Showing posts with label America. Show all posts
Showing posts with label America. Show all posts

Saturday, May 25, 2019

گوگل، اینڈرائیڈ اور ہواوے کا اپنا موبائل آپریٹنگ سسٹم

چین کی کمپنی ہواوے، جو دنیا کی دوسری بڑی موبائل فون کمپنی ہے، اپنے موبائل فونوں کے لیے موبائل آپریٹنگ سسٹم بنانے کے لیے پچھلے سات سے سال تحقیق و تجربات کر رہی ہے۔

امریکا کی کمپنی گوگل نے ہواوے کو اینڈرائیڈ موبائل آپریٹنگ سسٹم اور گوگل پلے سٹور استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ امکان ہے کہ جلد یہ پابندی ہٹا لی جائے گی لیکن یہ بھی یقینی ہے کہ ہواوے اپنا موبائل آپریٹنگ سسٹم بھی بنا لے گی۔

Wednesday, December 5, 2018

دنیا کے سب سے بڑے سیاسی سکینڈل اور ترقی یافتہ ملک

دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی تاریخ پڑھی یا سنجیدہ فلموں اور ڈوکیومینٹری فلموں میں دیکھی جائے تو پتا چلتا ہے کہ ان ملکوں کی پس ماندگی کے زمانے میں وہاں بھی اسی طرح کے حالات تھے جیسے پاکستان اور دوسرے ترقی پذیر معاشروں کے ہیں۔

میں نے لاہور کے تخلیقات پبلشرز کے لیے ایک کتاب World's Greatest Political Scandals کا ترجمہ "دنیا کے سب سے بڑے سیاسی سکینڈل" کے عنوان سے کیا تھا۔ اس کتاب میں  امریکا اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ترین اور جمہوریت کے سب سے پرانے مراکز کے سیاست دانوں کے جرائم کے نہایت حیران کن واقعات بیان کیے گئے ہیں۔

اسی طرح دوسرے جرائم بھی دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں نا صرف ماضی میں بہت زیادہ ہوتے تھے بلکہ آج بھی ان ملکوں میں ہر طرح کے جرائم ہو رہے ہیں۔

لفظ مافیا اٹلی کی زبان ۔۔۔۔۔ اطالوی زبان ۔۔۔۔۔ سے انگریزی میں شامل ہوا ہے لیکن دنیا کی خطرناک ترین مافیا امریکا میں تھیں اور آج بھی ہیں۔

پاکستانی معاشرہ بھی دھیرے دھیرے بہتر ہو رہا ہے۔ ہم عوام خصوصاً صحافیوں، وکیلوں، ڈاکٹروں، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹوں، بینکاروں، ٹیکس سے متعلق پیشہ وروں، آئی ٹی کے ماہروں اور دوسرے پیشہ وروں کو لازماً اپنے مفادات قربان کر کے دیانت داری سے زندگی بسر کرنا ہو گی۔ اس طرح ہمارے معاشرے میں شر کے مقابل خیر طاقت ور ہو گا اور ایک وقت آئے گا کہ خیر غالب و حاوی ہو جائے گا اور شر مغلوب و مستور ہو جائے گا۔

Monday, November 26, 2018

962 لڑکیاں: سپر پاور سے بھی آگے کی پاور امریکا میں ایسا کیوں ہے؟

امریکی اداروں کے جمع کیے ہوئے اعداد و شمار سے پتا چلا ہے کہ ہر سال 962 امریکی لڑکیوں/ عورتوں کو ان کے قریبی مرد دوست، بوائے فرینڈ/ عاشق یا خاوند قتل کر دیتے ہیں۔

حیرت ہے کہ امریکا جیسے مثالی ترقی یافتہ و تہذیب یافتہ ملک و معاشرے میں ایسا کیوں ہے؟

