Showing posts with label Urdu Shairi. Show all posts
Showing posts with label Urdu Shairi. Show all posts

Thursday, October 2, 2025

ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس

ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس

دل سن کے ایک نام دھڑکتا ضرور ہے

یہ بہت مشہور شعر ہے۔ یقیناً آپ نے بھی کبھی نہ کبھی اسے پڑھا یا سنا ہو گا۔

یہ مقبول شعر اردو کے معروف شاعر ساقی فاروقی کا ہے۔

Thursday, November 28, 2019

شکستہ حال سا، بے آسرا سا لگتا ہے

شکستہ حال سا، بے آسرا سا لگتا ہے

یہ شہر دل سے زیادہ دُکھا سا لگتا ہے

ہر اک کے ساتھ کوئی واقعہ سا لگتا ہے

جسے بھی دیکھو وہ کھویا ہوا سا لگتا ہے

زمین ہے سو وہ اپنی ہی گردشوں میں کہیں

جو چاند ہے سو وہ ٹُوٹا ہوا سا لگتا ہے

مِرے وطن پہ اترتے ہوئے اندھیروں کو

جو تم کہو، مجھے قہرِ خدا سا لگتا ہے

یہ رات کھا گئی ایک ایک کر کے سارے چراغ

جو رہ گیا ہے، وہ بجھتا ہُوا سا لگتا ہے

دعا کرو کہ میں اس کے لیے دعا ہو جاؤں

وہ ایک شخص جو دل کو دعا سا لگتا ہے


تو دل میں بجھنے سی لگتی ہے کائنات تمام

کبھی کبھی جو مجھے تُو بُجھا سا لگتا ہے

جو آ رہی ہے صدا، غور سے سنو اُس کو

کہ اس صدا میں خدا بولتا سا لگتا ہے

ابھی خرید لیں دنیا کہاں کی منہگی ہے

مگر ضمیر کا سودا بُرا سا لگتا ہے

یہ موت ہے یا کوئی آخری وصال کے بعد

عجب سکون میں سویا ہوا سا لگتا ہے

ہوائے رنگِ دو عالم میں جاگتی ہوئی لَے

علیم ہی کہیں نغمہ سرا سا لگتا ہے

شاعر: عبید اللہ علیم

اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں

دوستو


یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد

تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو


لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس

برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو


شامِ الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا

راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو


پھرتے ہیں مثلِ  موجِ ہوا شہر شہر میں

آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو


آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لُٹی محفلوں کی دھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو


شاعر: منیر نیازی

Thursday, June 20, 2019

اُس نے جب چاہنے والوں سے اِطاعت چاہی

اُس نے جب چاہنے والوں سے اِطاعت چاہی
ہم نے آداب کہا اور اِجازت چاہی

یونہی بے کار میں کب تک کوئی بیٹھا رہتا
اس کو فُرصت جو نہ تھی ہم نے بھی رُخصت چاہی

شِکوہ ناقَدریِ دُنیا کا کریں کیا کہ ہمیں
کچھ زیادہ ہی ملی جتنی مُحبت چاہی

رات جب جمع تھے دُکھ دِل میں زَمانے بھر کے
آنکھ جَھپکا کے غمِ یار نے خلوت چاہی

ہم جو پامالِ زمانہ ہیں تو حَیرت کیوں ہے
ہم نے آبا کے حوالے سے فَضِیلت چاہی

میں تو لے آیا وہی پیرہنِ چاک اپنا
اُس نے جب خلعت و دستار کی قیمت چاہی

حُسن کا اپنا ہی شیوہ تھا تعلق میں فراز
عشق نے اپنے ہی انداز کی چاہت چاہی

شاعر: احمد فراز

Wednesday, May 22, 2019

تجھے اب کس لیے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے

تجھے اب کس لیے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے
جو پتے زرد ہو جائیں وہ پیڑوں پر نہیں رہتے

تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو
وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے

اسے جس دھوپ میں جبری مشقت کھینچ لائی ہے
گھروں سے سائے بھی اس دھوپ میں باہر نہیں رہتے

جھکا دے گا تری گردن کو یہ خیرات کا پتھر
جہاں میں مانگنے والوں کے اونچے سر نہیں رہتے

وہ میرا ہم سفر ہوتا تو اس کو بھی خبر ہوتی
جو گزریں آگ کی بستی سے ان کے پر نہیں رہتے

یقیناً یہ رعایا بادشہ کو قتل کر دے گی
مسلسل جبر سے اسلم دلوں میں ڈر نہیں رہتے

شاعر: اسلم وڑائچ، سرگودھا

Tuesday, May 14, 2019

مر گئی فاقہ زدہ معصوم بچی رات کو

سیّد سبطِ علی صبا کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔ ان کا یہ شعر بہت مقبول ہے:

دیوار کیا گِری مِرے کَچُے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رَستے بنا لیے

