Showing posts with label Ghazal. Show all posts
Showing posts with label Ghazal. Show all posts

Saturday, December 5, 2020

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

بغیر اُس کے اب آرام بھی نہیں آتا 


وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا 


اُسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئے 


وہ ماہ رُخ جو لبِ بام بھی نہیں آتا 


کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام 


مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا 


بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے پر 


جدھر حبابِ تہی جام بھی نہیں آتا 


چُرا کے خواب وہ آنکھوں کو رہن رکھتا ہے 


اور اُس کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا  

Thursday, November 28, 2019

شکستہ حال سا، بے آسرا سا لگتا ہے

شکستہ حال سا، بے آسرا سا لگتا ہے

یہ شہر دل سے زیادہ دُکھا سا لگتا ہے

ہر اک کے ساتھ کوئی واقعہ سا لگتا ہے

جسے بھی دیکھو وہ کھویا ہوا سا لگتا ہے

زمین ہے سو وہ اپنی ہی گردشوں میں کہیں

جو چاند ہے سو وہ ٹُوٹا ہوا سا لگتا ہے

مِرے وطن پہ اترتے ہوئے اندھیروں کو

جو تم کہو، مجھے قہرِ خدا سا لگتا ہے

یہ رات کھا گئی ایک ایک کر کے سارے چراغ

جو رہ گیا ہے، وہ بجھتا ہُوا سا لگتا ہے

دعا کرو کہ میں اس کے لیے دعا ہو جاؤں

وہ ایک شخص جو دل کو دعا سا لگتا ہے


تو دل میں بجھنے سی لگتی ہے کائنات تمام

کبھی کبھی جو مجھے تُو بُجھا سا لگتا ہے

جو آ رہی ہے صدا، غور سے سنو اُس کو

کہ اس صدا میں خدا بولتا سا لگتا ہے

ابھی خرید لیں دنیا کہاں کی منہگی ہے

مگر ضمیر کا سودا بُرا سا لگتا ہے

یہ موت ہے یا کوئی آخری وصال کے بعد

عجب سکون میں سویا ہوا سا لگتا ہے

ہوائے رنگِ دو عالم میں جاگتی ہوئی لَے

علیم ہی کہیں نغمہ سرا سا لگتا ہے

شاعر: عبید اللہ علیم

اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں

دوستو


یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد

تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو


لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس

برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو


شامِ الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا

راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو


پھرتے ہیں مثلِ  موجِ ہوا شہر شہر میں

آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو


آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لُٹی محفلوں کی دھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو


شاعر: منیر نیازی

Saturday, August 25, 2018

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

جس کا ہم سائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

یہ بھی ممکن ہے بتا دے وہ کوئی کام کی بات

اک نجومی کو چلو ہاتھ دکھایا جائے

دیکھنا یہ ہے کہ کون آتا ہے سایا بن کر

دھوپ میں بیٹھ کے لوگوں کو بلایا جائے

یا مری زیست کے آثار نمایاں کر دے

یا بتا دے کہ تجھے کیسے بھلایا جائے

اس کے احسان سے انکار نہیں ہے لیکن

نقش پانی پہ ظفرؔ کیسے بنایا جائے

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...