف ہو گا۔


ہدیۂ ناچیز:

مہربان دوستو آپ کا ناچیز دوست وسائل بالکل نہ ہونے کے باوجود حقیقت میں دن رات معاصر مفکّرین، سائنس دانوں، سماجی سائنس کے ماہرین، تازہ ترین ناولوں، شاعری، مصوری، موسیقی اور بہت کچھ بامعنی مواد پڑھ، سن اور دیکھ کر ان سب کا حاصل/ نچوڑ آپ کی خدمت میں کامل اخلاص و محبت کے ساتھ پیش کر رہا ہے تاکہ ذہین دوست مستقبل کے شان دار مواقع سے مستفیض ہو سکیں۔


ناچیز ناقابلِ تصور ذاتی مسائل میں پھنسا دیے جانے کے باوجود کوشش کرتا ہے کہ لایعنی چیزیں پوسٹ یا شیئر کر کے اپنا اور دوستوں کا وقت ضائع نہ کرے۔ مجھے یقین ہے کہ دیانت دار و ایثار کیش دوست یہ حقیقت مانیں گے اور زہریلے حاسدوں کے لا انتہا شر سے زندہ در گور اپنے ناچیز دوست کو دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔


اللہ آپ سب پر رحمت فرمائے، آمین۔

Saturday, July 13, 2019

نئی دنیا میں اپنے بچوں کو انسانی کچرا بننے سے کیسے بچا سکتے ہیں

دوستو "نئی دنیا" کمپیوٹر سائنس کی دنیا ہو گی۔

نئی دنیا میں ان لوگوں کو جاہل مانا جائے گا اور انھیں کوئی جاب نہیں ملے گی جنھوں نے آج کل دی جانے والی تعلیم حاصل کر رکھی ہو گی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ نئی دنیا میں ہم جیسے سارے لوگ تو فضول یعنی "انسانی کچرا" ہی ہوں گے البتہ ہم اپنے بچوں کو نئی دنیا میں انسانی کچرا بننے سے بچا سکتے ہیں۔

اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کمپیوٹر سائنس کی تعلیم و تربیت دلائیں۔ اس طرح ہمارے بچے نئی دنیا میں انسانی کچرا بننے سے بچ سکیں گے۔

Tuesday, March 5, 2019

ناقابلِ تصور تنخواہیں لینے والے کالم نویسو، اینکرو اور ایڈیٹرو! جینوئن، قابل اور محنتی و دیانت دار صحافیوں کا حق مارنے پر خدا کے عذاب سے ڈرتے کیوں نہیں ہو؟

اردو، انگریزی کا ہر کالم جہل، مغالطوں، جھوٹ وغیرہ کا بد ترین آمیزہ ہوتا ہے۔

آج ایک معروف ترین کالم نویس اینکر کا کالم پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔

میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور "نئی دنیا" میں تو میڈیا پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

ایک ویب سائٹ کے مطابق اس کالم نویس اینکر کی ماہانہ تنخواہ اٹھائیس لاکھ روپے ہے۔ اس ویب سائٹ پر دس اینکروں کی ماہانہ تنخواہ بتائی گئی ہے۔ خدا جانے یہ سچ ہے یا گپ۔

بہرحال یہ حقیقت ہے کہ بعض اینکروں، کالم نویسوں (اور ایڈیٹروں) کو ان کی اہلیت اور مارکیٹ ویلیو سے انتہائی زیادہ تنخواہ دی جا رہی ہے (مراعات الگ ہیں جب کہ وہ معاشرے کے طاقت ور ترین افراد بھی بن چکے ہیں)۔

کالم کا عنوان ہے "عزّت کے متلاشی بھکاری".

