Showing posts with label Imran Khan. Show all posts
Showing posts with label Imran Khan. Show all posts

Friday, February 15, 2019

پاکستان کی بربادی اور عوام کے مسائل و مصائب کی واحد وجہ اور عمران خان

ہمارے ملک کے ترقی نہ کرنے اور خاص طور سے عوام کو درپیش سارے بدترین مسائل و مصائب کی صرف ایک وجہ ہے۔

حکومت کے ہر بہترین منصوبے اور کروڑوں اربوں روپے سالانہ بجٹ والے ہر بہترین محکمے کی ناکامی کی وہ واحد وجہ یہ ہے کہ ہر سرکاری محکمے کی اعلیٰ ترین پوسٹوں سے لے کر ادنیٰ ترین پوسٹوں تک غیر محبِ وطن، منفی ذہن والے، کام چور اور ہڈ حرام لوگوں نے "قبضہ" کیا ہوا ہے۔

اگر تحریکِ انصاف ۔۔۔۔ پی ٹی آئی ۔۔۔ کی حکومت اور وزیرِ اعظم عمران خان صاحب ملک کے حالات بہتر بنانے اور تبدیلی لانے کے لیے سنجیدہ ہیں تو صرف ایک کام کریں۔ وہ یہ کہ ہر سرکاری محکمے کے غیر محبِ وطن، منفی ذہن والے، کام چور اور ہڈ حرام افسروں اور ماتحتوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کر کے انھیں ان کے قومی جرائم کی عبرت ناک سزائیں دی جائیں اور ان کی جگہ محبِ وطن، مثبت ذہن والے، محنتی اور دیانت دار و باضمیر افسروں اور ماتحتوں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان صاحب نے صرف یہ ایک کام کر لیا تو ان کا نام پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جائے گا۔

پاکستان کا کوئی بھی نام نہاد دانشور، دسیوں لاکھ روپے تنخواہ اور ہوش رُبا مراعات لُوٹنے والے اینکر، کالم نویس، پروفیسر وغیرہ یہ آسان حل کبھی نہیں بتائیں گے۔

اس کا ایک سبب یہ ہے کہ جب یہ لوگ مطالعہ اور غور و فکر کیے بغیر ہی کروڑوں روپے اپنے تجوریوں میں بھر چکے ہیں اور معاشرے میں ناقابلِ تصور طاقت حاصل کر چکے ہیں تو انھیں کیا ضرورت پڑی کہ مطالعہ اور غور و فکر کریں؟

دوسرا اہم سبب یہ ہے کہ نام نہاد دانشور، دسیوں لاکھ روپے تنخواہ اور ہوش رُبا مراعات لُوٹنے والے اینکر، کالم نویس، پروفیسر وغیرہ خود انتہائی کام چور، ہڈ حرام اور منفی ذہن والے ہیں۔

Saturday, December 1, 2018

گھریلو روزگار: وزیرِ اعظم عمران خان صاحب کی تقریر کا مذاق اڑانے والے

میں حیران ہوں اپنے ہم وطنوں کی "عقل مندی" پر.

ہر شہر، ہر گاؤں کی ہر گلی میں سیورِج کے گندے پانی، کچرے نے ہر گھر کو کھربوں جراثیم سے بھر دیا ہے،  ملاوٹ والی کھانے پینے کی چیزوں اور جعلی دوائیوں نے کروڑوں پاکستانیوں کو ہلاکت خیز بیماروں میں مبتلا کیا ہوا ہے، میڈیکل سٹور، لیبارٹریاں اور کلینک گلی گلی کھل رہے ہیں مگر اکثر لوگ صحت سے محروم ہیں۔

اس قیامت جیسی صورتِ حال میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو اِن مسائل بلکہ عذابوں پر فکر مندی کا اظہار کرتا ہو اور ان سے نجات پانے کے لیے لکھتا، بولتا ہو۔

کتنے عجیب لوگ ہیں جنھوں نے ساری زندگی ان عذابوں پر ایک لفظ نہیں لکھا، بولا اور وزیرِ اعظم عمران خان صاحب کی گھریلو روزگار کی بہترین تجویز کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

کتنے عجیب لوگ ہیں!