منتخب اشعار:

جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو
مر گئی فاقہ زدہ معصوم بچی رات کو

جب چلی ٹھنڈی ہَوا بچّہ ٹِھٹَھر کر رہ گیا
ماں نے اپنے لعل کی تختی جلا دی رات کو

حریص آنکھیں شکار کی جستجو میں ہر اک کو گھورتی ہیں
سنبھل کے چلنا غریب جائی، ہَوَس کا کیچڑ جگہ جگہ ہے

جو سُوت کاتنے میں رات بھر رہی مصروف
اسی کو سر کے لیے اوڑھنی نہیں ملتی

تنگ آ کے ہم جو بیچنے  نکلے وفا صبا
بازار نے خلوص کے بھاؤ گرا دیے

شہر والوں سے حقارت کے سوا کچھ نہ ملا
زندگی آ تجھے لے جاؤب کسی گاؤ ں میں

لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول
پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اٹ گئی
دیوار سے لگی تری تصویر پھٹ گئی

سورج کی برچھیوں سے مرا جسم چھد گیا
زخموں کی سولیوں پہ مری رات کٹ گئی

احساس کی کرن سے لہو گرم ہو گیا
سوچوں کے دائروں میں تری یاد بٹ گئی

یہ کہہ کے اس نے شجر کو تنے سے کاٹ دیا
کہ اس درخت میں کچھ ٹہنیاں پرانی ہیں

عجیب سوچ ہے اس شہر کے مکینوں کی
مکاں نئے ہیں مگر کھڑکیاں پرانی ہیں

پلٹ کے گاؤں میں میں اس لیے نہیں آیا
مرے بدن پہ ابھی دھجیاں پرانی ہیں

سفر پسند طبیعت کو خوفِ صحرا کیا
صباؔ ہوا کی وہی سیٹیاں پرانی ہیں

اس شہر میں اب شورِ سگاں کیوں نہیں اٹھتا
آبـاد مکـاں ہیـں تو دھـواں کیـوں نہیں اٹھـتا

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خُوب کِیا

جو مصرع اس بلاگ پوسٹ کا عنوان ہے، یہ بہت معروف ہے۔ عموماً اسے میر تقی میر کی تخلیق کہا جاتا ہے۔

حقیقت میں یہ مصرع نواب محمد یار خاں امیر کا ہے۔ پورا شعر یوں ہے:

شکست و فتح میاں اِتّفاق ہے لیکن

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

Monday, May 13, 2019

گوری آٹا گوندھ رہی تھی نمک ملانا بھول گئی ۔۔۔۔ مکمل غزل

پھول پہ آ کے بیٹھی تو خود پر اِترانا بھول گئی

ایسی مست ہوئی وہ تتلی پر پھیلانا بھول گئی

ایسے کھلا وہ پھول سا چہرہ پھیلی سارے گھر خوشبو

خط کو چھپا کر پڑھنے والی راز چھپانا بھول گئی

کلیوں نے ہر بھونرے، تتلی سے پوچھا ہے اس کا نام

بادِ صبا جس پھول کے گھر سے لوٹ کے آنا بھول گئی

اپنے پرانے خط لینے وہ آئی تھی میرے کمرے میں

میز پہ دو تصویریں دیکھیں، خط لے جانا بھول گئی

برسوں بعد ملے تو ایسی پیاس بھری تھی آنکھوں میں

بھول گیا میں بات بنانا وہ شرمانا بھول گئی

ساجن کی یادیں بھی خاور کن لمحوں میں آ جاتی ہیں

گوری آٹا گوندھ رہی تھی نمک ملانا بھول گئی

شاعر: خاور احمد

Sunday, November 25, 2018

کمال یہ ہے

خزاں کی رُت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے

ہَوا کی زَد پہ دِیا جلانا، جَلا کے رکھنا، کمال یہ ہے

ذرا سی لَغزِش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلُّق زمانے والے

سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے

کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچھڑنے کا بھول جائے

اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا، کمال یہ ہے

خیال اپنا، مزاج اپنا، پسند اپنی، کمال کیا ہے؟

جو یار چاہے، وہ حال اپنا بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے

کسی کی رہ سے خدا کی خاطر، اٹھا کے کانٹے، ہٹا کے پتھر

پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا، کمال یہ ہے

وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے، شکست کھائے

لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ہے

ہزارطاقت ہو، سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے

ادب کی لذّت، دعا کی خوش بو، بسا کے رکھنا ، کمال یہ ہے

شاعر: مُبارَک صدیقی

Friday, November 23, 2018

ہم لوگ تِرے شہر میں خُوش بُو کی طرح ہیں

ہم لوگ تِرے شہر میں خُوش بُو کی طرح ہیں

محسوس تو ہوتے ہیں دِکھائی نہیں دیتے

یہ معروف شعر تسنیم کوثر کا ہے۔

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...