Showing posts with label Roznama Dunya. Show all posts
Showing posts with label Roznama Dunya. Show all posts

Saturday, May 25, 2019

اپنے آپ کو خود اڑانے والا ہیلی کاپٹر

چین کے سائنس دانوں نے ایک ایسا ہیلی کاپٹر بنایا ہے جو پائلٹ کے بغیر اڑتا ہے یعنی یہ ہیلی کاپٹر "اپنے آپ کو خود اڑاتا" ہے۔

"اپنے آپ کو خود اڑانے والا" یہ ہیلی کاپٹر ماحول دوست بھی ہے اور فوسل فیولز کی بجائے بجلی سے چلتا ہے۔ اس کی بیٹری چار گھنٹے تک کام دیتی ہے۔

یہ ہیلی کاپٹر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے۔

اسے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

آپ کے دوست نے روزنامہ دنیا کے سنڈے میگزین کی جاب کے زمانے میں ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کے بارے میں مضمون ترجمہ کیا تھا۔ یہ اس اہم موضوع پر اردو کے اوّلین مضامین میں سے ایک مضمون تھا۔ افسوس آپ کے دوست کی محنت کی قدر نہیں کی گئی اور جاب چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

Thursday, May 24, 2018

کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم

کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم

مصنف: آرتھر سی بروکس (صدر ’’امریکن اینٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ)

میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتا ہوں۔ یہ نفرت میرے کھیل کے میدان کے برسوں سے نہیں پھوٹی بلکہ اس کی بجائے بیس بائیس سال کی عمر میں ایک پیشہ ورسمفنی آرکسٹرا میں کام کرنے کے میرے تجربے سے پھوٹی ہے۔ آرکسٹرا کے موسیقار جبر، ظلم اور ضرورت سے زیادہ کام لینے کی عادت کے باعث بدنام ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سازندوں کی فن کارانہ زندگی کو مکمل کنٹرول میں رکھنے کی وجہ سے بھی بدنام ہیں۔ وہ اپنی طاقت مستحکم کرنے کی غرض سے سازندوں کو ایک دوسرے کا مخالف بنا دیتے ہیں، ان کی کمزوریوں کی تاک میں رہتے ہیں اور ان کا اعتماد تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔جیسا کہ ہم کہا کرتے ہیں، موسیقار ’’ایول جینیئس‘‘ ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ سارے مجسم شر ہوتے ہیں۔
کئی عشرے گزرنے کے بعد موسیقاروں کے لیے میری رائے تھوڑی نرم ہو گئی ہے لیکن کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں کے متعلق میری رائے پہلے جیسی ہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ لوگوں کی اکثریت بھی کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتی ہے۔ ’’ہوریبل باسز‘‘ اور ’’ریوینج آف دی نرڈز‘‘ جیسی فلموں میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم اپنے مظالم کی سزا پاتے ہیں۔ فلموں کے شائقین کا بڑی تعداد میں یہ فلمیں دیکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جس طرح میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتا ہوں، اسی طرح لوگوں کی اکثریت بھی کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتی ہے۔ کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں کے خلاف عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والوں کی کوششوں پر غور کیجیے۔خاتونِ اوّل یعنی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیوی میلانیا ٹرمپ کی ’’بہترین بنو‘‘ کے نعرے کے تحت شروع کی ہوئی مہم اس سلسلے کی تازہ ترین کوشش ہے۔
چناں چہ یہ ایک اَسرار آمیز امر ہے کہ ایک جمہوری معاشرے میں منڈی کی بنیاد پر استوار مظہر ۔۔۔ یعنی سیاسی مباحثے ۔۔۔ پر اِس وقت انسانی کردار کی اس نفرت انگیز خصوصیت کا غلبہ ہے۔ ٹیلی ویژن سے لے کر سوشل میڈیا اور اعلیٰ ترین سطح کی روزمرہ سیاست تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور لوگ اپنے سے کم تر رتبے کے حامل افراد اور کمزور لوگوں کی تحقیر، تذلیل اور تضحیک کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم موجود ہیں تو انھیں عوامی حلقوں میں شہرت و مقبولیت، توجہ اور حتیٰ کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں انعام و اکرام کیوں ملتا ہے؟ انھیں رد کیوں نہیں کر دیا جاتا؟
اس سوال کے تین جواب اور توضیحات ہیں۔ اوّل، لوگ اخلاقیات کے معاملے میں پسند ناپسند اور جانب داری و تعصب سے کام لیتے ہیں۔ دوسرے فریق کا کمزوروں پر دھونس جمانے والا بزدل ظالم شخص ایک ہولناک شخص ہوتا ہے جب کہ اپنی جانب کا کمزوروں پر دھونس جمانے والا بزدل ظالم شخص ’’سچ بولنے والا‘‘ ہوتا ہے۔ بلا شبہ ہم بعض اوقات اس بیانیے سے بھی ہٹ جاتے ہیں اور یہاں تک کہنے لگتے ہیں کہ ہماری جانب کا کمزوروں پر دھونس جمانے والا بزدل ظالم شخص تو اصل میں مظلوم انسان ہے جو کمزوروں پر دھونس جمانے والا بڑے بزدل ظالموں سے لڑ رہا ہے۔
دوم، صورتِ حال اُلٹ ہے، جو کچھ یوں ہے کہ عوام کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم اشخاص کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ سماجی سائنس داں ژاں لِپ مَین بلومن نے اپنی کتاب ’’دی الیور آف ٹوکسک لیڈرز‘‘ (The Allure of Toxic Leaders) میں دکھایا ہے کہ لوگ سیاسی ڈکٹیٹروں اور جابر منتظمین کے خلاف شکوے شکایت تو کرتے ہیں لیکن تقریباً ہمیشہ ہی ایک غیر یقینی دنیا میں طاقت کی قدیمی پسندیدگی و ستائش اور تحفظ کی ضرورت کے تحت ان کے وفادار رہتے ہیں۔
جہاں تک آرکسٹرا کے جہان کا تعلق ہے تو وہاں وائیولا بجانے والے ایک سازندے کا لطیفہ اکثر سنایا جاتا ہے جسے موسیقار نے برسوں سے گالم گلوچ اور اذیت کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ایک دن وہ ریہرسل کر کے گھر واپس آیا تو دیکھا کہ اس کا گھر جل کر راکھ ہو چکا ہے۔ وہاں موجود پولیس والوں نے اسے بتایا کہ یہ کام اس کے آرکسٹرا کے موسیقار نے کیا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کوئی سوال کرنا چاہتا ہے۔ اس نے لمحہ بھر سوچنے کے بعد نرم لہجے میں پوچھا، ’’کیا استاد جی میرے گھر تشریف لائے تھے؟‘‘