Wednesday, June 6, 2018

دنیا پر امریکا کے غلبے کی تاریخ

دنیا پر امریکا کے غلبے کی تاریخ

عبدالرحمان عمر

1776ء میں اعلانِ آزادی سے تھوڑا پہلے کانگریس نے امریکا کی تمام بندرگاہیں دنیا کے ہراُس علاقے سے تجارت کے کھول دی تھیں جس پر برطانیہ کا اقتدار قائم نہیں تھا۔امریکی اپنے اثر و رسوخ کو توسیع دینے اور بین الاقوامی تجارت میں حصہ لینے کے مشتاق تھے۔ صرف بیس سال کے عرصے میں امریکہ کی تجارت بین الاقوامی سطح پر خوب فروغ پا چکی تھی۔ بہرکیف شمالی افریقا میں بحیرۂ روم کے ساحلوں پر صدیوں سے غارت گری مچانے والے بربر قزاقوں نے امریکی بحری جہازوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ 1801ء میں تھامس جیفرسن نے عہدۂ صدارت سنبھالا ہی تھا کہ طرابلس کے پاشا یوسف کرمانلی نے نئی امریکی حکومت سے خراج طلب کیا، جو 2017ء کی شرحِ مبادلہ کے مطابق تینتیس لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی تھا۔ اس سے پہلے امریکا اپنے بحری جہازوں کو نقصان سے محفوظ رکھنے کی غرض سے الجزائر کے حکمران کو اسی طرح خراج ادا کر چکا تھا لیکن تھامس جیفرسن نے دیکھا کہ خراج کا یہ نظام امریکا کی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس لیے اس نے خراج ادا کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ پاشا یوسف کرمانلی نے خراج ادا کیے جانے کا مطالبہ امریکا کے صدر کی طرف سے مسترد کیے جانے پر اعلانِ جنگ کے روایتی قاعدے کے مطابق طرابلس میں امریکی قونصلیٹ کے سامنے ایک کھمبے پر لہراتا امریکی پرچم کاٹ کر پھنکوا دیا۔ اس واقعے کے بعد دونوں فریقوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کئی سال جاری رہا۔ آخر 1805ء میں پاشا یوسف کرمانلی نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور امریکا اس جنگ میں فتح یاب قرار پایا۔ بربری جنگوں کے ذریعے امریکا کا بین الاقوامی سٹیج پر نمودار ہونا اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی غلبے کے لیے اس کا کوشش کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔
بربری جنگوں کا تجزیہ اس تناظر میں کیا جانا ضروری ہے کہ ان میں شامل ہونے سے تھوڑا عرصہ پہلے ہی امریکا نے طویل جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی تھی۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے بانیوں نے برطانیہ کے بادشاہ جارج سوم کی بادشاہت سے آزادی کا اعلان 1776ء میں کیا تھا اور اس کے محض پچیس سال بعد اس کے بحری جہاز بحرِ اوقیانوس کے پار شمالی افریقا کے ساحلوں پر نیم خود مختار عثمانی ریاستوں کے ساتھ براہِ راست تصادم کے لیے آمادہ و تیار تھا۔ جب پاشا یوسف کرمانلی نے چیلنج کیا تو ’’نوجوان‘‘ امریکی ریاست نے اپنے بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے تجربہ کار قزاقوں کے خلاف میدانِ جنگ میں اترنے میں ذرا بھی تأمل نہیں کیا تھا حالاں کہ اُس زمانے میں برطانیہ اور دوسری مغربی طاقتوں کے غلبے والی دنیا میں امریکا ایک چھوٹا کھلاڑی تھا۔ بربری جنگوں سے عیاں ہوتاہے کہ امریکا ابتدا ہی سے طاقت کی بین الاقوامی کش مکش میں شامل ہو گیا تھا اور اکثر اوقات اس کا رویہ جارحانہ ہوتا تھا۔ اس زمانے کی انارکی سے بھری دنیا میں امریکا نے آغاز ہی میں فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہر جگہ جائے گا اور جہاں بھی جائے گا اپنی خود مختاری ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔ بیسویں صدی کے آغاز تک بین الاقوامی سٹیج پر اپنے مفادات کے لیے عمل کرتے ہوئے امریکا کے پاس کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہوتا تھا۔ اسے کہیں بھی حملے کرنے اور تباہی مچانے کی آزادی حاصل تھی بشرطے کہ کسی غالب یورپی کھلاڑی کی سرحدوں کو عبور نہ کرے اور اس کے مفادات کو زک نہ پہنچائے۔
