Wednesday, June 6, 2018

دنیا پر امریکا کے غلبے کی تاریخ

دنیا پر امریکا کے غلبے کی تاریخ

عبدالرحمان عمر

1776ء میں اعلانِ آزادی سے تھوڑا پہلے کانگریس نے امریکا کی تمام بندرگاہیں دنیا کے ہراُس علاقے سے تجارت کے کھول دی تھیں جس پر برطانیہ کا اقتدار قائم نہیں تھا۔امریکی اپنے اثر و رسوخ کو توسیع دینے اور بین الاقوامی تجارت میں حصہ لینے کے مشتاق تھے۔ صرف بیس سال کے عرصے میں امریکہ کی تجارت بین الاقوامی سطح پر خوب فروغ پا چکی تھی۔ بہرکیف شمالی افریقا میں بحیرۂ روم کے ساحلوں پر صدیوں سے غارت گری مچانے والے بربر قزاقوں نے امریکی بحری جہازوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ 1801ء میں تھامس جیفرسن نے عہدۂ صدارت سنبھالا ہی تھا کہ طرابلس کے پاشا یوسف کرمانلی نے نئی امریکی حکومت سے خراج طلب کیا، جو 2017ء کی شرحِ مبادلہ کے مطابق تینتیس لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی تھا۔ اس سے پہلے امریکا اپنے بحری جہازوں کو نقصان سے محفوظ رکھنے کی غرض سے الجزائر کے حکمران کو اسی طرح خراج ادا کر چکا تھا لیکن تھامس جیفرسن نے دیکھا کہ خراج کا یہ نظام امریکا کی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس لیے اس نے خراج ادا کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ پاشا یوسف کرمانلی نے خراج ادا کیے جانے کا مطالبہ امریکا کے صدر کی طرف سے مسترد کیے جانے پر اعلانِ جنگ کے روایتی قاعدے کے مطابق طرابلس میں امریکی قونصلیٹ کے سامنے ایک کھمبے پر لہراتا امریکی پرچم کاٹ کر پھنکوا دیا۔ اس واقعے کے بعد دونوں فریقوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کئی سال جاری رہا۔ آخر 1805ء میں پاشا یوسف کرمانلی نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور امریکا اس جنگ میں فتح یاب قرار پایا۔ بربری جنگوں کے ذریعے امریکا کا بین الاقوامی سٹیج پر نمودار ہونا اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی غلبے کے لیے اس کا کوشش کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔
بربری جنگوں کا تجزیہ اس تناظر میں کیا جانا ضروری ہے کہ ان میں شامل ہونے سے تھوڑا عرصہ پہلے ہی امریکا نے طویل جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی تھی۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے بانیوں نے برطانیہ کے بادشاہ جارج سوم کی بادشاہت سے آزادی کا اعلان 1776ء میں کیا تھا اور اس کے محض پچیس سال بعد اس کے بحری جہاز بحرِ اوقیانوس کے پار شمالی افریقا کے ساحلوں پر نیم خود مختار عثمانی ریاستوں کے ساتھ براہِ راست تصادم کے لیے آمادہ و تیار تھا۔ جب پاشا یوسف کرمانلی نے چیلنج کیا تو ’’نوجوان‘‘ امریکی ریاست نے اپنے بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے تجربہ کار قزاقوں کے خلاف میدانِ جنگ میں اترنے میں ذرا بھی تأمل نہیں کیا تھا حالاں کہ اُس زمانے میں برطانیہ اور دوسری مغربی طاقتوں کے غلبے والی دنیا میں امریکا ایک چھوٹا کھلاڑی تھا۔ بربری جنگوں سے عیاں ہوتاہے کہ امریکا ابتدا ہی سے طاقت کی بین الاقوامی کش مکش میں شامل ہو گیا تھا اور اکثر اوقات اس کا رویہ جارحانہ ہوتا تھا۔ اس زمانے کی انارکی سے بھری دنیا میں امریکا نے آغاز ہی میں فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہر جگہ جائے گا اور جہاں بھی جائے گا اپنی خود مختاری ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔ بیسویں صدی کے آغاز تک بین الاقوامی سٹیج پر اپنے مفادات کے لیے عمل کرتے ہوئے امریکا کے پاس کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہوتا تھا۔ اسے کہیں بھی حملے کرنے اور تباہی مچانے کی آزادی حاصل تھی بشرطے کہ کسی غالب یورپی کھلاڑی کی سرحدوں کو عبور نہ کرے اور اس کے مفادات کو زک نہ پہنچائے۔
1941ء میں یعنی دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے دو سال بعد امریکادوسری عالمی جنگ میں اس وقت باقاعدہ شامل ہواجب پرل ہاربر پر حملہ کیا گیا۔اگرچہ پرل ہاربرپر حملہ کیے جانے تک اس نے اپنی رسمی غیر جانب داری برقرار رکھی تھی، تاہم وہ اتحادیوں کو مدد فراہم کر کے جنگ میں پہلے ہی سے شامل تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ جنگ اس کی سلامتی اور تجارتی راستوں کے لیے خطرہ ہے۔ جب برطانیہ کے دوش بدوش امریکا میدانِ جنگ میں اترا تو اس اقدام کے حوالے سے یوں پروپیگنڈا کیا گیا جیسے یہ ایک نظریاتی جنگ ہے اور برطانیہ و امریکا دنیا میں ’’جمہوریت کے دفاع‘‘ کے لیے جنگ میں شامل ہوئے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک انتہائی سادہ بیانیہ تھا۔ جنگ میں شامل ہونا امریکا کے ذاتی مفادات کا سوال تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر جرمنی جنگ میں فتح یاب ہوا اور پورے یورپ پر اس کا غلبہ قائم ہو گیا تو امریکا کی تجارت طویل عرصے کے لیے متاثر ہو گی۔
جب آخرِ کار اتحادی جنگ میں فتح یاب ہوئے تو بین الاقوامی سٹیج پر غالب بیانیہ میں نازیوں اور جاپان کے ظلم و ستم کی داستانوں کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہوا جس میں فوجی مداخلت کے قانونی ہونے کے علاوہ ’’اخلاقیات‘‘ کا سوال پہلی مرتبہ اٹھایا گیا اور ڈریسڈن کے جرمن شہریوں پر اتحادیوں کی بم باری یا جاپانی شہریوں پر گرائے گئے امریکی ایٹم بموں کو جنگ ختم کرنے کے لیے’’ضروری اقدامات‘‘ قرار دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ اس امید کے ساتھ قائم کی گئی کہ وہ مستقبل میں مفادات کی ایسی ہول ناک جنگ نہیں ہونے دے گی۔
دوسری عالمی جنگ کے ختم ہوتے ہی اس عالمی نظام کا بھی خاتمہ ہو گیا جس میں یورپ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ یورپی طاقتوں کے پسپا ہونے سے امریکا خود بخود دنیا کی غالب فوجی طاقت بن گیا۔ چوں کہ پوری جنگ کے دوران امریکا نے اپنے آپ کو فاشسٹ جارحیت کے خلاف آزادی کے محافظ کی حیثیت سے پیش کیا تھا اس لیے تاریخ کے اس موڑ پر وہ دنیا کی اوّلین ’’اخلاقی سپر پاور‘‘ بھی بن گیا۔اس نے دنیا میں امن و امان کے قیام کی ذمہ داری سنبھال لی لیکن اپنے اس نئے کردار کو طاقت کی جارحانہ کش مکش میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اس کی بجائے وہ بربری جنگوں تک جو کچھ کرتا آیا تھا وہی کچھ یعنی اپنے قومی مفادات کا تحفظ اور معاشی و فوجی غلبہ قائم کرنے کے لیے اس نئی ’’اخلاقی‘‘ حرکیات کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ پوری سرد جنگ کے دوران امریکا ’’کمیونسٹ خطرے‘‘ کے خلاف اپنے آپ کو ایک اخلاقی قوت کی حیثیت سے پیش کرتا رہا۔ اس عرصے کے دوران پروپیگنڈا کے سراب سے باہر جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر لاطینی امریکا تک پوری دنیا میں امریکا کے اخلاقی اعتبار سے واقعتاً ابہام زدہ اقدامات سے عیاں ہوتا ہے کہ اس نے اپنے اقدامات کے لیے جو جو اخلاقی جواز پیش کیے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں تھے۔ سوویت یونین کو تازہ تازہ قائم ہونے والے عالمی نظام کے لیے خطرے کی حیثیت سے پیش کر کے امریکا نے اپنے اتحادیوں کو قائل کر لیا کہ تمام تر جارحانہ و غیراخلاقی اقدامات کے باوجود وہ خیر کے لیے سرگرمِ عمل قوت ہے۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکا بین الاقوامی تعلقات میں کارفرما قوانین اور ضوابط کے حوالے سے صرف دکھاوے کے اقدمات کرتے ہوئے اپنے مفادات کے لیے جارحانہ انداز سے عمل کرتا رہا۔ صرف اس مرتبہ ایسا تھا کہ کوئی بڑا حریف سامنے نہیں تھا۔ اکیسویں صدی میں امریکا کی منافقانہ اخلاقی برتری اس وقت کھل کرسامنے آ گئی جب مارچ 2003ء میں صدر جارج ڈبلیو بش نے ’’آپریشن عراقی فریڈم‘‘ کا آغاز کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں، جس کے لیے اب اچھے خیالات کا اظہار نہیں کیا جاتا، عراقیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’ان کی آزادی کا دن نزدیک ہے۔‘‘ بش حکومت نے اس اقدام کو منصفانہ اقدام ثابت کرنے کی غرض سے کہا کہ عراق کے حکمرانوں نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنا لیے ہیں اور انھیں استعمال بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ عراقی حکومت پر انسانی حقوق پامال کرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔ بش حکومت نے اپنے اقدامات کے لیے یہ جواز پیش کیا کہ عراقی عوام کو امریکا کے جمہوریت اور آزادی کے مثالیوں کی ضرورت ہے۔ بہرحال دنیا کو بعد میں پتا چلا کہ عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں جو دعوے کیے گئے تھے، وہ سراسر جھوٹ تھے اور اس حملے کا نتیجہ ویسا یوٹوپیائی نہیں تھا جیسا کہ آغاز میں کہا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ امر واضح ہوتا گیا کہ امریکا نے ایک خود مختار ملک پر حملہ آزادی اور جمہوریت کے لیے نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات کے لیے کیا تھا۔ لاکھوں معصوم انسان مارے گئے جب کہ موت سے بچ جانے والے لاکھوں ہی انسانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے برباد ہو گئیں۔ پندرہ سال گزر جانے کے بعد بھی عراقی ریاست انتشار کی شکار ہے۔ امریکا بہت طویل عرصے سے آزادی اور جمہوریت جیسے مجرد تصورات استعمال کر کے بین الاقوامی برادری کو یقین دلا رہا ہے کہ وہ اخلاقی اور مبنی بر انصاف مقاصد کے لیے جنگیں لڑ رہا ہے لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا نے اخلاقیات کا جو بھاری لبادہ پہنا تھا، وہ آخرِ کار اترنے لگا ہے۔ شمالی و جنوبی کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان کی عسکری دلدلوں میں دھنسنے کے بعد امریکا کا تاثر بری طرح خراب ہوا ہے۔ ممکن ہے آج امریکی فوج دنیا کی بہترین ..... اور مؤثر ترین .....فوج ہو لیکن امریکا اخلاقی برتری سے محروم ہو چکا ہے۔ بربری جنگوں کے ذریعے امریکا نے عالمی سٹیج کے قوانین طے کیے تھے اور اپنے غلبے کو چیلنج کرنے والوں کو مٹا ڈالا تھا۔ امریکا ابتدا ہی سے اپنے آپ کو دنیا میں جس انداز سے پیش کرتا آیا ہے، اس میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ وہ کچھ عرصہ تو دنیا پر اپنا غلبہ قائم کرنے کے اپنے جارحانہ اقدامات کو اخلاقیات کے جھوٹے جوازوں کے پردے میں چھپانے میں کامیاب ہوا لیکن اب اس کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔

(بشکریہ الجزیرہ ٹی وی؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

کراچی: شدید گرمی کی لہر المیہ بن گئی

کراچی: شدید گرمی کی لہر المیہ بن گئی

مہر احمد

پاکستان کے عظیم ساحلی شہر کراچی میں سال کے اس حصے میں گرمی کی لہریں معمول بن چکی ہیں۔اس سال بھی گرمی کی تازہ ترین لہر نے اس شہر کے دو کروڑ باسیوں کو نشانہ بنایا ہے جب کہ وہ اس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ جب پچھلے ہفتے درجۂ حرارت 44درجہ سیلسیئس تک پہنچ گیا اور لوگوں کو سایے میں بھی یوں محسوس ہونے لگا جیسے وہ بخار میں مبتلا ہوں، تب اس گرمی سے بچنے سے قاصر لوگ اپنے دن سستی سے گزارتے ہوئے اسی طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ سڑکوں اور سیمنٹ سے تعمیر کردہ عمارتوں سے رات کے وقت بھی خارج ہوتی گرمی کو شہر کے سبزے کے فقدان نے مزید اذیت دہ بنا دیا۔ جو لوگ اپنے گھروں اور دکانوں میں ائیرکنڈیشنر لگوانے کی استطاعت رکھتے تھے، انھوں نے ایئرکنڈیشنر چلا لیے ہیں لیکن زیادہ تر لوگوں کے پاس انتہا کی گرمی سے بچنے کے چند ایک ہی راستے ہیں۔ ان میں شامل ہیں پانی سے بھگوئے ہوئے تولیے اور بجلی سے چلنے والے پنکھے۔ بجلی سے چلنے والے پنکھے صرف اُن چند گھنٹوں ہی کے دوران کام کرتے ہیں جن میں بجلی ہوتی ہے۔ سڑکوں پر عموماً ٹریفک بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن دوپہر کے وقت سڑکیں بھی ویران ہو جاتی ہیں۔ ٹریفک پولیس کے سپاہی اپنی چھتریوں کے نیچے سے نکل کر کاروں کی طرف عدم دل چسپی اور توانائی سے محرومی کی کیفیت میں آتے ہیں جب کہ لوگ انھیں کھڑا کر کے کسی عمارت کے اندر چلے گئے ہوتے ہیں یا چند لمحوں کے لیے شہر کے بہت سارے کنکریٹ کے میناروں کے سایے میں چھپ جاتے ہیں ۔۔۔ کوئی بھی جگہ جہاں تھوڑا بہت سکون و آرام مل سکے۔ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے آغاز کے چند دن بعد 18مئی کو گرمی انتہا کو پہنچ گئی ۔۔۔ اس مہینے کے دوران تمام جسمانی اعتبار سے اہل مسلمانوں پر فرض ہے کہ سورج طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک کچھ بھی نہ کھائیں پئیں۔ اس دورانیے نے خوف انگیز درجۂ حرارت کے اثرات بڑھا دیے ہیں۔ کراچی میں سب سے زیادہ تعداد میں ایمبولینسوں اور مرکزی مردہ خانے کے حامل امدادی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پینسٹھ تک پہنچ چکی ہے۔ سرکاری افسران اس تعداد سے اختلاف کرتے ہیں۔ چار دن بعد انتہا کی گرمی میں تھوڑی کمی آئی۔۔۔ درجۂ حرارت گھٹ کر تینتیس درجے سیلسیئس ہو گیا ۔ گرمی کی شدت کے باعث جان کھو دینے والوں میں تیس سالہ طیبہ فیروز بھی شامل تھیں۔ ان کے خاوند محمد شیراز نے بتایا کہ وہ 20مئی کی شام اپنے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے لگیں تو انھیں بہت گرمی لگ رہی تھی لیکن ان کی طبیعت خراب نہیں تھی۔ اس روز طیبہ فیروز کا روزہ نہیں تھا کیوں کہ وہ حمل سے تھیں اور حاملہ عورتوں کو اس مذہبی فریضے سے استثنا حاصل ہے۔ ان کے محلے میں بجلی روزانہ تقریباً چھ گھنٹے نہیں ہوتی تھی۔ یہ محلہ شہر کے شمالی حصے کا انتہائی غریب اور بے سروسامان لوگوں کا کثیر آبادی والا محلہ ہے۔ اس محلے کے باسی بجلی کے آنے کے وقت کے حساب سے اپنے کام کاج کرتے ہیں۔ طیبہ فیروز کے خاوند نے بتایا کہ بجلی دوبارہ چلی گئی تھی۔ اس کے باوجود انھوں نے اصرار کیا کہ وہ گھر والوں کے لیے کھانا پکائیں گی۔ ان کے خاوند محمد شیراز نے بتایا کہ کھانا پکانے کے لیے چولہے کی طرف جانے سے پہلے وہ اپنے تین سالہ بیٹے کے ساتھ ہنس کھیل رہی تھیں۔ چند ہی منٹ بعد وہ گر یں اور اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ اس کے ایک ہفتے بعد ان کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کرنے والے محمد شیرازابھی تک اپنی بیوی کی اچانک وفات پر صدمے سے نڈھال تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں لگتا ہے کہ وہ پانی کی کمی اور چولھے سے نکلنے والی حرارت کے باعث ہلاک ہوئی تھیں۔انھوں نے کہا کہ انھیں احساسِ خطا بھی ہے کیوں کہ ایدھی فاؤنڈیشن کی ایک ایمبولینس کا ڈرائیور ہونے کے ناتے انھیں گرمی لگنے کی علامات کا علم ہے۔ اپنے بیٹے کو گود میں اٹھائے محمد شیراز نے کہا پچھلے تیس برسوں کے دوران وہ کم از کم دو درجن افراد کو گرمی لگنے سے ہلاک ہوتا دیکھ چکے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں جون 2015ء میں ہوئی تھیں، جب کراچی تاریخ کی مہلک ترین گرمی کی لہر کی لپیٹ میں آیا تھا۔ اُس سال دو ہفتوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہسپتالوں میں جگہ نہیں رہی تھی جب کہ ایمرجینسی میں امدادی کارروائیاں کرنے والے نڈھال ہو کر رہ گئے تھے۔
محمد شیراز نے بتایا ، ’’میں نے لوگوں کو سڑکوں پر چلتے چلتے گرتے اور اللہ کو پیارے ہوتے دیکھا ہے۔ ہماری ایمبولینسوں کے پیچھے لوگ مر جاتے تھے۔ اموات نان سٹاپ ہو رہی تھیں۔‘‘ فیصل ایدھی نے، جن کے خاندان نے ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز کیا تھا، بتایا کہ انھیں یقین ہے 2015ء میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اس سے پہلے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بیشتر ہلاکتوں کی خبریں کسی کو ملی ہی نہیں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے ادارے نے اِس سال پینسٹھ افراد کے گرمی سے ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے۔ یہ وہ ہلاکتیں ہیں، جو کراچی میں ہوئی ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔‘‘انھوں نے کہا، ’’امکان ہے کہ شہر کے باہر درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہوں گے لیکن ہمارے پاس اِن ہلاکتوں کا ریکارڈ نہیں ہے۔‘‘ فیصل ایدھی نے کہا کہ گرمی کی لہر کے دوران مردے خانے میں لاشیں معمول کی تعداد سے دگنی زیادہ تعداد میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مقامی حکومت کو گرمی سے نبرد آزما ہونے میں لوگوں کی زیادہ مدد کرنا چاہیے۔ شہر کی انتظامیہ نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں اب تک کچھ نہیں بتایا اور شہر کے حاکمِ اعلیٰ کہتے ہیں کہ گرمی لگنے سے کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا بلکہ گرمی سے متعلقہ مسائل جیسے کہ پانی کی کمی وغیرہ سے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ کراچی کے ایک سب سے بڑے ہسپتال جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمیں جمالی نے کہا کہ شہر نے 2015ء کے تجربات سے سبق سیکھا ہے۔ انھوں نے کہا، ’’اب صورتِ حال ہمارے قابو میں ہے۔‘‘اُس وقت سے گرمی کی لہریں تواتر سے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں لیکن اُس گرمی کی لہر کے بعد گرمی کی موجودہ لہر بدترین نوعیت کی ہے۔ رمضان کے دوران پاکستان میں سرِ عام کھانے پینے پر امتناع عائد کر دیا جاتا ہے۔ جو کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا پایا جائے اسے تین ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ کراچی کے سب سے بڑے مذہبی ادارے کے سربراہ مفتی محمد نعیم نے کہا کہ اسلامی فقہ موسمِ گرما میں روزے رکھنے کے باب میں واضح ہے۔ انھوں نے کہا، ’’اگر آپ قریب المرگ ہوں تو روزہ توڑا جا سکتا ہے لیکن ڈاکٹر ان دنوں تھوڑے سے گرم موسم میں بھی پانی پینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ شرع کے خلاف ہے۔‘‘ شہر میں ان کی باتوں کو کافی مانا جاتا ہے، جس سے مذہبی احکام پر سختی سے عمل کرنے والے لوگوں کے لیے درمیانی راستا مہیا ہوتا ہے کہ جب شہر کا درجۂ حرارت بڑھے تو وہ تھکن اور گرمی لگنے کے خطرے اور مذہبی تقاضوں میں توازن سے کام لیں۔ ایک تخمینے کے مطابق کراچی کی 61فی صد آبادی شہر کے مضافات میں جھونپڑ پٹیوں میں کنکریٹ سے تعمیر کیے جانے والے بے ہنگم مکانوں میں رہتی ہے۔ ان محلوں کے لوگوں کو گرمی کے علاوہ بہت سے دوسرے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ شہر کا پانی کا محکمہ کہتا ہے کہ اس کی 42فی صد سپلائی، جو تقریباً دو کروڑ افراد کے لیے کافی ہے، چرا لی جاتی ہے یا ’’کھو‘‘ جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پہلے سے بارانی آب و ہوا میں پانی کی انتہائی قلت واقع ہو چکی ہے۔شہر کے غریب لوگ بہت اونچی قیمت پر ملنے والا پانی خریدنے سے قاصر ہیں۔ گرمی سے ہلاک ہونے والی محولہ بالا طیبہ فیروز کے خاوند محمد شیراز نے کہا کہ وہ ایک مجرم گروہ سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں حالاں کہ ان کے گھر میں پانی کا کنکشن لگا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا، ’’ہماری ٹوٹیوں میں پانی کبھی نہیں آتا۔ پانی وہیں چرا لیا جاتاہے، جہاں سے وہ فراہم کیا جاتا ہے چناں چہ ہمیں ان مجرموں سے پانی خریدنا پڑتا ہے۔‘‘ شہری حکام اور پولیس نے مجرم گروپوں کو ختم کرنے کی کوششیں کی ہیں اور حالیہ برسوں میں بجلی کے تعطل پر بھی تھوڑا بہت قابو پا لیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اپریل میں کراچی میں بجلی کی فراہمی میں تعطل آ گیا تھا کیوں کہ شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے اور اسے گیس فراہم کرنے والے محکمے کے مابین جھگڑا کھڑا ہو گیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پانی اور بجلی کی متواتر فراہمی سے محروم شہر کے غریب ترین لوگ گرمی کا مقابلہ کرنے سے بے بس ہو گئے۔ فیصل ایدھی نے اموات سے متعلق اپنا ریکارڈ دیکھتے ہوئے بتایا کہ پچھلے ہفتے ہلاک ہونے والے تقریباً تمام افراد کا تعلق جھونپڑ پٹیوں سے تھا، جہاں زیادہ تر شہر کا مزدور طبقہ آباد ہے۔ محمد شیراز اپنی بیوی کی وفات کے بعد دس دن سوگ میں گزارنے کے بعد ایمبولینس پر اپنی ڈیوٹی انجام دینے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا، ’’بلا شبہ میں روزے رکھ رہا ہوں۔ میں صبح اپنی بیوی کی قبر پر فاتحہ پڑھوں گا اور ایدھی فاؤنڈیشن میں اپنی ڈیوٹی ادا کرنے پہنچ جاؤں گا۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