تیسری توضیح سادہ رضامندی ہے۔ 1999ء میں ’’جرنل آف ایڈولسینس‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بڑی معروف ہے۔ یہ تحقیق تین ماہرینِ نفسیات نے اس موضوع پر کی تھی کہ جب بچے کسی بزدل ظالم کو اپنے سے کمزور شخص پر دھونس جماتا دیکھتے ہیں تو وہ کس طرح کا ردِ عمل کرتے ہیں۔
کھیل کے میدان میں کھیلتے کودتے ہزاروں بچوں کی ویڈیوز بنائی گئیں۔ اس دوران کمزوروں پر دھونس جمانے کے 200واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم یہ بات بہت زیادہ پسند کرتے ہیں کہ جب وہ کسی کمزور پر دھونس جما رہے ہوں تو اس دوران ان کے ارد گرد تماشائی موجود ہوں۔ ریکارڈ کیے جانے والے 200واقعات میں سے 100واقعات ایسے تھے جن میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم اور مظلوم کے علاوہ دو یا دو سے زیادہ لوگ موجود تھے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات رونما ہونے کے وقت جو لوگ موجود ہوتے ہیں، وہ کیا کرتے ہیں؟ محولہ 200واقعات میں سے جن 100واقعات میں دوسرے جتنے بھی لوگ موجود تھے ان میں سے 21فی صد نے کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم کا ساتھ دیا تھا جب کہ 25فی صد نے مظلوم کا ساتھ دیا تھا۔ باقی 54فی صد لوگ غیر جانب دار رہے تھے۔ وہ بغیر کوئی ردِ عمل کیے ’’تماشا‘‘ دیکھتے رہے تھے۔ انھوں نے نہ تو کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم کا ساتھ دیا تھا اور نہ ہی مظلوم کی مدد کی تھی۔ جب سیاست کے میدان میں بزدل ظالم سیاست دان کمزوروں پر دھونس جماتے ہیں تو بالغ افراد کا ردِ عمل اُن بچوں سے مختلف نہیں ہوتاجن کی ویڈیوز محولہ تحقیق کے دوران بنائی گئی تھیں۔سیاسی تقریر ہو یا معمول کا مزاح کمزوروں پر دھونس جمانے کے بد ترین واقعے پر بھی بے نیازی سے کندھے جھٹک دیے جاتے ہیں۔
امریکا کے سابق صدر تھیوڈور روزویلٹ نے امن کا نوبل انعام حاصل کرتے وقت جو تقریر کی تھی، اس میں انھوں نے کہا تھا، ’’ہم نجی اور سرکاری زندگی میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں، عادی جھگڑا لو لوگوں اور جابروں سے نفرت اور حقارت کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے اپنی زندگی بخش تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا تھا، ’’لیکن ہم بزدلوں اور عیش و عشرت میں دل چسپی لینے والوں سے بھی کم نفرت نہیں کرتے ۔ اگر کوئی انسان حقوق سے محرومی اور ذلت و خواری کا مقابلہ نہیں کرتا یا ناانصافی کے شکار اپنے پیاروں کی خاطر نہیں لڑتا تو وہ انسان کہلائے جانے کا حق دار نہیں۔‘‘
امریکا کے سابق صدر تھیوڈور روزویلٹ نے یہ بات اجنبیوں کا دفاع کرنے کے بارے میں نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کے (’’اپنے پیاروں‘‘ کے) حق میں کھڑے ہونے کے بارے میں کی تھی۔ بالکل درست لیکن اپنے آپ سے پوچھیے کہ آپ کے حقیقی اتحادی کون کون ہیں؟ اگر کوئی ایسا شخص آپ کا دوست ہو جس سے آپ سیاسی اعتبار سے اتفاق رائے نہیں رکھتے ہوں تو کیا وہ شخص سیاسی اعتبار سے آپ کے ہم خیال کسی مسخرے، سیاست دان یا ٹوئٹر پر دوسروں کو دِق کرنے والے شخص کی نسبت آپ کا زیادہ اتحادی نہیں ہو گا؟ اگر ایسا ہو تو کیا آپ کو اس مرد یا عورت کو کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم سے بچانے کے لیے کھڑا نہیں ہونا چاہیے، خواہ کمزوروں پر دھونس جمانے والا وہ بزدل ظالم شخص سیاسی اعتبار سے آپ کا ہم خیال ہو؟
بزدل ظالم اپنے سے کمزور افراد پر تب ہی دھونس جماتے ہیں جب اس طرزِ عمل کی طلب موجود ہو، اس کے علاوہ وہ تب ہی ایسا کرتے ہیں جب ان کے اس طرزِ عمل پر کوئی ردِ عمل نہ کیا جائے: انھیں دیکھنے والے شائقین اور تماش بین مطلوب ہوتے ہیں۔ چناں چہ وائٹ ہاؤس کے اخباری نمائندگان کے عشایئے کے میزبان یا ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر پر الزام مت دھریئے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم امریکی بزدلوں اور تعیش پرستوں کی قوم بن چکے ہیں۔ ہم غیر فعالیت سے بیٹھے ہیں جب کہ ہمارے سیاسی بیانیے پر گالم گلوچ اور تحقیر کا غلبہ ہو چکا ہے۔
اگر آپ اس صورتِ حال سے نفرت کرتے ہیں تو کھڑے ہو جائیے۔ میں نے آرکسٹرا میں ایسا صرف ایک مرتبہ ہوتے دیکھا تھا۔ ایک مہمان موسیقار ریہرسل کے دوران ہمیں ڈانٹ رہا تھا اور بعض سازندوں کو گالیاں دے رہا تھا۔ آخر ایک سازندہ کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا، ’’استادِ محترم میں اپنے تمام ساتھیوں کی طرف سے آپ کے کامل احترام کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ مسئلہ ہم نہیں، آپ ہیں۔‘‘
موسیقار نے اس سازندے کو ریہرسل سے نکال دیا تھا لیکن ہم سب کے لیے وہ ہیروتھا۔