1941ء میں یعنی دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے دو سال بعد امریکادوسری عالمی جنگ میں اس وقت باقاعدہ شامل ہواجب پرل ہاربر پر حملہ کیا گیا۔اگرچہ پرل ہاربرپر حملہ کیے جانے تک اس نے اپنی رسمی غیر جانب داری برقرار رکھی تھی، تاہم وہ اتحادیوں کو مدد فراہم کر کے جنگ میں پہلے ہی سے شامل تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ جنگ اس کی سلامتی اور تجارتی راستوں کے لیے خطرہ ہے۔ جب برطانیہ کے دوش بدوش امریکا میدانِ جنگ میں اترا تو اس اقدام کے حوالے سے یوں پروپیگنڈا کیا گیا جیسے یہ ایک نظریاتی جنگ ہے اور برطانیہ و امریکا دنیا میں ’’جمہوریت کے دفاع‘‘ کے لیے جنگ میں شامل ہوئے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک انتہائی سادہ بیانیہ تھا۔ جنگ میں شامل ہونا امریکا کے ذاتی مفادات کا سوال تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر جرمنی جنگ میں فتح یاب ہوا اور پورے یورپ پر اس کا غلبہ قائم ہو گیا تو امریکا کی تجارت طویل عرصے کے لیے متاثر ہو گی۔
جب آخرِ کار اتحادی جنگ میں فتح یاب ہوئے تو بین الاقوامی سٹیج پر غالب بیانیہ میں نازیوں اور جاپان کے ظلم و ستم کی داستانوں کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہوا جس میں فوجی مداخلت کے قانونی ہونے کے علاوہ ’’اخلاقیات‘‘ کا سوال پہلی مرتبہ اٹھایا گیا اور ڈریسڈن کے جرمن شہریوں پر اتحادیوں کی بم باری یا جاپانی شہریوں پر گرائے گئے امریکی ایٹم بموں کو جنگ ختم کرنے کے لیے’’ضروری اقدامات‘‘ قرار دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ اس امید کے ساتھ قائم کی گئی کہ وہ مستقبل میں مفادات کی ایسی ہول ناک جنگ نہیں ہونے دے گی۔
دوسری عالمی جنگ کے ختم ہوتے ہی اس عالمی نظام کا بھی خاتمہ ہو گیا جس میں یورپ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ یورپی طاقتوں کے پسپا ہونے سے امریکا خود بخود دنیا کی غالب فوجی طاقت بن گیا۔ چوں کہ پوری جنگ کے دوران امریکا نے اپنے آپ کو فاشسٹ جارحیت کے خلاف آزادی کے محافظ کی حیثیت سے پیش کیا تھا اس لیے تاریخ کے اس موڑ پر وہ دنیا کی اوّلین ’’اخلاقی سپر پاور‘‘ بھی بن گیا۔اس نے دنیا میں امن و امان کے قیام کی ذمہ داری سنبھال لی لیکن اپنے اس نئے کردار کو طاقت کی جارحانہ کش مکش میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اس کی بجائے وہ بربری جنگوں تک جو کچھ کرتا آیا تھا وہی کچھ یعنی اپنے قومی مفادات کا تحفظ اور معاشی و فوجی غلبہ قائم کرنے کے لیے اس نئی ’’اخلاقی‘‘ حرکیات کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ پوری سرد جنگ کے دوران امریکا ’’کمیونسٹ خطرے‘‘ کے خلاف اپنے آپ کو ایک اخلاقی قوت کی حیثیت سے پیش کرتا رہا۔ اس عرصے کے دوران پروپیگنڈا کے سراب سے باہر جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر لاطینی امریکا تک پوری دنیا میں امریکا کے اخلاقی اعتبار سے واقعتاً ابہام زدہ اقدامات سے عیاں ہوتا ہے کہ اس نے اپنے اقدامات کے لیے جو جو اخلاقی جواز پیش کیے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں تھے۔ سوویت یونین کو تازہ تازہ قائم ہونے والے عالمی نظام کے لیے خطرے کی حیثیت سے پیش کر کے امریکا نے اپنے اتحادیوں کو قائل کر لیا کہ تمام تر جارحانہ و غیراخلاقی اقدامات کے باوجود وہ خیر کے لیے سرگرمِ عمل قوت ہے۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکا بین الاقوامی تعلقات میں کارفرما قوانین اور ضوابط کے حوالے سے صرف دکھاوے کے اقدمات کرتے ہوئے اپنے مفادات کے لیے جارحانہ انداز سے عمل کرتا رہا۔ صرف اس مرتبہ ایسا تھا کہ کوئی بڑا حریف سامنے نہیں تھا۔ اکیسویں صدی میں امریکا کی منافقانہ اخلاقی برتری اس وقت کھل کرسامنے آ گئی جب مارچ 2003ء میں صدر جارج ڈبلیو بش نے ’’آپریشن عراقی فریڈم‘‘ کا آغاز کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں، جس کے لیے اب اچھے خیالات کا اظہار نہیں کیا جاتا، عراقیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’ان کی آزادی کا دن نزدیک ہے۔‘‘ بش حکومت نے اس اقدام کو منصفانہ اقدام ثابت کرنے کی غرض سے کہا کہ عراق کے حکمرانوں نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنا لیے ہیں اور انھیں استعمال بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ عراقی حکومت پر انسانی حقوق پامال کرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔ بش حکومت نے اپنے اقدامات کے لیے یہ جواز پیش کیا کہ عراقی عوام کو امریکا کے جمہوریت اور آزادی کے مثالیوں کی ضرورت ہے۔ بہرحال دنیا کو بعد میں پتا چلا کہ عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں جو دعوے کیے گئے تھے، وہ سراسر جھوٹ تھے اور اس حملے کا نتیجہ ویسا یوٹوپیائی نہیں تھا جیسا کہ آغاز میں کہا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ امر واضح ہوتا گیا کہ امریکا نے ایک خود مختار ملک پر حملہ آزادی اور جمہوریت کے لیے نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات کے لیے کیا تھا۔ لاکھوں معصوم انسان مارے گئے جب کہ موت سے بچ جانے والے لاکھوں ہی انسانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے برباد ہو گئیں۔ پندرہ سال گزر جانے کے بعد بھی عراقی ریاست انتشار کی شکار ہے۔ امریکا بہت طویل عرصے سے آزادی اور جمہوریت جیسے مجرد تصورات استعمال کر کے بین الاقوامی برادری کو یقین دلا رہا ہے کہ وہ اخلاقی اور مبنی بر انصاف مقاصد کے لیے جنگیں لڑ رہا ہے لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا نے اخلاقیات کا جو بھاری لبادہ پہنا تھا، وہ آخرِ کار اترنے لگا ہے۔ شمالی و جنوبی کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان کی عسکری دلدلوں میں دھنسنے کے بعد امریکا کا تاثر بری طرح خراب ہوا ہے۔ ممکن ہے آج امریکی فوج دنیا کی بہترین ..... اور مؤثر ترین .....فوج ہو لیکن امریکا اخلاقی برتری سے محروم ہو چکا ہے۔ بربری جنگوں کے ذریعے امریکا نے عالمی سٹیج کے قوانین طے کیے تھے اور اپنے غلبے کو چیلنج کرنے والوں کو مٹا ڈالا تھا۔ امریکا ابتدا ہی سے اپنے آپ کو دنیا میں جس انداز سے پیش کرتا آیا ہے، اس میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ وہ کچھ عرصہ تو دنیا پر اپنا غلبہ قائم کرنے کے اپنے جارحانہ اقدامات کو اخلاقیات کے جھوٹے جوازوں کے پردے میں چھپانے میں کامیاب ہوا لیکن اب اس کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔

(بشکریہ الجزیرہ ٹی وی؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

Wednesday, May 16, 2018

وہ کون سے معاملات ہیں جو چین کے صدر کوشب بھر بیدار رکھتے ہیں


مصنف: کرِس بکلی

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک اور دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی کے راہنما کی حیثیت سے چین کے صدر شی جِن پِنگ کے لیے بہت سے معاملات فکر مندی کا سبب ہیں۔ ایک نئی کتاب ان معاملات پر روشنی ڈالتی ہے جو امکاناً انھیں راتوں میں جگائے رکھتے ہیں۔ ’’قومی سلامتی‘‘ کے بارے میں چین کے صدر شی جِن پِنگ کے خیالات پر مبنی 272صفحات کی کتاب میں ان کے وہ تبصرے بھی شامل ہیں جو اس سے پہلے شائع نہیں ہوئے اور جو اُن کو تحریک دینے والے عوامل کی کمیونسٹ پارٹی کے پروپیگنڈے کی نسبت زیادہ واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے بیانات کا انتخاب ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنولوجی کی دوڑ جیتنا: چین اور امریکا کے مابین حالیہ تجارتی تنازعے نے ٹیکنولوجی کے میدان میں چین کے خود انحصار بننے کے شدید اشتیاق کی طرف توجہ دلائی۔ زیرِ نظر کتاب سے عیاں ہوتا ہے کہ حالیہ تنازعے سے بہت پہلے ہی صدر شی جِن پِنگ تہیہ کر چکے تھے کہ چین کو اپنے مائیکرو چپس، آپریٹنگ سسٹمز اور دوسری بنیادی ٹیکنولوجیوں میں ماہرِ کامل بنانا ہے۔ دو تقریروں میں ۔۔۔ جولائی 2013ء اور اگست 2013ء میں ۔۔۔ صدر شی جِن پِنگ نے واضح اور غیر مبہم انداز میں کہا تھا کہ مغرب کو ٹیکنولوجی کی وجہ سے دنیا پر غلبہ حاصل ہوا تھا۔ ’’ایڈوانسڈ ٹیکنولوجی جدید ریاست کا سب سے کارگر ہتھیار ہے۔ جدید زمانے میں مغربی ملکوں کے دنیاپر غالب آنے کا ایک اہم سبب یہ تھا کہ ان کے پاس ایڈوانسڈ ٹیکنولوجی تھی۔ آپ بنیادی نوعیت کی حقیقی ٹیکنولوجیاں خرید نہیں سکتے۔ یہ درست کہا جاتا ہے کہ ’کسی ریاست کے سب سے کارگر ہتھیار کو سب کے سامنے نہیں لانا چاہیے۔‘ ہماری ٹیکنولوجی ترقی یافتہ ملکوں کی ٹیکنولوجی سے پیچھے ہے اور ہمیں فوائد کے حصول کے لیے ان ملکوں سے آگے نکلنے کے لیے غیر معمولی حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔‘‘
انٹرنیٹ کا استعمال: انٹرنیٹ کے متعارف کروائے جانے کے وقت سے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے راہنما اسے تخریب اور جاسوسی کے لیے استعمال کیے جانے کے بارے میں فکر مند ہیں۔ صدر شی جِن پِنگ نے اگست 2013ء میں پروپیگنڈا کے موضوع پر تقریر کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سی آئی اے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے امریکا کی نگرانی کرنے کی جو اہلیتیں افشا کی ہیں، ان کے بارے میں انھیں تشویش ہے۔ ’’رائے عامہ پر قابو پانے کی کش مکش میں انٹرنیٹ سب سے بڑا میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ بعض ساتھیوں نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ ’سب سے بڑا تغیر‘ ہے جس کا ہمیں سامنا ہے اور اگر ہم اس سے درست انداز سے نبرد آزما نہیں ہوں گے تو یہ ’ہمارے ذہنوں پر مسلط عذاب بن جائے گا۔‘ چین مخالف مغربی طاقتیں ’چین کو چِت کرنے کے لیے‘ انٹرنیٹ کو مستقلاً استعمال کر رہی ہیں مگر وہ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہی ہیں۔ برسوں پہلے بعض مغربی سیاست دانوں نے اعلان کیا تھا کہ ’انٹرنیٹ کی صورت میں ہمیں چین سے نبرد آزما ہونے کا وسیلہ دست یاب ہو گیا ہے‘ اور ’سوشلسٹ ملک خود بخود مغرب کے سامنے سپر انداز ہو جائیں گے۔‘ امریکا کے تناظر سے دیکھا جائے تو ’ایکس کی سکور‘ اور نگرانی کے دوسرے پروگرام، نگرانی کی اہلیتیں اور اس حوالے سے انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کا دائرہ ہر کسی کی سوچ سے بھی زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ ہم انٹرنیٹ پر جاری یہ جنگ جیتتے ہیں یا نہیں، اس کا براہِ راست اثر ہمارے ملک کی نظریاتی اور سیاسی سلامتی پر پڑے گا۔‘‘
