ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس
دل سن کے ایک نام دھڑکتا ضرور ہے
یہ بہت مشہور شعر ہے۔ یقیناً آپ نے بھی کبھی نہ کبھی اسے پڑھا یا سنا ہو گا۔
یہ مقبول شعر اردو کے معروف شاعر ساقی فاروقی کا ہے۔
ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس
دل سن کے ایک نام دھڑکتا ضرور ہے
یہ بہت مشہور شعر ہے۔ یقیناً آپ نے بھی کبھی نہ کبھی اسے پڑھا یا سنا ہو گا۔
یہ مقبول شعر اردو کے معروف شاعر ساقی فاروقی کا ہے۔
اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں
دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس
برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو
شامِ الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا
راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو
پھرتے ہیں مثلِ موجِ ہوا شہر شہر میں
آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو
آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لُٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
شاعر: منیر نیازی
اُس نے جب چاہنے والوں سے اِطاعت چاہی
ہم نے آداب کہا اور اِجازت چاہی
یونہی بے کار میں کب تک کوئی بیٹھا رہتا
اس کو فُرصت جو نہ تھی ہم نے بھی رُخصت چاہی
شِکوہ ناقَدریِ دُنیا کا کریں کیا کہ ہمیں
کچھ زیادہ ہی ملی جتنی مُحبت چاہی
رات جب جمع تھے دُکھ دِل میں زَمانے بھر کے
آنکھ جَھپکا کے غمِ یار نے خلوت چاہی
ہم جو پامالِ زمانہ ہیں تو حَیرت کیوں ہے
ہم نے آبا کے حوالے سے فَضِیلت چاہی
میں تو لے آیا وہی پیرہنِ چاک اپنا
اُس نے جب خلعت و دستار کی قیمت چاہی
حُسن کا اپنا ہی شیوہ تھا تعلق میں فراز
عشق نے اپنے ہی انداز کی چاہت چاہی
شاعر: احمد فراز
تجھے اب کس لیے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے
جو پتے زرد ہو جائیں وہ پیڑوں پر نہیں رہتے
تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو
وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے
اسے جس دھوپ میں جبری مشقت کھینچ لائی ہے
گھروں سے سائے بھی اس دھوپ میں باہر نہیں رہتے
جھکا دے گا تری گردن کو یہ خیرات کا پتھر
جہاں میں مانگنے والوں کے اونچے سر نہیں رہتے
وہ میرا ہم سفر ہوتا تو اس کو بھی خبر ہوتی
جو گزریں آگ کی بستی سے ان کے پر نہیں رہتے
یقیناً یہ رعایا بادشہ کو قتل کر دے گی
مسلسل جبر سے اسلم دلوں میں ڈر نہیں رہتے
شاعر: اسلم وڑائچ، سرگودھا
سیّد سبطِ علی صبا کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔ ان کا یہ شعر بہت مقبول ہے:
دیوار کیا گِری مِرے کَچُے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رَستے بنا لیے
منتخب اشعار:
جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو
مر گئی فاقہ زدہ معصوم بچی رات کو
جب چلی ٹھنڈی ہَوا بچّہ ٹِھٹَھر کر رہ گیا
ماں نے اپنے لعل کی تختی جلا دی رات کو
حریص آنکھیں شکار کی جستجو میں ہر اک کو گھورتی ہیں
سنبھل کے چلنا غریب جائی، ہَوَس کا کیچڑ جگہ جگہ ہے
جو سُوت کاتنے میں رات بھر رہی مصروف
اسی کو سر کے لیے اوڑھنی نہیں ملتی
تنگ آ کے ہم جو بیچنے نکلے وفا صبا
بازار نے خلوص کے بھاؤ گرا دیے
شہر والوں سے حقارت کے سوا کچھ نہ ملا
زندگی آ تجھے لے جاؤب کسی گاؤ ں میں
لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول
پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے
آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اٹ گئی
دیوار سے لگی تری تصویر پھٹ گئی
سورج کی برچھیوں سے مرا جسم چھد گیا
زخموں کی سولیوں پہ مری رات کٹ گئی
احساس کی کرن سے لہو گرم ہو گیا
سوچوں کے دائروں میں تری یاد بٹ گئی
یہ کہہ کے اس نے شجر کو تنے سے کاٹ دیا
کہ اس درخت میں کچھ ٹہنیاں پرانی ہیں
عجیب سوچ ہے اس شہر کے مکینوں کی
مکاں نئے ہیں مگر کھڑکیاں پرانی ہیں
پلٹ کے گاؤں میں میں اس لیے نہیں آیا
مرے بدن پہ ابھی دھجیاں پرانی ہیں
سفر پسند طبیعت کو خوفِ صحرا کیا
صباؔ ہوا کی وہی سیٹیاں پرانی ہیں
اس شہر میں اب شورِ سگاں کیوں نہیں اٹھتا
آبـاد مکـاں ہیـں تو دھـواں کیـوں نہیں اٹھـتا
جو مصرع اس بلاگ پوسٹ کا عنوان ہے، یہ بہت معروف ہے۔ عموماً اسے میر تقی میر کی تخلیق کہا جاتا ہے۔
حقیقت میں یہ مصرع نواب محمد یار خاں امیر کا ہے۔ پورا شعر یوں ہے:
شکست و فتح میاں اِتّفاق ہے لیکن
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا
پھول پہ آ کے بیٹھی تو خود پر اِترانا بھول گئی
ایسی مست ہوئی وہ تتلی پر پھیلانا بھول گئی
ایسے کھلا وہ پھول سا چہرہ پھیلی سارے گھر خوشبو
خط کو چھپا کر پڑھنے والی راز چھپانا بھول گئی
کلیوں نے ہر بھونرے، تتلی سے پوچھا ہے اس کا نام
بادِ صبا جس پھول کے گھر سے لوٹ کے آنا بھول گئی
اپنے پرانے خط لینے وہ آئی تھی میرے کمرے میں
میز پہ دو تصویریں دیکھیں، خط لے جانا بھول گئی
برسوں بعد ملے تو ایسی پیاس بھری تھی آنکھوں میں
بھول گیا میں بات بنانا وہ شرمانا بھول گئی
ساجن کی یادیں بھی خاور کن لمحوں میں آ جاتی ہیں
گوری آٹا گوندھ رہی تھی نمک ملانا بھول گئی
شاعر: خاور احمد
خزاں کی رُت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے
ہَوا کی زَد پہ دِیا جلانا، جَلا کے رکھنا، کمال یہ ہے
ذرا سی لَغزِش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلُّق زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے
کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچھڑنے کا بھول جائے
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا، کمال یہ ہے
خیال اپنا، مزاج اپنا، پسند اپنی، کمال کیا ہے؟
جو یار چاہے، وہ حال اپنا بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے
کسی کی رہ سے خدا کی خاطر، اٹھا کے کانٹے، ہٹا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا، کمال یہ ہے
وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے، شکست کھائے
لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ہے
ہزارطاقت ہو، سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے
ادب کی لذّت، دعا کی خوش بو، بسا کے رکھنا ، کمال یہ ہے
شاعر: مُبارَک صدیقی
ہم لوگ تِرے شہر میں خُوش بُو کی طرح ہیں
محسوس تو ہوتے ہیں دِکھائی نہیں دیتے
یہ معروف شعر تسنیم کوثر کا ہے۔
اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...