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛  ترجمہ: محمد احسن بٹ)

Wednesday, May 16, 2018

وہ کون سے معاملات ہیں جو چین کے صدر کوشب بھر بیدار رکھتے ہیں


مصنف: کرِس بکلی

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک اور دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی کے راہنما کی حیثیت سے چین کے صدر شی جِن پِنگ کے لیے بہت سے معاملات فکر مندی کا سبب ہیں۔ ایک نئی کتاب ان معاملات پر روشنی ڈالتی ہے جو امکاناً انھیں راتوں میں جگائے رکھتے ہیں۔ ’’قومی سلامتی‘‘ کے بارے میں چین کے صدر شی جِن پِنگ کے خیالات پر مبنی 272صفحات کی کتاب میں ان کے وہ تبصرے بھی شامل ہیں جو اس سے پہلے شائع نہیں ہوئے اور جو اُن کو تحریک دینے والے عوامل کی کمیونسٹ پارٹی کے پروپیگنڈے کی نسبت زیادہ واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے بیانات کا انتخاب ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنولوجی کی دوڑ جیتنا: چین اور امریکا کے مابین حالیہ تجارتی تنازعے نے ٹیکنولوجی کے میدان میں چین کے خود انحصار بننے کے شدید اشتیاق کی طرف توجہ دلائی۔ زیرِ نظر کتاب سے عیاں ہوتا ہے کہ حالیہ تنازعے سے بہت پہلے ہی صدر شی جِن پِنگ تہیہ کر چکے تھے کہ چین کو اپنے مائیکرو چپس، آپریٹنگ سسٹمز اور دوسری بنیادی ٹیکنولوجیوں میں ماہرِ کامل بنانا ہے۔ دو تقریروں میں ۔۔۔ جولائی 2013ء اور اگست 2013ء میں ۔۔۔ صدر شی جِن پِنگ نے واضح اور غیر مبہم انداز میں کہا تھا کہ مغرب کو ٹیکنولوجی کی وجہ سے دنیا پر غلبہ حاصل ہوا تھا۔ ’’ایڈوانسڈ ٹیکنولوجی جدید ریاست کا سب سے کارگر ہتھیار ہے۔ جدید زمانے میں مغربی ملکوں کے دنیاپر غالب آنے کا ایک اہم سبب یہ تھا کہ ان کے پاس ایڈوانسڈ ٹیکنولوجی تھی۔ آپ بنیادی نوعیت کی حقیقی ٹیکنولوجیاں خرید نہیں سکتے۔ یہ درست کہا جاتا ہے کہ ’کسی ریاست کے سب سے کارگر ہتھیار کو سب کے سامنے نہیں لانا چاہیے۔‘ ہماری ٹیکنولوجی ترقی یافتہ ملکوں کی ٹیکنولوجی سے پیچھے ہے اور ہمیں فوائد کے حصول کے لیے ان ملکوں سے آگے نکلنے کے لیے غیر معمولی حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔‘‘
انٹرنیٹ کا استعمال: انٹرنیٹ کے متعارف کروائے جانے کے وقت سے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے راہنما اسے تخریب اور جاسوسی کے لیے استعمال کیے جانے کے بارے میں فکر مند ہیں۔ صدر شی جِن پِنگ نے اگست 2013ء میں پروپیگنڈا کے موضوع پر تقریر کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سی آئی اے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے امریکا کی نگرانی کرنے کی جو اہلیتیں افشا کی ہیں، ان کے بارے میں انھیں تشویش ہے۔ ’’رائے عامہ پر قابو پانے کی کش مکش میں انٹرنیٹ سب سے بڑا میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ بعض ساتھیوں نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ ’سب سے بڑا تغیر‘ ہے جس کا ہمیں سامنا ہے اور اگر ہم اس سے درست انداز سے نبرد آزما نہیں ہوں گے تو یہ ’ہمارے ذہنوں پر مسلط عذاب بن جائے گا۔‘ چین مخالف مغربی طاقتیں ’چین کو چِت کرنے کے لیے‘ انٹرنیٹ کو مستقلاً استعمال کر رہی ہیں مگر وہ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہی ہیں۔ برسوں پہلے بعض مغربی سیاست دانوں نے اعلان کیا تھا کہ ’انٹرنیٹ کی صورت میں ہمیں چین سے نبرد آزما ہونے کا وسیلہ دست یاب ہو گیا ہے‘ اور ’سوشلسٹ ملک خود بخود مغرب کے سامنے سپر انداز ہو جائیں گے۔‘ امریکا کے تناظر سے دیکھا جائے تو ’ایکس کی سکور‘ اور نگرانی کے دوسرے پروگرام، نگرانی کی اہلیتیں اور اس حوالے سے انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کا دائرہ ہر کسی کی سوچ سے بھی زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ ہم انٹرنیٹ پر جاری یہ جنگ جیتتے ہیں یا نہیں، اس کا براہِ راست اثر ہمارے ملک کی نظریاتی اور سیاسی سلامتی پر پڑے گا۔‘‘
