Showing posts with label China. Show all posts
Showing posts with label China. Show all posts

Tuesday, July 16, 2019

کوانٹم اینٹینگلمینٹ کے ذریعے زمین سے خلا تک ٹیلی پورٹیشن

دوستو! کوانٹم اَین ٹَینگل مینٹ Quantum Entanglement جیسے انوکھے سائنسی تصور کو حقیقت ثابت کرتے اور اسے استعمال کرتے ہوئے دوست ملک چین کے سائنس دانوں نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک الیکٹرون کو زمین سے 300 میل کی اونچائی پر گردش کرتے سیٹلائٹ تک پہنچانے میں کام یابی حاصل کر لی ہے۔

یہ ناقابلِ یقین خبر کسی سنسنی خیز جھوٹی خبریں چھاپنے والے اخبار یا سائٹ پر نہیں بل کہ "نئی ٹیکنولوجیوں" سے متعلق دنیا کے مستند ترین جریدے "ایم آئی ٹی ٹیکنولوجی ریویو" میں شائع ہوئی ہے۔

دوستو! ہمارا جعلی میڈیا تو ایسی مثبت اور ولولہ انگیز خبر ہمیں اور ہمارے بچوں کو پڑھنے کے لیے کبھی مہیّا نہیں کرے گا۔ لیجیے آپ کا دوست یہ عظیم سائنسی خبر آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہے۔ دوستو! ایسے مضامین اپنے بچوں کو ضرور پڑھایا کریں تاکہ ہمارے بچے "ابھرتی ہوئی، وجود میں لائی جاتی ہوئی نئی دنیا" میں اپنے وطن کے لیے مثبت اور تعمیری کام کر سکیں۔

Saturday, May 25, 2019

اپنے آپ کو خود اڑانے والا ہیلی کاپٹر

چین کے سائنس دانوں نے ایک ایسا ہیلی کاپٹر بنایا ہے جو پائلٹ کے بغیر اڑتا ہے یعنی یہ ہیلی کاپٹر "اپنے آپ کو خود اڑاتا" ہے۔

"اپنے آپ کو خود اڑانے والا" یہ ہیلی کاپٹر ماحول دوست بھی ہے اور فوسل فیولز کی بجائے بجلی سے چلتا ہے۔ اس کی بیٹری چار گھنٹے تک کام دیتی ہے۔

یہ ہیلی کاپٹر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے۔

اسے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

آپ کے دوست نے روزنامہ دنیا کے سنڈے میگزین کی جاب کے زمانے میں ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کے بارے میں مضمون ترجمہ کیا تھا۔ یہ اس اہم موضوع پر اردو کے اوّلین مضامین میں سے ایک مضمون تھا۔ افسوس آپ کے دوست کی محنت کی قدر نہیں کی گئی اور جاب چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

گوگل، اینڈرائیڈ اور ہواوے کا اپنا موبائل آپریٹنگ سسٹم

چین کی کمپنی ہواوے، جو دنیا کی دوسری بڑی موبائل فون کمپنی ہے، اپنے موبائل فونوں کے لیے موبائل آپریٹنگ سسٹم بنانے کے لیے پچھلے سات سے سال تحقیق و تجربات کر رہی ہے۔

امریکا کی کمپنی گوگل نے ہواوے کو اینڈرائیڈ موبائل آپریٹنگ سسٹم اور گوگل پلے سٹور استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ امکان ہے کہ جلد یہ پابندی ہٹا لی جائے گی لیکن یہ بھی یقینی ہے کہ ہواوے اپنا موبائل آپریٹنگ سسٹم بھی بنا لے گی۔