بھارت کے انتخابات اور سوشل میڈیا

بھارت کے انتخابات اور سوشل میڈیا

وِندو گوئل

پچھلے ہفتے بھارت کے گرم و مرطوب جنوب مغربی ساحلی شہر منگلور میں پرنو بھٹ بہت بڑا زعفرانی جھنڈا لہراتے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے جلسے میں شریک ہوئے۔ اٹھارہ سالہ پرنو بھٹ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ ایک وسیع و عریض میدان میں گھوم پھر رہے تھے۔ وہ نریندر مودی اور ہندو سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں اس ریاست کا کنٹرول نسبتاً سیکولر سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس سے چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔ بہرحال زیادہ زوردار سیاسی مہم سڑکوں اور گلیوں بازاروں کی بجائے واٹس ایپ پر زیادہ زور شور سے مہم چلائی جا رہی تھی۔ واٹس ایپ ایک میسجنگ سروس ہے جس کی مالک فیس بک ہے اور بھارت میں واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً پچیس کروڑ ہے۔ پرنو بھٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نوجوان راہنما ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ واٹس ایپ پر اُن ساٹھ ووٹروں کے ساتھ مستقل رابطے میں رہتے ہیں، جن کے ساتھ رابطہ رکھنے کی ذمہ داری پارٹی کی طرف سے انھیں سونپی گئی ہے۔ وہ انھیں واٹس ایپ کے ذریعے کرناٹک کی ریاستی حکومت پر تنقید، مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ہندووں کے حوالے سے خبریں اور ایسے لطیفے بھیجتے ہیں جن میں کانگریس کے راہنماؤں کا مذاق اڑایا گیا ہوتا ہے۔ انھی میں وہ جھوٹی خبر بھی شامل تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ جہادیوں نے 23کارکنوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان کی اپنی واٹس ایپ سٹریم انتخابات سے متعلقہ اپ ڈیٹس، بی جے پی کی حمایت میں بنائی جانے والی ویڈیوز اور جعلی خبروں سے بھری ہوئی تھی۔ ان جعلی خبروں میں وہ جعلی سروے بھی شامل تھا جسے بی بی سی سے منسوب کیا گیا تھا اور جس میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ بی جے پی انتخابات میں صفایا کر دے گی۔ کالج کے طالبِ علم پرنو بھٹ نے مجھے بتایا، ’’ہر منٹ میں مجھے کوئی نہ کوئی میسیج ملتا ہے۔‘‘ فیس بک کی مقبول میسجنگ ایپ ’’واٹس ایپ‘‘ ترقی پذیر ملکوں کے انتخابات میں مرکزی کردار حاصل کرتی جا رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں بھارت کی سیاسی جماعتوں، مذہبی کارکنوں اور دیگرافراد نے دوسرے سماجی ذرائع ابلاغ یا میسجنگ ایپس کی نسبت واٹس ایپ کو زیادہ استعمال کیا اور کرناٹک کے چار کروڑ نوے لاکھ ووٹروں تک پیغامات بھیجے۔ بہت سے پیغامات انتخابی مہم کے عام پیغامات تھے لیکن بعض پیغامات مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی نیت سے بھی بھیجے گئے تھے جب کہ بعض پیغامات سراسر جھوٹے اور غلط تھے، جن کے بارے میں پتا لگانا دشوار تھا کہ انھیں سب سے پہلے کس نے بھیجا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور انڈین نیشنل کانگریس نے دعویٰ کیا کہ 12مئی کو ہونے والے ریاستی انتخابات سے پہلے انھوں نے اپنے اپنے پیغامات پھیلانے کی غرض سے واٹس ایپ پر 50,000گروپ بنائے تھے۔ ان پچاس ہزار گروپوں کے ساتھ ساتھ ایسے گروپ بھی سرگرمِ عمل تھے جن کے بنانے والوں کا کوئی پتا نہیں تھا اور جو ریاست کے ہندووں اور مسلمانوں میں تفرقہ بڑھانے اور دونوں مذاہب کے ماننے والوں میں اشتعال پیدا کرنے والی ویڈیوز، آڈیو کلپس، پوسٹس اور جھوٹی خبریں پھیلا رہے تھے۔ بی بی سی سے منسوب ایک قبل از انتخاب جعلی سروے بڑے پیمانے پر واٹس ایپ پر پھیلایا گیا۔ اس سروے میں، جس کے اوّلین بھیجنے والے کا کسی کو پتا نہیں، پیش گوئی کی گئی تھی کہ کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، جو اُس وقت ریاستی اسمبلی میں بہت تھوڑی نشستوں کی حامل تھی، زبردست کامیابی حاصل کرے گی۔ ایک اور جعلی سروے نئی دہلی میں قائم امریکا کے سفارت خانے سے منسوب کیا گیا تھا۔ ایسے جعلی سروے واٹس ایپ پر لڑی جانے والی سیاسی جنگ میں عام استعمال کیے گئے۔دائیں بازو کے ہندو گروپوں نے ایک ویڈیو کثرت سے بھیجی جس میں دکھایا گیا تھا کہ ہجوم نے ایک عورت کو مار مار کر ہلاک کر دیا۔ جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ عورت ہندو اور ہجوم مسلمانوں کا تھا حالاں کہ وہ ویڈیو گوئٹے مالا کے ایک واقعے کی تھی۔ کسی نامعلوم شخص کی بھیجی ہوئی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں زور دیا گیا تھا کہ ریاست کرناٹک کے سارے مسلمان ’’اپنی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے‘‘ کانگریس پارٹی کو ووٹ دیں۔ ایک اور واٹس ایپ پیغام میں ہندووں کو مشوہ دیا گیا تھا کہ بی جے پی کو ووٹ دیں کیوں کہ ’’یہ محض انتخاب نہیں، مذاہب کی جنگ ہے۔‘‘
بھارت کی ساری ریاستوں کی طرح کرناٹک میں بھی ہندو اکثریت میں ہیں۔ بھارت کی ہر ریاست کی انتخابی سیاست کا سب سے عام حربہ یہ ہے کہ مسلمانوں اور ہنددوں کو ایک دوسرے کا حریف بنا دیا جاتا ہے جب کہ ہندووں کی مختلف ذاتوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل صف آرا کر دیا جاتا ہے۔ ’’عام آدمی پارٹی‘‘ نے کرناٹک کی قانون ساز اسمبلی کی دو سو چوبیس نشستوں میں سے اٹھائیس نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے۔ عام آدمی پارٹی کے چوٹی کے حکمت کار انکیت لال نے کہا کہ واٹس ایپ ڈیجیٹل انتخابی مہم میں سب سے اہم بن گئی۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم ٹوئٹر پر گتھم گتھا ہیں۔ ہم فیس بک پر معرکہ آرا ہیں۔ ہم واٹس ایپ پر جنگ لڑ رہے ہیں۔‘‘ ووٹروں کو متاثر کرنے میں واٹس ایپ نے جو کردار ادا کیا، اسے اُس کی ’’سسٹر سروسز‘‘ فیس بک اور اس کے فوٹو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹا گرام کے مقابلے میں کم توجہ دی گئی۔ 2016ء کے امریکا کے صدر کے انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران روسی ایجنٹوں نے جس طرح فیس بک اور انسٹا گرام استعمال کرنے والوں کی رائے پر اثر ڈالا، اس کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں ان دونوں سروسز کی سختی سے جانچ پڑتال کی گئی ہے۔ واٹس ایپ اس باعث اس سخت جانچ پڑتال سے بچ گئی کہ اسے زیادہ تر امریکا کے باہر استعمال کیا جاتا ہے ۔ بھارت، برازیل اور انڈونیشیا جیسے ملکوں کے لوگ واٹس ایپ پر روزانہ 60ارب پیغامات بھیجتے ہیں۔ فیس بک اور انسٹا گرام پر تو لوگوں کی سرگرمیاں بڑی حد تک آن لائن سب کے سامنے ہوتی ہیں لیکن واٹس ایپ پر لوگوں کی سرگرمیاں عموماً چھپی رہتی ہیں کیوں کہ یہ افراد کے مابین ذاتی گفت و شنید کے لیے ایجاد کی گئی تھی۔ واٹس ایپ کے بہت سی فیچر ایسے ہیں کہ یہ غلط خبریں پھیلانے اور غلط کام کرنے والوں کے لیے سازگار بن گئی ہے۔ لوگ اپنا نام ظاہر کیے بغیر صرف ایک فون نمبر کو اپنی شناخت بنا کر اس پر سرگرم رہ سکتے ہیں۔واٹس ایپ پر ایک گروپ میں دو سو چھپن افراد کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ واٹس ایپ پر گروپ بنانا بہت آسان ہے۔ واٹس ایپ گروپ بنانے والے لوگ اپنے پاس موجود دوسرے لوگوں کے فون نمبروں کے ذریعے انھیں اپنے گروپوں میں شامل کر سکتے ہیں۔ لوگوں میں یہ رجحان بھی پایا گیا ہے کہ وہ ایک وقت میں بہت سارے گروپوں کے رکن بن جاتے ہیں، اس لیے ایک ہی پیغام انھیں بار بار ملتا ہے۔ جب کوئی پیغام موصول ہونے کے بعد مزید لوگوں کو بھیجا جاتا ہے تو سب سے پہلے پیغام بھیجنے والے اصل شخص کے بارے میں کوئی اشارہ تک اس میں شامل نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ پر ہر چیز کو مرموز بنا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کار حتیٰ کہ خود واٹس ایپ بھی اُس وقت تک کسی پیغام کو دیکھ نہیں سکتی جب تک کہ استعمال کنندہ کے فون کی سکرین سامنے نہ ہو۔ گووند راج اتھیراج بھارت میں سیاسی جماعتوں اور حکومت کے دعووں کی حقیقت جانچنے والی دو ویب سائٹوں ’’بوم‘‘ اور ’’انڈیا سپینڈ‘‘ کے بانی ہیں۔ کرناٹک کے ریاستی انتخابات کے دوران ان کی ویب سائٹ ’’بوم‘‘ نے فیس بک کے ساتھ مل کر فیس بک پر نمودار ہونے والی جعلی خبریں شناخت کرنے کا کام کیا۔ گووند راج اتھیراج جعلی خبریں پھیلائے جانے میں واٹس ایپ کے کردار کے باعث اسے ’’موذی ایپ‘‘ قرار دیتے ہیں ۔ اس حوالے سے انھوں نے دل چسپ الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’آپ کا سامنا بھوتوں سے ہے۔‘‘ اگرچہ فیس بک کے چیف ایگزیکٹو مارک زکر برگ نے وعدہ کیا ہے کہ انتخابات پر خفیہ طور سے اثر انداز ہونے والے لوگوں کو آئندہ فیس بک اور انسٹا گرام استعمال نہیں کرنے دی جائیں گی لیکن انھوں نے واٹس ایپ کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ یاد رہے واٹس ایپ کو فیس بک نے 2014ء میں 19ارب ڈالر کے عوض خرید لیا تھا۔جہاں تک واٹس ایپ چلانے والے افراد کا تعلق ہے تو ان کا کہنا ہے کہ وہ واٹس ایپ کے غلط استعمال پر فکر مند ہیں۔ واٹس ایپ کی شرائطِ استعمال کے مطابق نفرت پھیلانے والے پیغامات بھیجنا، تشدد کی دھمکیاں دینا اور جھوٹے بیانات دینا منع ہے۔ چند ہفتے پہلے واٹس ایپ کے سسٹمز نے سراغ لگایا کہ کرناٹک میں کوئی آٹومیشن کے استعمال سے واٹس ایپ پر درجنوں گروپ بہت تیزی سے بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کئی لوگوں نے ایسے گروپوں کی جانب سے ’’سپیم‘‘ بھیجے جانے کی شکایت کی تو کمپنی نے ایسے سارے گروپ بلاک کر دیے۔ واٹس ایپ نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ ان گروپوں کے بنانے کے حوالے سے اسے کس پر شبہ ہے۔ واٹس ایپ نے ایک بیان میں کہا، ’’ہم لوگوں کو گروپوں پر مزید کنٹرول دینے کے سلسلے میں کام کر رہے ہیں اور خودکار طریقے سے بنائے گئے مواد کو بلاک کرنے کے لیے ٹولز بنا رہے ہیں۔‘‘ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو واٹس ایپ کے حفاظتی فیچر کا استعمال سکھانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور لوگوں کو یہ بھی سکھا رہے ہیں کہ وہ جعلی خبروں اور فریب کاری کو کس طرح پہچان سکتے ہیں۔ بھارت کی کانگریس پارٹی، جس نے اس کی آزادی کے بعد کا زیادہ عرصہ اس پر حکومت کی ہے، مرکزی حکومت اور کئی کلیدی ریاستوں کی حکومت کھو چکی ہے لیکن کرناٹک میں وہ اپنا اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب رہی تھی۔ کرناٹک کے حالیہ انتخابات کے نتائج پر واٹس ایپ نے کیا اثر ڈالا، یہ کبھی واضح نہیں ہو سکے گا۔ اگرچہ واٹس ایپ نے ٹیکسٹ میسجز اور ای میل کی جگہ لے لی ہے لیکن انتخابی مہم کے پرانے حربے مثلاً جلسے جلوس، ٹیلی ویژن اور اخبارات میں اشتہارات، گھر گھر جا کر ووٹروں کو قائل کرنا اور ووٹ خریدنا آج بھی غالب ہیں۔
نئی دہلی کے سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے لیے عوام کے انتخابی رویے کا جائزہ لینے کی غرض سے کرناٹک کا دورہ کرنے والے نیلنجن سرکار کہتے ہیں کہ واٹس ایپ کے پیغامات کے سیلاب نے ووٹروں کی سیاسی رائے تو تبدیل نہیں کی لیکن انھوں نے جذبات کو مہمیز ضرور دی اور اُن علاقوں میں ووٹ زیادہ تعداد میں ڈالے جانے کا سبب بنے جہاں ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تفریق زیادہ پائی جاتی ہے۔ نیلنجن سرکار کہتے ہیں، ’’واٹس ایپ نے یہ ضرور کیا ہے کہ وہ لوگوں کو گھروں سے باہر نکال لائی ہے۔‘‘ریاست کرناٹک کے حکام نے بتایا ہے کہ اس مرتبہ 72فی صد ووٹروں نے ووٹ ڈالے، جو 1952ء کے بعد سے ریاست میں ووٹ ڈالے جانے کی تاریخ کی سب سے اونچی شرح ہے۔ جب چار سال پہلے نریندر مودی نے اقتدار حاصل کیا تھاتو اس وقت ووٹروں کو ان کی طرف مائل کرنے میں فیس بک نے سب سے اہم ڈیجیٹل ذریعے کا کردار ادا کیا تھا لیکن پچھلے ڈیڑھ برسوں کے دوران بھارت میں سمارٹ فون کا استعمال بہت زیادہ بڑھ جانے سے واٹس ایپ بھارت میں رابطے کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے اور انتخابی مہم کے پیغامات پھیلانے کے لیے اسے ترجیح دی جا رہی ہے۔ مثال کے طور سے 2017ء کے اوائل میں ہونے والے اتر پردیش کے ریاستی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی انتخابی مہم کے پیغامات ہر ضلع اور ہر بستی تک پہنچانے کے لیے 6,000سے زیادہ واٹس ایپ گروپ بنائے تھے۔وہاں اس کی بھرپور کامیابی نے کانگریس کو تحریک دی کہ وہ بھی اپنی ’’واٹس ایپ آرمی‘‘ کو حرکت میں لائے۔ چناں چہ جب کرناٹک کے ریاستی انتخابات کے لیے سرگرمِ کار ہونے کا وقت آیا تو دونوں جماعتوں نے واٹس ایپ سے بھرپور استفادہ کیا۔ کانگریس پارٹی کے مرکزی ترجمان رَن دیپ سنگھ سرجی والا کہتے ہیں، ’’واٹس ایپ نیوکلیئر چین ری ایکشن کی طرح کام کرتی ہے۔‘‘ کرناٹک کی پچھلی قانون ساز اسمبلی کے رکن یو ٹی کھادر نے پہلی بار انتخابات میں واٹس ایپ کا اثر دیکھا۔ وہ کانگریس پارٹی کے مسلمان رکن ہیں اور حالیہ ریاستی انتخابات کے دوران منگلور پولیس کے بقول ایک نئی طرز کے واٹس ایپ حملے کا ہدف تھے۔ انھیں اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار بنائے جانے کے حوالے سے واٹس ایپ پر ہندووں اور مسلمانوں کے مابین گالم گلوچ اور دھمکیوں سے بھرے آڈیو پیغامات کثرت سے پھیلائے گئے تھے۔ ایسے ایک آڈیو میسیج میں، جو ایک لمبی فون کال کی ریکارڈنگ ہے، ایک شخص دوسرے شخص کو ڈراتے دھمکاتے ہوئے کہتا ہے کہ زعفرانی رنگ کی شال یو ٹی کھادر پر ڈال دو۔ یاد رہے بی جے پی زعفرانی رنگ کو ہندو مذہب کی علامت ہونے کے ناتے بہت اہمیت دیتی ہے۔اس آڈیو میسیج میں ایک شخص کہتا ہے، ’’تم نے کھادر پر زعفرانی شال کیوں نہیں ڈالی؟ تمھیں اپنی جان پیاری نہیں ہے کیا؟ اگر میں تمھیں خنجر گھونپ دوں تو کیا کھادر تمھیں بچانے آئے گا؟‘‘ ایسا لگتا ہے دوسرا میسیج کسی مسلمان کا تھا، جو پہلے میسیج کے جواب میں جاری کیا گیا تھا۔ اس میں گالی دیتے ہوئے کہا گیا تھا، ’’۔۔۔ کے بچے، میں تمھیں وارننگ دیتا ہوں۔ میں تمھیں باہر نکال لاؤں گا۔‘‘ یہ میسیج بہت سارے واٹس ایپ گروپوں میں بھیجا گیا تھا، اس لیے اسے بہت سارے لوگوں نے سنا تھا۔ یو ٹی کھادر تقریباً دس سال سے اس علاقے کی نمائندگی کر رہے ہیں اور پچھلی مرتبہ وہ اپنے مدِ مقابل امیدوار کی نسبت بہت زیادہ ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ گفتگوئیں جعلی ہیں اور سٹوڈیو میں تیار کی گئی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ واٹس ایپ کی سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے نفرت پر مبنی پیغامات کو روکے۔ تاہم انھیں یہ بھی یقین تھا کہ منفی پیغامات کا الٹ اثر ہو رہا ہے اور انھیں اپنے حلقے کے زیادہ ووٹروں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے جن میں سے نصف مسلمان اور نصف ہندو ہیں۔ یوں واٹس ایپ دوسرے انداز سے ان کی انتخابی مہم میں فائدہ بخش ثابت ہوئی۔ یو ٹی کھادر نے کہا، ’’ٹی وی چینل اور اخبارات عمومی طور سے مجھے نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایسے میں واٹس ایپ نے مجھے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کی مدد کے بغیر اپنے سپورٹروں تک پہنچنے میں مدد دی۔‘‘
کالج کے طالبِ علم اور بی جے پی کے نوجوان راہنما پرنو بھٹ کہتے ہیں کہ واٹس ایپ ان کے لیے بھی فائدہ بخش ثابت ہوئی ہے۔ ہفتے کے روز ووٹنگ مکمل ہو جانے کے بعد انھوں نے کہا کہ انھیں جن ساٹھ افراد کو قائل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، ان میں سینتالیس افراد ان کے واٹس ایپ پیغامات کی وجہ سے بی جے پی کو ووٹ دینے پر آمادہ ہو گئے، جن میں سے تیرہ افراد ایسے تھے جنھوں نے پہلے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا تھا۔پرنو بھٹ نے کہا، ’’میں انھیں بی جے پی کے حق میں ووٹ ڈالنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛  ترجمہ: محمد احسن بٹ)