فوجی برتری کی دوڑ: چین اپنی فوج کو بہتر بنانے پر بھاری رقوم خرچ کر رہا ہے۔ دسمبر 2014ء میں صدر شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں چین کے فوجی افسروں کو خبردار کیا کہ خدشہ ہے امریکا ٹیکنولوجی کے میدان میں ان پر سبقت پا سکتا ہے۔ ’’ایک نیا ٹیکنولوجیکل اور صنعتی انقلاب برپا ہو رہا ہے، فوجی معاملات میں برپا ہونے والے عالم گیر انقلاب کی رفتار تیز ہوتی جا رہی ہے اور بین الاقوامی فوجی مقابلے کے انداز میں تاریخی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ امریکافوجی معاملات میں برپا ہونے والے اس انقلاب کا قائد ہے۔ بہت سے شعبے ایسے ہیں جن میں اس نے سب سے پہلے اقدامات کیے ہیں اور وہ فوجی ٹیکنولوجیوں میں بھی نئے فوائد حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ امریکا عالمی سطح پر تیزی سے حملہ کرنے کی اہلیتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور اس کے بعض جدید ہتھیار تیکینکی اعتبار سے زمان و مکاں کی حدود توڑ چکے ہیں۔ انھیں حقیقی جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا تو وہ حملے اور دفاع کے روایتی طریقوں کو بنیادی اعتبار سے کاملاً تبدیل کر دیں گے۔‘‘
چھپے ہوئے مالیاتی خطرے: چین کی قیادت بڑھتے ہوئے قرض سے پیدا ہونے والے مالیاتی خطروں کو ختم کرنے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ فعال ہوتی جا رہی ہے اور صدر شی جِن پِنگ نے دسمبر 2016ء میں اپنی ایک تقریر میں جن خیالات کا اظہار کیا، ان سے پتا چلتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ ’’اس وقت مالیاتی خطرے انتہائی سنگین اور کثیر ہیں۔ اگرچہ ایسے مالیاتی خطرے عمومی طور سے قابو میں ہیں، جو سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام کا حصہ ہیں لیکن غیرفعال اثاثے، لیکوئڈٹی، بانڈ ڈیفالٹس، شیڈو بینکس، خارجی دھچکے، پراپرٹی ببل، حکومتی قرض اور انٹرنیٹ فنانسنگ کی وجہ سے خطروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ فنانشل مارکیٹس میں بھی افراتفری ہے۔ بعض مالیاتی خطرے طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ وہ مرض کے منڈلاتے ہوئے سرچشمے ہیں جو بہت گہرائی میں چھپے ہوئے ہیں اور اچانک پھٹ سکتے ہیں۔ امریکا کا قرض کا بحران ایک ہی رات میں پھٹ پڑا تھا۔ اگر ہمیں مستقبل میں کسی بڑی مشکل کا سامنا ہوا تو وہ اسی شعبے میں رونما ہو گی۔ چناں چہ ہمیں اس شعبے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘
آلودگی کے حوالے سے بے چینی: صدر شی جِن پِنگ سموگ، مٹی کے زہر آلود ہونے اور دوسری آلودگیوں کے خلاف چین کی حکومت کی کوششوں میں تیزی لا چکے ہیں۔ مئی 2013ء میں انھوں نے اپنی تقریر میں اس موضوع پر جن خیالات کا اظہار کیا تھا، ان سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ عوام کے غصے اور احتجاجوں کے حوالے سے کس قدر فکر مند ہیں، جنھیں چینی حکام ’’عوامی واقعات‘‘ کہتے ہیں۔ ’’عوام ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے انتہائی پریشان ہے اور عوام کی خوشی کے اشاریوں میں ماحولیاتی مسائل کا درجہ زیادہ سے زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ جب معیشت اور معاشرہ ترقی کرتے ہیں اور لوگوں کے معیاراتِ زندگی اونچے ہوتے ہیں تو ماحولیاتی مسائل عوام میں بے چینی پیدا ہونے کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں اور اگر ان سے درست انداز میں نمٹا نہیں جائے تو ان کی وجہ سے اکثر اوقات عوامی واقعات رونما ہوتے ہیں۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛ انتخاب: دنیا ریسرچ سیل؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

http://e.dunya.com.pk/detail.php?date=2018-05-16&edition=LHR&id=3912531_39273449

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...