Wednesday, May 16, 2018

وہ کون سے معاملات ہیں جو چین کے صدر کوشب بھر بیدار رکھتے ہیں


مصنف: کرِس بکلی

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک اور دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی کے راہنما کی حیثیت سے چین کے صدر شی جِن پِنگ کے لیے بہت سے معاملات فکر مندی کا سبب ہیں۔ ایک نئی کتاب ان معاملات پر روشنی ڈالتی ہے جو امکاناً انھیں راتوں میں جگائے رکھتے ہیں۔ ’’قومی سلامتی‘‘ کے بارے میں چین کے صدر شی جِن پِنگ کے خیالات پر مبنی 272صفحات کی کتاب میں ان کے وہ تبصرے بھی شامل ہیں جو اس سے پہلے شائع نہیں ہوئے اور جو اُن کو تحریک دینے والے عوامل کی کمیونسٹ پارٹی کے پروپیگنڈے کی نسبت زیادہ واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے بیانات کا انتخاب ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنولوجی کی دوڑ جیتنا: چین اور امریکا کے مابین حالیہ تجارتی تنازعے نے ٹیکنولوجی کے میدان میں چین کے خود انحصار بننے کے شدید اشتیاق کی طرف توجہ دلائی۔ زیرِ نظر کتاب سے عیاں ہوتا ہے کہ حالیہ تنازعے سے بہت پہلے ہی صدر شی جِن پِنگ تہیہ کر چکے تھے کہ چین کو اپنے مائیکرو چپس، آپریٹنگ سسٹمز اور دوسری بنیادی ٹیکنولوجیوں میں ماہرِ کامل بنانا ہے۔ دو تقریروں میں ۔۔۔ جولائی 2013ء اور اگست 2013ء میں ۔۔۔ صدر شی جِن پِنگ نے واضح اور غیر مبہم انداز میں کہا تھا کہ مغرب کو ٹیکنولوجی کی وجہ سے دنیا پر غلبہ حاصل ہوا تھا۔ ’’ایڈوانسڈ ٹیکنولوجی جدید ریاست کا سب سے کارگر ہتھیار ہے۔ جدید زمانے میں مغربی ملکوں کے دنیاپر غالب آنے کا ایک اہم سبب یہ تھا کہ ان کے پاس ایڈوانسڈ ٹیکنولوجی تھی۔ آپ بنیادی نوعیت کی حقیقی ٹیکنولوجیاں خرید نہیں سکتے۔ یہ درست کہا جاتا ہے کہ ’کسی ریاست کے سب سے کارگر ہتھیار کو سب کے سامنے نہیں لانا چاہیے۔‘ ہماری ٹیکنولوجی ترقی یافتہ ملکوں کی ٹیکنولوجی سے پیچھے ہے اور ہمیں فوائد کے حصول کے لیے ان ملکوں سے آگے نکلنے کے لیے غیر معمولی حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔‘‘
انٹرنیٹ کا استعمال: انٹرنیٹ کے متعارف کروائے جانے کے وقت سے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے راہنما اسے تخریب اور جاسوسی کے لیے استعمال کیے جانے کے بارے میں فکر مند ہیں۔ صدر شی جِن پِنگ نے اگست 2013ء میں پروپیگنڈا کے موضوع پر تقریر کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سی آئی اے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے امریکا کی نگرانی کرنے کی جو اہلیتیں افشا کی ہیں، ان کے بارے میں انھیں تشویش ہے۔ ’’رائے عامہ پر قابو پانے کی کش مکش میں انٹرنیٹ سب سے بڑا میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ بعض ساتھیوں نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ ’سب سے بڑا تغیر‘ ہے جس کا ہمیں سامنا ہے اور اگر ہم اس سے درست انداز سے نبرد آزما نہیں ہوں گے تو یہ ’ہمارے ذہنوں پر مسلط عذاب بن جائے گا۔‘ چین مخالف مغربی طاقتیں ’چین کو چِت کرنے کے لیے‘ انٹرنیٹ کو مستقلاً استعمال کر رہی ہیں مگر وہ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہی ہیں۔ برسوں پہلے بعض مغربی سیاست دانوں نے اعلان کیا تھا کہ ’انٹرنیٹ کی صورت میں ہمیں چین سے نبرد آزما ہونے کا وسیلہ دست یاب ہو گیا ہے‘ اور ’سوشلسٹ ملک خود بخود مغرب کے سامنے سپر انداز ہو جائیں گے۔‘ امریکا کے تناظر سے دیکھا جائے تو ’ایکس کی سکور‘ اور نگرانی کے دوسرے پروگرام، نگرانی کی اہلیتیں اور اس حوالے سے انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کا دائرہ ہر کسی کی سوچ سے بھی زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ ہم انٹرنیٹ پر جاری یہ جنگ جیتتے ہیں یا نہیں، اس کا براہِ راست اثر ہمارے ملک کی نظریاتی اور سیاسی سلامتی پر پڑے گا۔‘‘