امریکا کی نئی ویزا پالیسی اور غیر ملکی طلبا

امریکا کی نئی ویزا پالیسی اور غیر ملکی طلبا

ایریکا ایل گرین

ٹرمپ ایڈمنسٹریشن ان طلبا اور سیاحوں کو پکڑنے کے لیے چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کرنے والی ہے جو اپنے ویزوں کی مدت ختم ہو جانے کے بعد بھی امریکا میں قیام پذیر ہیں۔ اس سے ہائر ایجوکیشن کے ادارے اس خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ امیگریشن پالیسیاں یونیورسٹیوں کی ان کوششوں میں رکاوٹ ڈالیں گی جو وہ دوسرے ملکوں کے ذہین طلبا کو مائل کرنے کے لیے کرتی ہیں۔ ’’یونائیٹڈ سٹیٹس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز‘‘نے اسی مہینے اپنے ایک پالیسی میمورنڈم میں اعلان کیا ہے کہ اس نے سٹوڈنٹ ویزا اور ایکسچینج پروگرام کے تحت معینہ مدت سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد امریکا میں ’’غیر قانونی طور سے موجود‘‘ غیر ملکیوں کو شمار کرنے کے طریقے میں تبدیلی لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ’’یونائیٹڈ سٹیٹس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز‘‘نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ان طلبا کو زیادہ سخت سزائیں بھی دے گی، جو اپنے ویزوں کی میعاد ختم ہو جانے کے بعد بھی امریکا میں مقیم ہیں ۔۔۔ امریکا میں داخلے پر دس سالہ پابندی لگانا بھی ان سزاؤں میں شامل ہے۔ اس پالیسی کا نفاذ اگست سے ہو رہا ہے۔ امریکا کے ہائر ایجوکیشن کے اداروں اور طلبا کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد اور تنظیموں نے اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس تبدیلی سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’امریکا فرسٹ‘‘ پالیسی کی غیر منصفانہ نوعیت عیاں ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن کے حوالے سے جارحانہ پالیسی قوم کے ان ممتاز اہلِ علم کی راہیں مسدود کر رہی ہے جن سے امریکا کی معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہو رہا ہے، جو اس کے صفِ اوّل کے تحقیقی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، انتہائی اعلیٰ مہارتوں کے متقاضی مناصب پر فائز ہیں اور خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکنالوجی، ریاضی، انجنیئرنگ اور سائنس سے متعلقہ ملازمتوں کو فروغ دینے کے مقصد کی آب یاری کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل ایجوکیٹرز نافسا کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فار پبلک پالیسی جل ویلش کہتی ہیں، ’’یہ امر واضح ہے کہ حکومت ’عوام کا زیادہ تحفظ‘ کرتے ہوئے تعلیمی ٹیلنٹ کے لیے دروازے مزید بند کر رہی ہے۔ یہ ایک اور پالیسی ہے جو امریکا کو دوسرے ملکوں کے باصلاحیت طلبا کے لیے کم پُرکشش بنا رہی ہے۔‘‘ اب تک تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ملک کی سرحدوں پر توجہ مرکوز کر رکھی تھی اور ان کی سخت الفاظ پر مشتمل تقریروں نے مجرم گروہوں پر گھبراہٹ طاری کی ہوئی تھی لیکن جنوری 2017ء میں انھوں نے ایک انتظامی حکم جاری کیا جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ویزا کی میعاد ختم ہو جانے کے بعد بھی امریکا میں مقیم طلبا اور دوسرے لوگوں کی شامت آنے والی ہے۔ مذکورہ انتظامی حکم میں کہا گیا ہے کہ ’’غیر قانونی طریقوں سے امریکا میں داخل ہونے والے بہت سے غیر ملکی اور ایسے لوگ جو اپنے ویزوں کی میعاد ختم ہو جانے کے بعد بھی امریکا میں رہ رہے ہیں یا وہ لوگ جو اپنے ویزوں کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، وہ قومی سلامتی اور تحفظِ عامہ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔‘‘ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ امریکا میں جتنے بھی غیر ملکی متعلقہ حکومتی اداروں میں اندراج کروائے بغیر مقیم ہیں، ان میں سے نصف ایسے غیر ملکی ہیں جن کے ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہیں لیکن وہ اس کے باوجود واپس نہیں گئے اور امریکا ہی میں رہ رہے ہیں۔
امریکا کے داخلی سلامتی کے محکمے نے حال ہی میں جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں، ان سے عیاں ہوتا ہے کہ عارضی قیام کے ویزے پر امریکا آنے والے افراد میں سے جو لوگ اپنے ویزوں کی میعاد ختم ہو جانے کے بعد بھی امریکا میں رہ رہے ہیں، ان میں طلبا اور ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکا آنے والوں کی شرح زیادہ ہے ، جو 2.8فی صد ہے۔ امیگریشن حکام کہتے ہیں کہ نئی پالیسی محولہ بالا انتظامی حکم سے ہم آہنگ ہے۔ ’’سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز‘‘ کے ڈائریکٹر ایل فرانسس سِسنا نے پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ویزا کے حامل افراد کو ’’کسی نہ کسی خاص مقصد کے تحت امریکا میں آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اگر وہ اپنے قیام کا مقصد پورا ہو جانے کے بعد بھی امریکا میں رہ رہے ہیں تو ہم انھیں ڈی پورٹ کر سکتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ قانونی طریقے سے امیگریشن سٹیٹَس حاصل کریں۔‘‘ مجوزہ ضوابط ایف اور ایم ویزا کو نشانہ بنائیں گے، جو دوسرے ملکوں کے ایسے طلبا ستعمال کرتے ہیں جنھیں امریکا کے ہائر ایجوکیشن کے تعلیمی یا تیکنیکی تربیت کے اداروں میں داخلہ لینا ہوتا ہے۔ اسی طرح جے ۔ 1 ویزا بھی متاثر ہو گا، جو غیر ملکی طلبا، پروفیسروں اور سیاحوں کو مختصر مدت کے ثقافتی تبادلے کے پروگراموں میں شرکت کرنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت حکومت امریکا میں ’’غیر قانونی موجودگی‘‘ اس تاریخ سے شمار کرے گی جس تاریخ کو غیر ملکی افراد کا امریکا آنے کا مقصد پورا ہو گیا تھا جیسے کہ کسی طالبِ علم کی تعلیم کا مکمل ہو جانا۔ موجودہ پالیسی بیس سال پہلے نافذ کی گئی تھی۔ اس کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ ویزے کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی امریکا میں مقیم شخص جب پکڑا جاتا ہے، اس کی غیر قانونی موجودگی اس کے پکڑے جانے کے دن سے شمار کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نئی پالیسی میں معافی کا امکان بھی بہت کم رکھا گیا ہے۔ جو افراد اپنے ویزوں کی میعاد ختم ہونے کے بعد امریکا میں 180دن سے مقیم ہوں گے، ان کے امریکا میں دوبارہ داخل ہونے پر تین سے دس سال تک کے لیے پابندی عائد کر دی جائے گی۔ کوئی شخص اپنے ویزے کی میعاد ختم ہونے کے بعد جتنے زیادہ دن امریکا میں غیر قانونی طور سے رہ رہا ہو گا اس کو اتنی ہی زیادہ سخت سزا دی جائے گی۔ امریکا کی موجودہ پالیسی طلبا کو عموماً اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنے ویزے کی میعاد ختم ہو جانے پر اپنے ملک واپس جائیں اور دوبارہ ویزے کے حصول یا اپنے موجودہ ویزے کو اپ ڈیٹ کرنے کی درخواست دے دیں۔یہ عمل مکمل ہونے کے بعد وہ امریکا واپس آ سکتے ہیں۔
لاس اینجلس کی ایک لیگل فرم ’’سیفرتھ شا‘‘کے لیے خدمات انجام دینے والے وکیل اینجلو اے پیپاریلی کہتے ہیں کہ نئی پالیسی میں اعلان کردہ سخت سزائیں بالخصوص تھرتھری طاری کر دینے والی ہیں کیوں کہ چھوٹی سی غلطی پر بہت بڑی سزا دی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا، ’’اگر کسی پر تین یا دس سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہو تو کوئی امیگریشن اٹارنی اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘انھوں نے مزید کہا کہ ایسے طلبا کے لیے اِس قانون کے مطابق عمل کرنا ممکن نہیں ہو گا جو نئے ویزے کے حصول یا پرانے ویزے کی تجدید کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ جو طلبا تعلیم مکمل ہو جانے کے بعد مزید تعلیم کے حصول یا ملازمت کرنے کے لیے اپنا ویزا استعمال کرتے ہیں، وہ بالخصوص اس نئی پالیسی کی سخت شرائط کا نشانہ بنیں گے۔ یہ طے کرنا ایک داخلی معاملہ ہے کہ ان کی ملازمتیں امریکا میں ان کے قیام کے مخصوص تقاضے پورے کرتی ہیں یا نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ خلاف ورزی کریں گے تو ان کا یہ عمل ان پر خودکار طریقے سے پابندی عائد ہونے کا باعث بن جائے گا۔غیر ملکی طلبا کے ساتھ مل کر کام کرنے والے منتظمین پریشان ہیں کہ انھیں زندگی کی ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر سزا دی جائے گی جن سے ملکی طلبا کو فائدہ ہوتا ہے۔ بہت سے طلبا اس وجہ سے اپنے ویزے کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی رہ رہے ہوتے ہیں کہ وہ ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ سے یا خاندان کے کسی مسئلے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنے یا اپنے خاندان کی مدد کے لیے جز وقتی ملازمت کرنے کے نتیجے میں اپنا کورس مکمل نہیں کر پاتے۔ ریاستِ نیو یارک کی یونیورسٹی کے غیر ملکی طلبا کی خدمات کے شعبے کی ڈائریکٹر کیٹی ٹوڈینی کہتی ہیں، ’’جب طلبا بحران میں ہوتے ہیں تو بہت سی چیزیں ان پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں وہ ویزے کی میعاد ختم ہونے کا خیال نہیں رکھ پاتے۔‘‘ بون، این سی کی اپالاچیان سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل سٹوڈنٹس اینڈ سکالر سروسز اینڈ آؤٹ ریچ کے ڈائریکٹر ایڈم جولیان نے کہا کہ امریکا کے امیگریشن کے نظام میں غیر ملکی طلبا کی جانچ پڑتال سب سے زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ ان کو ویزے لینے کے لیے اپنے داخلوں کی معلومات مسلسل مہیا کرنا ہوتی ہیں جیسا کہ پتا اور کالج یا یونیورسٹی میں کل وقتی حیثیت۔ اب کالج یا یونیورسٹی کے اہل کار چھوٹی سی غلطی پر بھی طلبا کو ویزے کی میعاد کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار دے سکیں گے۔ انھوں نے کہا، ’’بہرحال ہم پوری تن دہی سے طلبا کو آگاہ کر رہے ہیں کہ یہ نئی حقیقت ہے یعنی یہ کہ آخرِ کار امریکا ایک ایسا ملک بننے والا ہے جو غیر ملکی اہلِ علم کی صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