کالم نویس نے اپنے مخصوص چونکا دینے والے اسلوب میں او آئی سی، ایک پڑوسی مگر دشمن ملک، اپنے وطن پاکستان اور موجودہ وزیرِ اعظم کے بارے میں لکھتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے وہ یقیناً بے شمار پڑھنے والوں کو پسند آئے گا لیکن یہ کالم ثبوت ہے کہ ملیئنز آف رُپیز تنخواہ لینے والے یہ محترم کالم نویس اینکر بھی سارے کالم نویس اینکروں اور ایڈیٹروں کی طرح چالاک تو حد سے زیادہ ہیں لیکن کالم نویس اینکر بننے کے لیے لازمی اہلیت سے بالکل ہی محروم ہیں۔

خدا جانے کب میڈیا ایسے جعلی کالم نویسوں، اینکروں اور ایڈیٹروں کے پنجوں سے نجات پائے گا۔

جو اِن جعلی کالم نویسوں، اینکروں اور ایڈیٹروں کی سرپرستی کرتے اور ان سے کام لیتے ہیں، انھیں بھی سوچنا چاہیے کہ اگر وہ اہل لوگوں کو کالم نویس اور اینکر بناتے اور انھیں ملیئنز نہ سہی محض ضروریاتِ زندگی کے مطابق تنخواہ دیتے تو ان کا کام ہزاروں گنا زیادہ بہتر انداز سے انجام پاتا اور ہزاروں گنا بہتر نتائج حاصل ہوتے۔

مانا کہ "انفارمیش وار" کے اِس زمانے میں شور مچانے والی چالاک مگر اجہل کٹھ پتلیاں ضروری ہوتی ہیں لیکن میڈیا، (نیز پبلشنگ بزنس اور تعلیمی اداروں) میں باعلم، اہل اور جینوئن لوگوں کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ عالمی میڈیا حتیٰ کہ تھنک ٹینک تک اس کی مثال ہیں جہاں انفارمیشن کے نام پر بے معنی تحریریں اور کچرا پھیلانے والے سرگرم ہیں لیکن باعلم اور جینوئن لوگ بھی موجود ہیں جو فلسفہ، سائنس، ادب و شاعری اور دوسرے علوم کی کتابیں پڑھتے ہیں اور حاصل شدہ علم و شعور اپنے کالموں اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعے عوام تک پہنچا کر قومی خدمت انجام دیتے ہیں۔

Friday, February 8, 2019

فیس بک، ای بُکس اور دل چسپ رجحانات

میں نے ایک دل چسپ چیز دیکھی کہ فیس بک پر کتابیں اَپ لوڈ کرنے والے گروپوں میں انگریزی کتابیں مانگنے والے اکثر لوگ نثری کتابیں مانگتے ہیں.

اس سے بھی دل چسپ بات یہ دیکھی کہ فِکشن بُکس یعنی افسانوں، ناولوں اور ڈراموں وغیرہ کی کتابیں جتنی مانگی جاتی ہیں ان سے زیادہ نان فِکشن بُکس یعنی فلسفہ، سائنس، تصوف و روحانیت، سیاست، معاشیات، #عمرانیات وغیرہ کی کتابیں مانگی جاتی ہیں۔

سب سے دل چسپ بات یہ دیکھی کہ انگریزی کتابیں مانگنے والے لوگ شاعری کی کتابیں بہت کم مانگتے ہیں۔

میں ناچیز اس رجحان کو بہت اچھا رجحان مانتا ہوں کہ لوگ انگریزی کی سنجیدہ کتابیں مانگتے ہیں۔

اگر مجھ سمیت سب لوگ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر یہ کتابیں پڑھ بھی لیں تو "نئی #لدنیا" بنائے جانے کے اس زمانے میں ہم اپنے اپنے حلقے میں locally بہت مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں جس سے آگے چل کر پورے معاشرے پر مثبت اثر پڑے گا۔

Friday, December 14, 2018

ہم اکیسویں صدی کے اردو والے کیا پڑھیں؟

اکیسویں صدی کا پہلا ربع ختم ہونے کے آخری برس ہیں۔ یہ نئی دنیا ہے۔ ہم نوعِ انسان کی بڑی ہی خوش نصیب نسل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نئی دنیا میں جی رہے ہیں۔

بہتر ہے کہ اب ہم اردو والے زمانۂ حاضر کا ۔۔۔۔ آج اور اب کا ۔۔۔۔ ادب پڑھیں۔ جو لوگ افسانوں، ناولوں اور شاعری کے علاوہ نان فکشن پڑھ سکتے ہیں وہ آج کا نان فکشن پڑھیں۔

اس طرح ہم اردو والے اپنے آپ کو، اپنے بچوں کو اور معاشرے کو آج کا اپنا آپ، آج کے بچے اور آج کا معاشرہ بنانے میں اپنا کردار مثبت اورتعمیری انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...