فوجی برتری کی دوڑ: چین اپنی فوج کو بہتر بنانے پر بھاری رقوم خرچ کر رہا ہے۔ دسمبر 2014ء میں صدر شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں چین کے فوجی افسروں کو خبردار کیا کہ خدشہ ہے امریکا ٹیکنولوجی کے میدان میں ان پر سبقت پا سکتا ہے۔ ’’ایک نیا ٹیکنولوجیکل اور صنعتی انقلاب برپا ہو رہا ہے، فوجی معاملات میں برپا ہونے والے عالم گیر انقلاب کی رفتار تیز ہوتی جا رہی ہے اور بین الاقوامی فوجی مقابلے کے انداز میں تاریخی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ امریکافوجی معاملات میں برپا ہونے والے اس انقلاب کا قائد ہے۔ بہت سے شعبے ایسے ہیں جن میں اس نے سب سے پہلے اقدامات کیے ہیں اور وہ فوجی ٹیکنولوجیوں میں بھی نئے فوائد حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ امریکا عالمی سطح پر تیزی سے حملہ کرنے کی اہلیتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور اس کے بعض جدید ہتھیار تیکینکی اعتبار سے زمان و مکاں کی حدود توڑ چکے ہیں۔ انھیں حقیقی جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا تو وہ حملے اور دفاع کے روایتی طریقوں کو بنیادی اعتبار سے کاملاً تبدیل کر دیں گے۔‘‘
چھپے ہوئے مالیاتی خطرے: چین کی قیادت بڑھتے ہوئے قرض سے پیدا ہونے والے مالیاتی خطروں کو ختم کرنے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ فعال ہوتی جا رہی ہے اور صدر شی جِن پِنگ نے دسمبر 2016ء میں اپنی ایک تقریر میں جن خیالات کا اظہار کیا، ان سے پتا چلتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ ’’اس وقت مالیاتی خطرے انتہائی سنگین اور کثیر ہیں۔ اگرچہ ایسے مالیاتی خطرے عمومی طور سے قابو میں ہیں، جو سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام کا حصہ ہیں لیکن غیرفعال اثاثے، لیکوئڈٹی، بانڈ ڈیفالٹس، شیڈو بینکس، خارجی دھچکے، پراپرٹی ببل، حکومتی قرض اور انٹرنیٹ فنانسنگ کی وجہ سے خطروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ فنانشل مارکیٹس میں بھی افراتفری ہے۔ بعض مالیاتی خطرے طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ وہ مرض کے منڈلاتے ہوئے سرچشمے ہیں جو بہت گہرائی میں چھپے ہوئے ہیں اور اچانک پھٹ سکتے ہیں۔ امریکا کا قرض کا بحران ایک ہی رات میں پھٹ پڑا تھا۔ اگر ہمیں مستقبل میں کسی بڑی مشکل کا سامنا ہوا تو وہ اسی شعبے میں رونما ہو گی۔ چناں چہ ہمیں اس شعبے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘
آلودگی کے حوالے سے بے چینی: صدر شی جِن پِنگ سموگ، مٹی کے زہر آلود ہونے اور دوسری آلودگیوں کے خلاف چین کی حکومت کی کوششوں میں تیزی لا چکے ہیں۔ مئی 2013ء میں انھوں نے اپنی تقریر میں اس موضوع پر جن خیالات کا اظہار کیا تھا، ان سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ عوام کے غصے اور احتجاجوں کے حوالے سے کس قدر فکر مند ہیں، جنھیں چینی حکام ’’عوامی واقعات‘‘ کہتے ہیں۔ ’’عوام ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے انتہائی پریشان ہے اور عوام کی خوشی کے اشاریوں میں ماحولیاتی مسائل کا درجہ زیادہ سے زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ جب معیشت اور معاشرہ ترقی کرتے ہیں اور لوگوں کے معیاراتِ زندگی اونچے ہوتے ہیں تو ماحولیاتی مسائل عوام میں بے چینی پیدا ہونے کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں اور اگر ان سے درست انداز میں نمٹا نہیں جائے تو ان کی وجہ سے اکثر اوقات عوامی واقعات رونما ہوتے ہیں۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛ انتخاب: دنیا ریسرچ سیل؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2018-05-16&edition=LHR&id=3912531_39273449

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...