ختم نہ ہونے والی بھوک

ختم نہ ہونے والی بھوک

میگن سپیشیا اور کیسی بریکن

بھوک کا موسم اس سال وقت سے پہلے آ گیا۔ ایک وقت تھا کہ فروری کو افراط والا مہینہ تصور کیا جاتا تھا مگر اب فروری آتے آتے جنوبی سوڈان کے ایک گاؤں کی باسی نیابولی چوک کے پا س اپنے تین بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے بھی خوراک باقی نہیں بچی تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ اب انھیں یہاں سے کہیں اور جانا پڑے گا۔ اس نے بتایا، ’’ہم درختوں کے پتے کھا رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ کس طرح وہ درختوں کے پتوں کو پانی میں ابال کر شوربہ سا بناتی ہے۔ ’’رون ریتھ‘‘ ۔۔۔ یہ لفظ وہ بھوک کے موسم کے لیے استعمال کرتی ہیں۔جنوبی سوڈان کے درجنوں نسلی گروپ اگلی فصل تک جاری رہنے والے خوراک کی قلت کے مہینوں کے لیے مختلف نام استعمال کرتے ہیں لیکن خوف سب کے یکساں ہیں یعنی کم خوراکی کا خوف، بیماری کا خوف حتیٰ کہ موت کا خوف۔ موجودہ سال کے لیے توقع ہے کہ یہ بد ترین سال ہو گا۔ چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی کے دوران دسیوں لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور ان کے چھوڑے ہوئے بے شمار کھیت ویران پڑے ہیں۔ اِس ملک کے وجود میں آنے کے بعد  زیادہ تر عرصہ خانہ جنگی میں گزرا ہے۔ معیشت تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ ملک کے سب سے زرخیز حصوں پر لڑائی قبضہ جما چکی ہے۔ خوراک کی قیمتیں تباہ کن حد تک اونچی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ جنوری میں پکی ہوئی فصل کاٹنے کے موسم میں بھی، جب خوراک وافر ہوتی ہے، پچاس لاکھ سے زیادہ لوگوں یعنی ملک کی تقریباً نصف آبادی کے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ اب جب کہ خوراک اگلے چند مہینوں کے لیے ختم ہو چکی ہے، بین الاقوامی حکام کو توقع ہے کہ جن لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، اُن کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔ جب کہ دسیوں لاکھ افراد کم خوراکی کے شکار ہوں گے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اس سال فصل کی مقدار اس قدر کم رہی کہ 2011ء میں سوڈان سے آزادی حاصل کرنے کے بعد کے برسوں میں سے کسی برس بھی اتنی کم فصل نہیں ہوئی تھی۔ اس سال ملک کی ضرورت سے بہت کم فصل پیدا ہوئی ہے۔ ستم بالائے ستم امن مذاکرات میں تعطل آ چکا ہے اور جنگ بندی کو بڑی حد تک نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے لڑائی کی وجہ سے بعض علاقے ہنگامی امداد سے محروم ہو چکے ہیں۔ حکومتی اور باغی جنگجووں نے یکساں طور سے امدادی کارکنوں کونشانہ بنایا ہے، جس کے باعث خوراک تقسیم کرنے کا عمل نہایت دشوار ہو چکا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ خوراک کی قلت سے محفوظ دارالحکومت میں بھی بہت سے گھرانے شہر کے بازاروں میں طلب کی جانے والی انتہائی اونچی قیمتیں ادا کرنا ناممکن پا رہے ہیں۔ سکۂ رائج الوقت کی قدر میں انتہائی کمی ہو جانے کے باعث ان کے سامنے متبادل راہیں نہیں بچیں۔ پورے ملک کے گھرانے اس نئی قوم کو پارہ پارہ کر دینے والی سیاسی اور نسلی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کم خوراکی کے شکار بچوں کے ایک کلینک میں ہجوم کیے ہوئے ہیں۔ بعض مائیں اُن علاقوں سے آئی ہوئی ہیں، جو حکومت کی پشت پناہی کر رہے ہیں جب کہ بعض دوسری عورتوں کے خاوند، بھائی اور بیٹے باغیوں کی طرف سے لڑ رہے ہیں۔درجنوں عورتیں باہر فرش پر پڑی ہیں۔ ان کے بچے کمبلوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ کم خوراکی کے نشانات واضح ہیں :پھولے ہوئے پیٹ اور سوکھے ہوئے اعضا۔ جِلد پتلی پتلی ہڈیوں پر تہ بہ تہ لٹکی ہوئی ہے۔ جسم دانوں سے بھرے ہوئے ہیں، جو پھوٹ چکے ہیں۔ پانی کی کمی سے ہونے والے ورم نے جلد کو پھاڑ ڈالا ہے۔ سیسیلیا کدین اپنی نو مہینوں کی بیٹی سارہ کو دودھ پلانے کی کوشش کر رہی ہے۔اس کی چھاتیوں میں اتنا دودھ نہیں کہ بچی کو پلا سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دن میں صرف ایک وقت کھانا کھا سکتی ہے۔ اس نے کہا، ’’مائیں حقیقت میں مصیبت اٹھا رہی ہیں۔‘‘ جنوبی سوڈان دنیا کی تازہ ترین قوم ہے، جو اس کی آزادی سے پہلے جنوبی اور شمالی سوڈان کے مابین عشروں سے جاری تنازع ختم کرنے کے بے پناہ بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی لیکن صرف دو ہی سال بعد نیا ملک جنگ کا شکار ہو چکا تھا۔
دسمبر 2013ء میں صدر سلوا کیر اور نائب صدر ریک ماچر کی وفادار فوجوں کے مابین جھگڑا ہوا۔ تھوڑے سے عرصے ہی میں یہ جھگڑا ایسے تنازع میں ڈھل گیا جس نے ملک کو توڑ کر رکھ دیا۔ دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو گئے ۔ جو ملک پہلے ہی دنیا کا سب سے کم ترقی یافتہ ملک تھا، وہ مزید برباد ہو گیا۔ جنوبی سوڈان کے لیے اوکسفیم کی پالیسی ایڈوائزر الزبتھ وائٹ کہتی ہیں، ’’بہت ہی تھوڑے لوگ ایسے ہیں، جو بھوک کے اثرات سے محفوظ ہیں لیکن تمام راستے واپس تنازعے اور عدم تحفظ کی طرف جاتے ہیں۔‘‘حکومت اور حزبِ اختلاف کے راہنماؤں کے مابین مذاکرات ملتوی ہو چکے ہیں لیکن اگر امن کا معاہدہ ہو بھی جائے تو بھوک کا بحران منڈلاتا رہے گا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق جنوبی سوڈان میں ہونے والی خانہ جنگی نے روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کے بعد افریقا میں پناہ گزینوں کے سب سے بڑے بحران کو جنم دیا ہے۔ بیس لاکھ سے زیادہ افراد جانیں بچانے کے لیے ملک سے بھاگ گئے ہیں، جس کے باعث خوراک کی پیداوار میں انتہائی کمی واقع ہو چکی ہے۔ تقریباً بیس لاکھ افراد اپنے گھر چھوڑ کر ملک کے دوسرے حصوں میں جا چکے ہیں۔ان کے چھوڑے ہوئے ویران قصبے آسیب زدہ لگتے ہیں اور کھیت اجاڑ پڑے ہیں۔ ملک کی جنوبی سرحد پر روزانہ درجنوں پناہ گزیں ایک تنگ پل عبور کر کے یوگنڈا میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ پناہ گزیں اپنے ساتھ بھوک کے قصے لے کر آتے ہیں۔ بیس سالہ میری یار اپنے ایک سالہ بیٹے کے ساتھ یوگنڈا میں واقع چھوٹے سے خیر مقدمی مرکز پہنچی۔ اس جگہ سب سے پہلے پناہ گزینوں کا ایک ٹیسٹ لیا جاتا ہے، جس سے ان کی کم خوراکی جانچی جاتی ہے۔ میری یار نے پل کے پار جنوبی سوڈان میں اپنی بستی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’وہاں کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘ بچوں کا طبی معائنہ کرنے والے جیفری چینڈیگا نے کہا کہ پچھلے سال بھوک کے موسم کی انتہا پر جنوبی سوڈان کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں یہاں آئے تھے۔ وہ ایک وائٹ بورڈ پر پناہ گزینوں کی تعداد کا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکام کا اندازہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ دو سال پہلے جنوبی سوڈان کی جنگ ملک کے جنوبی حصوں تک پھیل گئی تھی۔ وہ علاقے نہایت زرخیز تھے اور پورے ملک کی غذائی ضروریات پوری کیا کرتے تھے۔ جنگ ان علاقوں تک پھیلنے کی وجہ سے لوگ ہزاروں کی تعداد میں یوگنڈا آ گئے۔ ان میں سے زیادہ تر اب تک واپس نہیں گئے۔ 2017ء کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کے امن قائم کرنے والوں نے محولہ جنگ زدہ علاقوں کا دورہ کیا تو انھوں نے دیکھا کہ پوری پوری بستیوں کو جلا کر خاکستر کیا جا چکا تھا۔