ہمارے ملک کے 90 فی صد سے زیادہ شہری ایسے ہی چھوٹے  چھوٹے کام کر کے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

جو وگ آج خوش حال، امیر اور بہت امیر ہیں ان میں سے بھی بہت سے لوگوں کے ماں باپ نے غربت میں یا غربت کی لکیر سے نیچے چھعوٹے چھوٹے کام کر کے زندگی بسر کی۔

بہت سے پاکستانی دولت مندوں کی تو اپنی ابتدائی زندگی غربت میں یا غربت کی لکیر سے نیچے چھوٹے چھوٹے کاموں سے گزر بسر کرتے گزری ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان صاحب کی تجویز کا ایک زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ مغرب اور دنیا کے دوسرے برِاعظموں کے ترقی یافتہ ملک اب آرگینک یعنی دیسی غذائی اشیا استعمال کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ چناں چہ پاکستان کے متوسط اور امیر طبقوں کے لوگ بھی دیسی غذائی اشیا میں سرمایہ کاری کریں تو ان اشیا کو ایکسپورٹ کر کے لاکھوں نہیں بلکہ ملینز آف ڈالرز کما سکتے ہیں۔

یہ بات ہمیں سب کو بتانا چاہیے۔ میں تو بہت سال سے اپنے دوستوں کو دیسی غذائی اشیا کے شعبے میں سرمایہ کاری کا مشورہ دے رہا ہوں۔

Monday, November 26, 2018

کیا یہ واقعی یونی ورسٹی کی سطح کے طالبِ علم ہیں؟

لاہور کی ایک بڑی اور بہت معروف پرائیویٹ یونی ورسٹی پاکستان کے موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان صاحب کے اپنی والدہ مرحومہ کی یاد میں قائم کردہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے نزدیک واقع ہے۔
اس یونی ورسٹی میں ہمارے معاشرے کے ہر سماجی و معاشی طبقے کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پڑھ رہی ہیں۔ واضح بات ہے کہ دوسری یونی ورسٹیوں کے کامیاب طلبا سمیت ان طلبا میں سے بہت سارے نوجوان لڑکے لڑکیاں عملی زندگی میں سرکاری اور نجی شعبے میں کام کرتے ہوئے مستقبل کے پاکستان کو سنوارنے ۔۔۔۔۔ یا مزید برباد کرنے ۔۔۔۔۔ میں اپنے کردار ادا کریں گے۔
میں پَوزِیٹِو سوچنے اور برے سے برے شخص سے بھی اچھی توقع رکھنے والا انسان ہوں۔ ان طلبا سے بھی اچھی توقع رکھتا ہوں لیکن جس اہم ترین ایشو پر یہ نوجوان سٹوڈینٹس توجہ نہیں دے رہے،  آپ بھی اگلے پیراگراف میں اس ایشو کے بارے میں پڑھنے کے بعد تائید کریں گے کہ یہ ان کے مستقبل کے عملی کردار کے بارے میں سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔
وہ اہم ترہن ایشو یہ ہے کہ اِن نوجوان لڑکے، لڑکیوں کی یونی ورسٹی کے بالکل سامنے اور ارد گرد انتہائی گندگی ہے۔ یونی ورسٹی کی سطح کے یہ لڑکے لڑکیاں گندگی پر ذرا بھی فکر مند نہیں۔ یہ سب جراثیم سے بھرے سیوریج کے کیچڑ نما پانی میں سے روزانہ گزرتے ہیں۔
یہ سٹوڈینٹس جن ہوٹلوں میں کھانا کھاتے، جن روڈ سائیڈ یعنی فٹ پاتھوں پر بنائے گئے چائے خانوں میں چائے پیتے، جن برگر اور چپس کی شاپس اور ٹھیلوں سے برگر اور چپس کھاتے اور جن پان، سگریٹ، جوس کی شاپس سے پان، سگریٹ، جوس لے کر کھاتے پیتے ہیں وہ انتہائی گندی ہیں اور آپ سب جانتے ہیں کہ جس جگہ گندگی ہو وہ جگہ کھربوں ہلاکت خیز جراثیم سے بھری ہوتی ہے۔
لاہور بلکہ ملک کی بڑی پرائیویٹ یونی ورسٹیوں میں سے ایک معروف پرائیویٹ یونی ورسٹی میں پڑھنے والے یہ لڑکے، لڑکیاں جن پرائیویٹ ہوسٹلوں یا ہوسٹل نما عمارتوں میں رہتے ہیں وہ بھی انھی گندگی سے بھری گلیوں میں واقع ہیں۔ ان عمارتوں/ ہوسٹلوں کے اندرونی حصے اور سارے کمرے بھی گندگی یعنی کھربوں ہلاکت خیز جراثیم سے اٹے ہوئے ہیں۔
اب آپ ہی بتائیے جن لڑکوں، لڑکیوں کو یونی ورسٹی میں پہنچ کر بھی اور سامنے واقع شوکت خانم کینسر ہسپتال کے انتہائی درد ناک حالت والے مریض (بچے، بوڑھے، جوان مریض) دیکھ کر بھی ہلاکت خیز جراثیم والے ماحول، کھانوں، چائے، برگر، چپس، جوس، پان، سگریٹ وغیرہ سے گِھن نہ آئے اور وہ موت پھیلانے والے کھانوں، چائے، برگر، جوس وغیرہ اور رہائشی کمروں سے نجات پانے کے لیے بات تک نہ کریں، معاشرے میں ان کے مستقبل کے عملی کردار سے ہم کیا توقع لگا سکتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟

 یونی ورسٹی کی سطح کے طلبا تو خود بھی اپنی خامیوں کے ذمہ دار ہیں لیکن یہ بڑی افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو گھر میں ذرا بھی تربیت نہیں دے رہے۔

ہمارے ملک کے سرکاری اور پرائیویٹ پرائمری سے ہائر سیکنڈری سکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کی اکثریت نہایت پست ذہنیت، منفی مائنڈ سیٹ اور اخلاق باختہ، مجرمانہ ذہن کے لوگوں کی ہے۔ جو ایسے نہیں ہیں ان میں سے اکثر اساتذہ جانوروں کی طرح ہیں، بے حس ہیں۔ یہ اساتذہ خود بہتر انسان نہیں، سماجی شعور سے عاری ہیں، اس لیے طلبا کو بھی ابتدا ہی سے اخلاق و آداب کی تربیت نہیں ملتی، سماجی شعور نہیں ملتا، آج کل کے معیاراتِ زندگی نہیں سکھائے جاتے۔

میں نے ایسے پرنسپل، پروفیسر اور بیوروکریٹ دیکھے ہیں جنھیں کھانے تک کی تمیز نہیں، گفت گو اور نشست و #رخاست کا سلیقہ نہیں۔

بڑی الم ناک صورتِ حال ہے۔

پاکستانی معاشرے کا بنیادی مسئلہ سیاسی نہیں اخلاقی ہے، تہذیبی ہے۔

Saturday, September 8, 2018

وزیرِ اعظم عمران خان کی تازہ تقریر کے حوالے سے مغالطے اور بد گمانی

وزیرِ اعظم عمران خان صاحب کی تازہ تقریر کے حوالے سے مغالطے اور بد گمانی  پھیلانے والوں کی پوسٹس پڑھ کر افسوس ہوا۔
پوری انسانی تاریخ میں عام شہریوں نے ہی اپنے ملک کے عظیم تعمیری منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کیے۔
جدید نیشن سٹیٹس کے وجود میں آنے کے بعد امن اور جنگ، ہنگامی حالات یا معمول کے حالات میں بھی نا صرف پس ماندہ ملکوں بل کہ ترقی یافتہ اور سپر پاور ملکوں میں بھی عوامی عطیات کے ذریعے فنڈز کی کمی کا مسئلہ حل کیا گیا۔
اس وقت بھی جب کہ امریکا اور یورپ دنیا کا پرانا نظام ختم کر کے نیا نظام قائم کر رہے ہیں تو دنیا کے بڑے مسائل حل کرنے کے لیے اسی فیس بک کے ایک مالک مارک زکربرگ نے اپنی ساری دولت ایک فاؤنڈیشن بنا کر فلاحی منصوبوں کے لیے وقف کی، بل گیٹس، وارن بوفے، جیف بیزوس وغیرہ بھی اربوں ڈالر  ۔۔۔۔۔ کھرب ہا روپے ۔۔۔۔۔۔ اپنی حکومتوں کی پالیسی کے مطابق مسائل کے حل، تحقیق، ایجادات اور فلاح کے لیے دے چکے ہیں اور مسلسل دے رہے ہیں۔
امریکا کی صدارت کے امیدوار اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کی وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار اپنے اپنے ملک کے دولت مند افراد سے عطیات لیتے ہیں۔
ہم پاکستانی ہمیشہ منفی کیوں سوچتے ہیں؟؟؟؟؟ اگر غور کریں تو ہمارے 50 فی صد سے زیادہ ملکی مسائل اور الجھنیں ہماری اور ہم عوام ہی میں سے سرکاری دفتروں میں افسران و ماتحت کی حیثیت سے ملازمت کرنے والے لوگوں کی منفی سوچ کی پیدا کردہ ہیں، جن کا الزام ہم حکم راں فرد اور پارٹی پر دھر دیتے ہیں۔

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...