فوجی برتری کی دوڑ: چین اپنی فوج کو بہتر بنانے پر بھاری رقوم خرچ کر رہا ہے۔ دسمبر 2014ء میں صدر شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں چین کے فوجی افسروں کو خبردار کیا کہ خدشہ ہے امریکا ٹیکنولوجی کے میدان میں ان پر سبقت پا سکتا ہے۔ ’’ایک نیا ٹیکنولوجیکل اور صنعتی انقلاب برپا ہو رہا ہے، فوجی معاملات میں برپا ہونے والے عالم گیر انقلاب کی رفتار تیز ہوتی جا رہی ہے اور بین الاقوامی فوجی مقابلے کے انداز میں تاریخی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ امریکافوجی معاملات میں برپا ہونے والے اس انقلاب کا قائد ہے۔ بہت سے شعبے ایسے ہیں جن میں اس نے سب سے پہلے اقدامات کیے ہیں اور وہ فوجی ٹیکنولوجیوں میں بھی نئے فوائد حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ امریکا عالمی سطح پر تیزی سے حملہ کرنے کی اہلیتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور اس کے بعض جدید ہتھیار تیکینکی اعتبار سے زمان و مکاں کی حدود توڑ چکے ہیں۔ انھیں حقیقی جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا تو وہ حملے اور دفاع کے روایتی طریقوں کو بنیادی اعتبار سے کاملاً تبدیل کر دیں گے۔‘‘
چھپے ہوئے مالیاتی خطرے: چین کی قیادت بڑھتے ہوئے قرض سے پیدا ہونے والے مالیاتی خطروں کو ختم کرنے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ فعال ہوتی جا رہی ہے اور صدر شی جِن پِنگ نے دسمبر 2016ء میں اپنی ایک تقریر میں جن خیالات کا اظہار کیا، ان سے پتا چلتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ ’’اس وقت مالیاتی خطرے انتہائی سنگین اور کثیر ہیں۔ اگرچہ ایسے مالیاتی خطرے عمومی طور سے قابو میں ہیں، جو سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام کا حصہ ہیں لیکن غیرفعال اثاثے، لیکوئڈٹی، بانڈ ڈیفالٹس، شیڈو بینکس، خارجی دھچکے، پراپرٹی ببل، حکومتی قرض اور انٹرنیٹ فنانسنگ کی وجہ سے خطروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ فنانشل مارکیٹس میں بھی افراتفری ہے۔ بعض مالیاتی خطرے طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ وہ مرض کے منڈلاتے ہوئے سرچشمے ہیں جو بہت گہرائی میں چھپے ہوئے ہیں اور اچانک پھٹ سکتے ہیں۔ امریکا کا قرض کا بحران ایک ہی رات میں پھٹ پڑا تھا۔ اگر ہمیں مستقبل میں کسی بڑی مشکل کا سامنا ہوا تو وہ اسی شعبے میں رونما ہو گی۔ چناں چہ ہمیں اس شعبے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘
آلودگی کے حوالے سے بے چینی: صدر شی جِن پِنگ سموگ، مٹی کے زہر آلود ہونے اور دوسری آلودگیوں کے خلاف چین کی حکومت کی کوششوں میں تیزی لا چکے ہیں۔ مئی 2013ء میں انھوں نے اپنی تقریر میں اس موضوع پر جن خیالات کا اظہار کیا تھا، ان سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ عوام کے غصے اور احتجاجوں کے حوالے سے کس قدر فکر مند ہیں، جنھیں چینی حکام ’’عوامی واقعات‘‘ کہتے ہیں۔ ’’عوام ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے انتہائی پریشان ہے اور عوام کی خوشی کے اشاریوں میں ماحولیاتی مسائل کا درجہ زیادہ سے زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ جب معیشت اور معاشرہ ترقی کرتے ہیں اور لوگوں کے معیاراتِ زندگی اونچے ہوتے ہیں تو ماحولیاتی مسائل عوام میں بے چینی پیدا ہونے کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں اور اگر ان سے درست انداز میں نمٹا نہیں جائے تو ان کی وجہ سے اکثر اوقات عوامی واقعات رونما ہوتے ہیں۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛ انتخاب: دنیا ریسرچ سیل؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2018-05-16&edition=LHR&id=3912531_39273449