دارالحکومت میں الزبتھ کنیی اور اس کا خاوند جانسن علی دریائے نیل میں گرنے والے دریائے سفید نیل کے ساتھ واقع اپنے کھیت میں اگی سبزیاں توڑ رہے ہیں۔ وہ بیس برسوں سے اپنے کھیتوں میں اگنے والی بھنڈیاں، ہری مرچیں اور ٹماٹر نزدیکی بازار میں بیچتے آ رہے ہیں لیکن اس سال فصل زیادہ ہونے کے باوجود انھیں اپنے سات افراد والے گھرانے کو کھانا کھلانا تک مشکل ہو رہا ہے۔ جانسن علی نے کہا، ’’میں اپنے کھیت سے جو پیسے کماتا ہوں، وہ بے فائدہ ہیں۔‘‘ ان کی فصل کی قیمت پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہے لیکن وہ جو غذائی اشیا مثلاً مکئی اور جوار خریدتے ہیں، ان کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ جنوبی سوڈان کے سکۂ رائج الوقت کی قدر میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور انتہائی زیادہ افراطِ زر نے واقعتاً ہر شخص کو نچوڑ ڈالا ہے۔ جنگ سے پہلے ایک امریکی ڈالر تقریباً پانچ جنوبی سوڈانی پونڈ کے مساوی ہوتا تھا۔ مارچ تک ایک امریکی ڈالر 220جنوبی سوڈانی پونڈوں کے مساوی ہو چکا تھا۔ اس کا اثر تباہ کن ہوا ہے۔ 2017ء میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایک وقت کے کھانے کی دنیا میں سب سے زیادہ قیمت جنوبی سوڈان میں ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق جنوبی سوڈان کے لوگوں کو پھلیوں کے سالن کی ایک پلیٹ خریدنے کے لیے اپنی روزانہ آمدن کا 155فی صد خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اس کو دوسرے انداز سے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ جو کھانا نیو یارک میں صرف 1.20ڈالر میں کریدا جا سکتا ہے، وہی کھانا جوبا، جنوبی سوڈان میں رہنے والے کسی فرد کو 321.70ڈالر میں خریدنا پڑے گا۔ زراعت برباد ہو جانے کے بعد یہ ملک ہنگامی امداد کے سہارے جی رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق 2018ء کے اوائل میں جنوبی سوڈان کی مجموعی آبادی کے نصف حصے کا انحصار امداد کے طور سے ملنے والی خوراک پر تھا اور آنے والے ہفتوں میں بھوک کے موسم کے اپنی انتہا کو پہنچ جانے پر اس فی صد شرح میں اضافہ ہو جائے گا۔ جہاں تک ان لوگوں تک امداد پہنچانے کا سوال ہے تو یہ مکمل طور سے دوسرا معاملہ ہے۔ ان دشوار مہینوں میں بارشوں کا موسم بھی اپنا رنگ دکھاتا ہے اور سڑکیں کیچڑ کے ناقابلِ عبور دریاؤں میں بدل جاتی ہیں۔ تنازع کی ابتدا سے اب تک کم از کم ایک سو (100) امدادی کارکنوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ صرف پچھلے سال تیس امدادی کارکنوں کو ہلاک کیا گیا۔ جنگ کرنے والے فریق امدادی کارکنوں کو اس باعث ہلاک کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں ان کی کوششوں سے ان کے دشمنوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پورے ملک میں اقوامِ متحدہ نے جو محفوظ کیمپ قائم کیے ہیں، ان میں بھی کافی خوراک موجود نہیں۔ چوک، وہ خاتون جو اپنے بچوں کو درختوں کے پتے ابال کر کھلاتی ہیں، جوبا کے ایک محفوظ علاقے میں ایک مہینے سے موجود ہیں۔ یہ کیمپ2013ء میں اس وقت قائم کیے گئے تھے جب حکومتی افواج اور ان کے حامیوں کے تشدد سے خوف زدہ نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر اقوامِ متحدہ کے امن قائم کرنے والوں کے مرکز میں آ گئے تھے۔ پناہ لینے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئے کہ پورے پورے شہر آباد ہو گئے، جن کی چاروں اطرف میں خاردار تاروں کی باڑھیں نصب کر دی گئی ہیں۔ اقوامِ متحدہ ان کیمپوں کے اندراج شدہ باسیوں کو غزا مہیا کر رہی ہے لیکن یہاں ایسے ہزاروں لوگ بھی موجود ہیں، جنھوں نے اپنے کوائف کا باقاعدہ اندراج نہیں کروایا۔ چناں چہ انھیں غذا کے لیے اپنے ہمسایوں پر مکمل انحصار کرنا پڑتا ہے۔ راشن کسی کو بھی پورا نہیں پڑتا۔ امدادی کارکن کہتے ہیں کہ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ ایک مقام پر تشدد پھوٹ پڑنے کی وجہ سے جانیں بچا کر دوسرے مقام کی طرف نکل بھاگنے کے باعث مسلسل سفر میں رہتا ہے۔ چوک کے کیمپ میں نئے آنے والوں میں سے زیادہ تر نے ایک سال سے زیادہ عرصہ سے اپنے کوائف کا اندراج نہیں کروایا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انھیں اور ان جیسے دوسرے لاتعداد افراد کو کچھ بھی نہیں مل رہا۔ کیمپوں میں رہنا خطرناک بھی ہے۔ کیمپ افسروں کی طرف سے حملوں اور جنسی زیادتیوں کی خبریں بڑے پیمانے پر مل رہی ہیں۔ یہ خبریں بھی ملی ہیں کہ عورتیں خوراک کے لیے جسم فروشی کر رہی ہیں لیکن کیمپ چھوڑنا نئی طرح کے خطروں کو دعوت دیتا ہے۔
تیس سالپ طافیہ نیاتی ایک کیمپ میں 2013ء سے رہ رہی ہیں۔ ان کے چھ بچے ہیں۔ ان کا خوراک کا راشن اکثر ختم ہو جاتا ہے۔ چناں چہ وہ روزانہ کیمپ چھوڑ کر جلانے کی لکڑیاں اکٹھی کرنے جاتی ہیں۔ وہ اس امید میں یہ کام کرتی ہیں کہ شاید جلانے کی لکڑیاں فروخت کر کے انھیں اتنے پیسے حاصل ہو جائیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دودھ اور ان کے کپڑے دھونے کے لیے صابن خرید لیں۔ وہ تین گھنٹے پیدل چل کر جگہ جگہ جاتی ہیں۔ اس دوران حکومتی افواج کے ہتھے چڑھنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے مگر وہ اس کے باوجود اپنے بچوں کی خاطر لکڑیاں ڈھونڈتی پھرتی ہیں۔ وہ جلانے کی لکڑیوں کا بڑا سا ڈھیر سر پر اٹھائے کیمپ واپس آتی ہیں۔ انھوں نے بتایا، ’’وہ عورتوں سے زنا بالجبر کرتے ہیں اور انھیں مارتے پیٹتے ہیں۔ بعض حکومتی فوجیوں نے میرے ساتھ بھی زنا بالجبر کرنے کی کوشش کی تھی۔‘‘ یہ وہ خطرات ہیں،جن سے تنازعات والے علاقوں کی عورتوں دوچار رہتی ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ایک دن انھیں بری طرح پیٹا گیا اور ان کی ٹانگ زخمی ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھتی ہیں تو دوبارہ کیمپ سے باہر جانے کے سوا ان کے سامنے کوئی راستا نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا، ’’میں باہر جاتی ہوں اور مجھے پتا نہیں ہوتا کہ اپنے بچوں کے پاس واپس آ بھی سکوں گی یا نہیں۔‘‘ کم خوراکی کے شکار بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ نے جو کلینک قائم کیے ہیں، ان سے پتا چلتا ہے کہ بھوک کا موسم کتنا خطرناک ہوتا ہے۔ یہ جان کر جسم میں تھرتھری سی دوڑ جاتی ہے۔ بجلی اکثر چلی جاتی ہے، جس کی وجہ سے ہسپتالوں کے وارڈوں میں اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ یہاں پچھلے سال اس موسم میں جتنے بچوں کا روزانہ علاج کیا جاتا تھا، اب اس سے درجن بھر زیادہ بچوں کا علاج روزانہ کیا جا رہا ہے۔ انھیں پورے ملک سے یہاں لایا جاتا ہے۔ یہاں ان کا وزن کیا جاتا ہے، قد ماپا جاتا ہے اور اس کے اینٹی بایوٹکس اور فارمولا دودھ دیا جاتا ہے۔ اگر ان کے جسم برداشت کرنے کے قابل ہوں تو اس کے بعد انھیں ’’پلمپی نٹ‘‘ ۔۔۔ مونگ پھلیوں سے تیار کیا گیا غذائی پیسٹ ۔۔۔ کھلایا جاتا ہے۔ یہاں موجود بہت سارے گھرانے ایسے بھی ہیں، جو لوگوں کو اپنے گھروں چھوڑ کر بھاگ جانے پر مجبور کر دینے والے خطروں کے شکار نہیں ہوئے تھے۔ ان میں سے بعض لوگ ملازمت کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے بچے بھوک کے شکار ہیں۔ جوبا کے ایک ریستوراں میں کام کرنے والی سلوا انانیا اپنے دو سالہ بچے توبان زکریا کو کلینک لے کر آئیں۔ وہ اپنی تھوڑی سی تنخواہ میں جلد ختم ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر دن انھیں صرف ایک وقت دلیہ کھانا کر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ ستائیس سالہ سلویا جارج اپنے دو سالہ بیٹے منڈیلا بیسا کو پنکھا جھل رہی ہیں۔ دو سالہ بچہ نیم بے ہوشی کے عالم میں بستر پر پڑا ہے۔ اس کے بازو کی ایک نس میں ڈرپ لگی ہوئی ہے۔ اس بچے کے والد جوبا یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں۔ وہ تینوں سلویا جارج کی والدہ کے گھر میں رہتے ہیں۔ وہی ان کی غذائی ضروریات بھی پورا کر رہی ہیں۔ خوراک ہمیشہ ناکافی رہتی ہے۔ ہیڈ نیوٹریشنسٹ جوزفین روبن نے کہا کہ ابھی جب کہ بھوک کے موسم کی انتہا کا زمانہ دور ہے، کلینک میں مریض کثرت سے اور مسلسل لائے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اضطراب بھرے لہجے میں کہا کہ ’’جون، جولائی میں ہمارے پاس بھی خوراک ناکافی ہو گی۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