Monday, May 7, 2018

گوادر: مستقبل کا دبئی


مصنف: رولینڈ اولیفینٹ

ترجمہ: محمد احسن بٹ

ہزاروں  سال سے  مچھیرے خلیجِ گوادر میں ماہی گیری کرتے آئے ہیں۔ ہر اعتبار سے  کامل گوادرکی بندرگاہ اُس دشت تک رسائی فراہم کرتی ہے جہاں سکندرِ اعظم نے اپنی فوج کو پیاس سے مرتا دیکھا تھا۔ ماہی گیروں  کی یہ چھوٹی سی بستی سکندرِ اعظم جیسے عزائم کے حامل تزویری منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ پاکستان اور  چین کے اس اتحاد کا محور ہے جو بحرِ ہند میں طاقت کا توازن مکمل طور پرتبدیل کرسکتا ہے۔ کیپٹن گل محمد یہاں میرین آپریشنز کے سربراہ ہیں۔ وہ کراچی میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی زندگی کا بڑا حصہ سمندروں میں گزرا ہے۔ وہ دوستانہ مزاج کے برطانوی تربیت یافتہ ماسٹر میرینر ہیں۔ وہ بحری راستوں کو رکاوٹوں سے پاک رکھنے، روشنیوں اور سمندر میں تیرتے آبی  نشانات کو درست رکھنے جیسے امور کے ذمہ دار ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں خلیج کے گرد ایستادہ سائنس فکشن جیسی خاکستری پہاڑیوں کے سائے میں بحری سفر کے دوران انھوں نے کہا، "گوادرمستقبل میں دبئی کی طرح ترقی یافتہ ہو جائے گا۔ بلاشبہ یہ بات خواب جیسی لگتی ہے لیکن ایسا ہونا یقینی ہے۔"
 گواد کی بندرگاہ پاکستان چین اکنامک کوریڈور کا آخری پڑاؤ ہے۔ پاکستان چین اکنامک کوریڈور چین کی سرحد سے لے کر بحرِ ہند تک محیط ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کا عظیم ترین منصوبہ ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان کو اپنے انفراسٹرکچر  کے لیے سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے جو کہ اس کی معیشت کے لیے بہت ضروری تھی جبکہ چین کو گرم پانیوں کی ایک ایسی بندرگاہ تک رسائی مل گئی ہے جو آبنائےہرمز سے صرف 563 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ گوادر کی بندرگاہ  یورپ سے تجارتی رابطوں کے لیے چین کے "ایک بیلٹ، ایک روڈ" منصوبے  کی ایک کلیدی بندرگاہ ہے۔ پاکستان چین اکنامک کوریڈور کے لیے چین نے پاکستان میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔ اتنی بڑی سرمایہ کاری  پاکستان کی معیشت میں نئی روح پھونک دے گی۔سابق مشیر برائے ٹیکس اور اقتصادی اصلاح محمد زبیر، جو اَب صوبہ سندھ کے گورنر ہیں، اس منصوبے کو تشکیل دینے والوں میں شامل رہے ہیں۔ انھوں نے کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ پاکستان کے نکتۂ نظر سے اس منصوبے کا محرک تزویراتی وژن نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا، "پاکستان کو بلیک آؤٹ کا سامنا تھا۔ طلب اور رسد کا فرق بڑھتا جا رہا تھا اور کوئی پاور پلانٹ زیرِ تعمیر نہیں تھا۔ ہم نے شمارکیا تو معلوم ہوا کہ اس کے لیے 30 ارب ڈالر سے 35 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس اتنی بڑی رقم نہیں تھی۔ اس ضرورت نے ہمیں پاکستان چین اکنامک کوریڈور کی طرف متوجہ کیا۔" چین جبوتی کی بندرگاہ بھی تعمیر کر چکا ہے جو سری لنکا اور میانمار کی بندرگاہوں سمیت  بندرگاہیں تعمیر کرنے کے "موتیوں کی مالا" نامی منصوبے کاایک "موتی" ہے۔ چین نے جبوتی میں فوجی اڈہ بھی بنایا ہے۔ چین نے مالدیپ میں بھی بندگاہ تعمیر کی ہے۔ جہاں تک گوادر کا تعلق ہے تو یہ  ایک تجارتی بندرگاہ ہے اور ٹیلی گراف نے بندرگاہ کے دورے کے دوران وہاں کوئی فوجی سرگرمی نہیں دیکھی۔ ہم نے دیکھا کہ  ساحل پر لکڑی کی پرانی کشتیوں کے ڈھانچوں کے نزدیک بڑے بڑے بحری جہاز بنائے جا رہے تھے۔چینیوں نے صحرا میں رومنوں کی شاہراہوں جیسی موٹروے تعمیر کی ہے۔ گوادر تک ریلوے لائن بچھانے اور پاکستان کے سب سے بڑے ائیرپورٹ کی تعمیر کے منصوبے بھی تشکیل دے جا چکے ہیں۔  اس کے علاوہ افغانستان جانے کے لیے ایک نئی سڑک بھی تعمیرکی جائے گی۔ صحرا میں بسائے جانے والے نئے شہر کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سمندر کے پانی کو انسانوں کے لیے قابلِ استعمال بنانےکے منصوبے بھی تشکیل دے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ 2050ء تک اس شہر کی آبادی ایک کروڑ ستر لاکھ نفوس تک پہنچ جائے گی۔ بندرگاہ کے قریب دو وسیع و عریض "فری اکنامک زون" بھی بنائے جائیں گے۔ سرمایہ کاروں کو ان فری اکنامک زونز کی طرف مائل کرنے کے لیے 99 سال کے پٹے اور 23 سال کی ٹیکس چھوٹ بھی سہولیات میں شامل ہیں۔ سمندر میں شان دار بندرگاہ تعمیرکی جا چکی ہے۔ جہاں تک خشکی کا تعلق ہے تو خاکستری ریت  پرہائی ویز کا جال بچھا دیا گیا ہے جن کے  نام سینٹرل بولیوارڈ اور میرین ڈرائیو رکھے گئے ہیں۔ پراپرٹی کا کاروبار خوب فروغ پا رہا ہے اور بنجرپلاٹوں کی قیمتیں کروڑوں تک پہنچ چکی ہیں۔ فی الوقت شہرکے 85000 لوگوں کی پانی کی ضرورت اس آبی ذخیرے سے پوری کی جاتی ہے جس میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا ہے۔ اس مہینے کے شروع میں شہر میں پانی کی قلت ہوئ تو  نزدیکی شہرتربت سے ٹینکروں میں پانی لا کر فراہم کیا گیا۔
بندرگاہ اور دوسرے تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے معماروں کو نہ صرف انتہائی سخت آب و ہوا کا سامنا ہے بلکہ دہشت گردوں کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ پاکستان کی فوج کئی سال سے دہشت گردوں کے ساتھ کامیابی سے نبرد آزما ہے۔ دہشت گرد افغانستان کی سرحد پار کر کے خود کش حملے کر چکے ہیں۔ پاکستانی فوج کے جوان مشین گنوں اور آئی ای ڈی ڈیوائسز کو جام کر دینے والے آلات  سے لیس  پک اپ  ٹرکوں میں سوار ہو کرصحرا میں آباد شہروں کے گرد گشت کرتے رہتے ہیں۔ اسی ہفتے ملنے والی خبروں کے مطابق چینی اہل کاروں نے بھی دہشت گردانہ حملے رکوانے کے لیے علیٰحدگی پسندوں کے راہنماؤں کے ساتھ گف و شنید کی ہے۔ اگرچہ اس دورے کے دوران ٹیلی گراف کی ملاقات  کسی چینی اہل کار سے نہیں ہوئی تاہم چینی پاکستان میں جاری مختلف تعمیری منصوبوں میں سرگرمِ کار ہیں۔
شہر کے گرد آلود ائیرپورٹ کے باہر چینی زبان اور انگریزی میں خیرمقدمی بورڈ آویزاں ہیں۔ نئی بندرگاہ کے اردگرد سڑکوں کے نشانات بھی دونوں زبانوں میں لکھے گئے ہیں۔ بندرگاہ کے داخلی راستے پر پاکستان اور چین کے پرچم ساتھ ساتھ لہرا رہے ہیں۔ یہ دو پرانے اتحادیوں کے مابین دوستی کا شان دار اظہار ہے۔

بشکریہ دی ٹیلی گراف

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...