Monday, June 4, 2018

کیا امریکااپنی انسانیت کھو رہا ہے؟

کیا امریکااپنی انسانیت کھو رہا ہے؟


این سی رچرڈ (سابق امریکی نائب وزیر برائے آبادی، پناہ گزیناں اور ترکِ وطن)


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبادی، پناہ گزیناں اور تارکینِ وطن کی وزارت کے لیے ایک ایسے شخص کو نام زد کیا ہے، جو تارکینِ وطن کی انتہائی شدت سے مخالفت کرنے والے فرد ہیں۔ میں صدر بارک اوباما کے دور میں اسی بیورو کی نائب وزیر تھی۔ اس نام زدگی کا اعلان پچھلے ہفتے کیا گیا ہے۔ یہ امریکا کو دنیا کے چوٹی کے انسان دوست ملک کے مقامِ بلند سے مزید گرانے والا فیصلہ ہے۔ نام زد وزیر رونلڈ مورٹینسن ’’سینٹر فار امیگریشن‘‘ کے فیلو کی حیثیت سے ترکِ وطن سے متعلقہ امور و معاملات کے بارے میں اپنا مؤقف کھل کر بیان کر چکے ہیں۔ مثال کے طور سے ان کا اصرار رہا ہے کہ بیش تر ’’ڈریمر‘‘ تشدد آمیز جرائم کا ارتکاب کر چکے ہیں ۔۔۔امریکا میں ’’ڈریمر‘‘ ایسے غیر ملکیوں کو کہا جاتا ہے، جنھیں بچپن میں تارکینِ وطن کی حیثیت سے امریکا لایا گیا تھا اور جن کا اندراج متعلقہ محکموں میں اب تک نہیں کروایا گیا۔ وہ تارکینِ وطن کے بیورو کے مشن سے معاندت رکھنے والے واحد فرد نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی انتظامیہ تارکینِ وطن کے حوالے سے سخت موقف رکھنے والے افراد کو کلیدی مناصب کے لیے نام زد کر چکی ہے۔ رونلڈ مورٹینسن کی نام زدگی کو پناہ گزنیوں اور تارکینِ وطن کا خیر مقدم کرنے اور عتاب زدہ افراد کوجائے پناہ مہیا کرنے کی امریکا کی پرانی روایت کو تبدیل کرنے کی مہم کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کا حلف اٹھانے کے تھوڑا عرصہ بعد ہی مسلمانوں کے سفر پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ اقدام مذکورہ مہم کا پہلا حملہ تھا۔ اگرچہ عدالتیں مذکورہ پابندی کی کئی صورتوں کو کالعدم قرار دے چکی ہیں لیکن وائٹ ہاؤس امریکا آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد پچھلے برسوں کے مقابلے میں سب سے کم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ بارک اوباما کے دورِ صدارت کے آخری سال میں 85,000تارکینِ وطن امریکا آئے تھے جب کہ اِس سال صرف 20,000تارکینِ وطن امریکا آ سکے ہیں۔ امریکا میں تارکینِ وطن خاندانوں کو نئی زندگی شروع کرنے میں مدد دینے والی مذہبی اور غیر مذہبی خیراتی تنظیموں کا نیٹ ورک بکھر رہا ہے۔ جہاں تارکینِ وطن کی اتنی تھوڑی تعداد کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے، وہاں وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ تارکینِ وطن کو مزید مالی امداد نہیں دی جائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بہت کم شہر تارکینِ وطن کو امریکا میں بسانے کے پروگراموں میں حصہ لیں گے، تارکینِ وطن کی مدد کرنے والا عملہ اور رضاکار بکھر جائیں گے اور ہم حکومت اور نجی شعبے کی ایک انتہائی کامیاب رفاقتِ کار سے محروم ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی مزید پناہ گزینوں نے جو ثابت شدہ معاشی اور ثقافتی فوائد اپنے ساتھ لانا تھے، وہ بھی کھو جائیں گے نیز انھیں زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کا جو موقع ملنا تھا، وہ بھی ضائع ہو جائے گا۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکا اقوامِ متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزیناں کے ذریعے دوسرے ملکوں میں موجود پناہ گزینوں کے لیے بہت زیادہ مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کانگریس میں دونوں جماعتوں کے ارکانِ پارلیمان اس امر سے کامل اتفاق رکھتے ہیں۔ بہر حال اقوامِ متحدہ کے دوسرے اداروں کے لیے امریکا نے اپنی امداد میں کٹوتی کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے یہ کہتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کو مالی امداد دینا بند کر دیا ہے کہ یہ ادارہ جبری اسقاطِ حمل اور بانجھ کاری میں ملوث ہے۔ اقوامِ متحدہ کا پاپولیشن فنڈ ان الزامات کو درست تسلیم نہیں کرتا۔ اقوامِ متحدہ کا پاپولیشن فنڈ کسی بھی وجہ سے اپنی جائے قیام چھوڑ کر کسی دوسرے مقام پر رہنے والی عورتوں کی تولیدی صحت اور ماؤں اور بچوں کے زندہ رہنے کی فی صد شرح میں بہتری لانے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ میں نے 2016ء میں اس وقت جشن منایا تھا، جب لبنان کے زاتری ریفیوجی کیمپ میں اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے ایک کلینک میں پانچ ہزارواں بچہ زندہ اور صحت مند پیدا ہوا تھا۔ اب اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈکی رپورٹ کے مطابق 64,000روہنگیا حاملہ خواتین بنگلہ دیش کے انتہائی گندے ریفیوجی کیمپوں میں موجود ہیں اور انھیں اپنے بچے بحفاظت پیدا کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے اقوامِ متحدہ کے اُس ادارے کی80فی صد مالی مدد بھی بند کر دی ہے، جو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے سکول چلاتا ہے اور ان کو حفظانِ صحت کی سہولیات مہیا کرتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے یہ فیصلہ تب کیا تھا، جب فلسطین اور اقوامِ متحدہ کی رکن دوسری ریاستوں نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے امریکا کے اقدام پر تنقید کی تھی۔ امریکا کے مالی امداد بند کرنے کے فیصلے سے جو صورتِ حال رونما ہوئی، اسے اقوامِ متحدہ کے ایک نمائندے نے ’’ایسا مالی بحران‘‘ قراردیا جس کی ’’مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔‘‘ یہ امر واضح نہیں کہ پہلے سے کشیدہ صورتِ حال میں غریب ترین فلسطینیوں کے لیے مدد کا بند ہو جانا کس قدر عذاب ناک ہو گا۔
پناہ گزینوں کے لیے فراہم کی جانے والی امداد بیش تر پناہ گزینوں کی صرف بنیادی ضروریات ہی پوری کرتی ہے مثلاً خوراک، پانی، نکاسئ آب اور سر چھپانے کی جگہ۔ دوسرے ملکوں کو مزید مدد فراہم کرنے اور پناہ گزینوں کے اپنے گھروں کو واپس جا سکنے کے قابل بنانے کے لیے بحرانوں کو حل کرنے پر قائل کرنے کی غرض سے بھی سفارت کاری ضروری ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ محکمۂ خارجہ کو کمزور اور امریکا کے سفارت کاروں کوحوصلے سے محروم کرنے کے علاوہ دوسرے ملکوں میں ترقی کو فروغ دینے والے پروگراموں اور امن و استحکام کے تحفظ کا کام بھی روک چکی ہے۔ شامیوں کو انسانی ہمدردی کے تحت امداد فراہم کرنے کے لیے منعقد کی جانے والی ’’برسلز پلیج‘‘ کی ایک حالیہ کانفرنس کے موقع پر امریکا کے مندوب نے، جس نے پہلے ایک دفعہ مدد کا بڑا اعلان کر کے دوسروں کو بھی امداد دینے کی تحریک دی تھی، تقریر تک نہیں کی۔ میں نائب وزیر کی حیثیت سے ترکِ وطن سے متعلقہ کانفرنسوں میں اقوامِ متحدہ کے وفود کی قیادت کیا کرتی تھی اور دوسروں کو قائل کیا کرتی تھی کہ سرحد عبور کرنے والے سیاسی پناہ کا دعویٰ کرنے کا حق رکھتے ہیں، تارکینِ وطن محنت کشوں کو استحصال اور بد سلوکی سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ ہر صورت میں لوگوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔ ہمارا ملک اچھے نظریات و خیالات کی ترویج میں قائدانہ کردار ادا کیا کرتا تھا۔ اس کی ایک مثال ’’مائیگرینٹ اِن کنٹریز اِن کرائسس   اِنیشی ایٹو‘‘ ہے، جس نے وہ رضاکارانہ راہنما خطوط تشکیل دیے تھے، جن پر تب عمل کیا جاتا تھا، جب پناہ گزین گھر سے دور ابتلا و مصیبت میں گرفتار ہو جاتے تھے۔ اب انتظامیہ اس لایعنی جواز کے تحت پناہ گزینوں کی رضاکارانہ مدد کے موضوع پر منعقد کیے جانے والے اجلاسوں کا بائیکاٹ کر رہی ہے کہ اس سے امریکا کی خود مختاری کو نقصان ہو گا۔ انتظامیہ نے ’’انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن‘‘ کی سربراہی کے لیے ایک ایسے شخص کو نام زد کیا ہے، جو مسلمانوں کے خلاف ٹویٹس کرنے کے ریکارڈ کا حامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پالیسی مشیر، ترکِ وطن کے مخالف سٹیفن ملر وائٹ ہاؤس اور محکمۂ داخلی سلامتی کی اس ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں، جو ایسی پالیسیوں کے لیے سرگرمِ کار ہے، جنھیں انسان دوست کے سوا سب کچھ کہا جا سکتا ہے ۔ تارکینِ وطن بچوں کو سرحد پر ان کے ماں باپ سے جدا کرنا تازہ ترین بے رحمانہ اقدام ہے جیسا کہ پچھلے نومبر میں اس وقت ہوا، جب کیلی فورنیا میں سیاسی پناہ کے خواہش مند کانگو کے ایک تارکِ وطن کی سات سالہ بچی کو اس سے چھین کر دور کر دیا گیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اچھے کاموں کی فہرست بہت مختصر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے وہ معاہدہ برقرار رکھا ہے، جو میں نے آسٹریلیا کے ساتھ کیا تھا اور جس کے تحت امریکا نے جزیرۂ مینس اور نورو میں رہ جانے والے پناہ گزینوں کو قبول کرنا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ بارک اوباما انتظامیہ کے اُس انتظام کی تائید بھی کر رہی ہے، جو کوسٹا ریکا کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس انتظام کے تحت کوسٹا ریکا پناہ گزینوں کو اپنے ہاں اس وقت تک عارضی قیام کی سہولت دے گا، جب تک انھیں دوبارہ بسایا نہ جا سکے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ اس نئے علاقائی فریم ورک کی تائید بھی کر رہی ہے، جو کئی لاطینی امریکی ملک پناہ گزینوں کو مدد دینے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے یونیسیف اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے لیے نام زد کیے گئے افراد ہر اعتبار سے اہل اور تجربہ کار ہیں۔ بد قسمتی سے ٹرمپ انتظامیہ کے منفی نوعیت کے اقدامات اتنے زیادہ ہیں کہ مثبت نوعیت کے کام ان کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ امریکا میں اور امریکا کی سرحدوں کے باہر موجود پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی فوری ضرورتوں کو نظر انداز کر کے بری مثالیں قائم کر رہی ہے اور ایک ایسی انسان دوست سوچ کو فنا کر رہی ہے، جس کی پوری دنیا کے دسیوں لاکھ لوگوں نے ناصرف ستائش کی ہے بلکہ جس پر دسیوں لاکھ افراد انحصار بھی کرتے تھے۔

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

Sunday, June 3, 2018

Saudi Princess Hayfa Bint Abdullah Al Saud behind the Wheel


Vogue Arabia June cover:

Women in Saudi Arabia will be legally allowed to drive on June 24, and Vogue Arabia is marking the sea change with its June cover featuring Saudi princess Hayfa Bint Abdullah Al Saud behind the wheel. (courtesy axios dot com)




چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...