Sunday, July 15, 2018

دنیا کا سیاسی و سوشو اکنامک نظام تبدیل کرنے کے علاوہ کولڈ وار کے زمانے سے مختلف اور بہتر انسان "بنایا" جا رہا ہے

اس وقت دنیا کے ذہین ترین لوگ ماضی کے بر خلاف دنیا کو ہمہ گیر جنگ سے بچاتے ہوئے عالمی نظامِ سیاست و معیشت بدل رہے ہیں اور کولڈ وار کے #اختتام تک "بنائے" جانے والے انسان سے یک سر مختلف اور بہتر انسان "بنایا" جا رہا ہے۔
یہ سب کہیں منہگی کتابوں میں نہیں بل کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول #فیس #بک اور دوسری سوشل میڈیا ویب سائٹوں پر پبلش بھی کیا جاتا ہے لیکن افسوس ہم استفادہ نہیں کر رہے۔
نجانے ایسا کیوں ہے۔
ہم اس عظیم عمل میں حصہ لینے کے قابل نہیں تو کاش اس سے آگاہ ہونے اور اسے سمجھنے کی کوشش تو کرتے تاکہ کم از کم اپنے بچوں کو نئے دور، نئے نظام کے لیے تیار کر سکتے۔

Monday, July 9, 2018

پلاسٹک پلوشن سمندروں کی گہرائی میں

تازہ ترین خبروں کے مطابق پلاسٹک پلوشن اِس قدر بڑھ گئی ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں چار ہزار پانچ سو میٹر نیچے موجود آبی جاں داروں میں پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات پائے گئے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم سب پلاسٹک کم سے کم استعمال کریں تاکہ خود ہماری ذسر ہماری آنے والی نسلوں کی صحت ناقابلِ علاج بیماریوں سے محفوظ رہے، جو پلاسٹک پلوشن سے متاثرہ آبی جاں داروں یعنی مچھلیوں وغیرہ کے کھانے سے لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔

Friday, June 29, 2018

تازہ پانی کا سب سے بڑا قدرتی ذخیرہ فنا کے خطرے سے دوچار

تازہ پانی کا سب سے بڑا قدرتی ذخیرہ فنا کے خطرے سے دوچار

کینڈرا پیئری لوئیس

دنیا کا 60 سے 90فی صد تک تازہ پانی برِ اعظم انٹارکٹیکا کی برفانی تہوں میں منجمد ہے۔ برِ اعظم انٹارکٹیکا کا رقبہ ریاست ہائے متحدہ امریکا اور میکسیکو کے مجموعی رقبے کے برابر ہے۔ اگر یہاں موجود ساری برف پگھل جائے تو دنیا بھر کے سمندروں کے پانی کی سطح 200 فٹ اونچی ہو جائے گی۔ انٹارکٹیکا کی برف شب بھر میں نہیں پگھلے گی لیکن بلاشبہ وہ پگھل رہی ہے اور جریدہ ’’نیچر‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2007ء سے انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے کی شرح میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔سائنس دان کہتے ہیں اب اس برِ اعظم کی برف اس قدر تیزی سے پگھل رہی ہے کہ 2100ء تک دنیا بھر کے سمندروں کے پانی کی سطح پندرہ سینٹی میٹر (چھ انچ) اونچی ہو جائے گی۔ ’’انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج‘‘ کے تخمینے کے مطابق اس صدی کے اختتام تک صرف انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے سے دنیا بھر کے سمندروں کے پانی کی سطح میں ہونے والا یہ سب سے زیادہ امکانی اضافہ ہے۔ یونیورسٹی آف لیڈز کے پروفیسر آف ارتھ آبزرویشن ڈاکٹر اینڈریو شیفرڈ کہتے ہیں، ’’بروکلین میں سال میں ایک دفعہ سیلاب آتا ہے۔ اگر سمندروں کے پانی کی سطح 15سینٹی میٹر اونچی ہو گئی تو یہاں سال میں 20دفعہ سیلاب آیا کرے گا۔‘‘ اب تو صورتِ حال یہ ہو چکی ہے کہ معمول کے حالات میں بھی انٹارکٹیکا کا منظر مسلسل تبدیل ہو رہا ہے کیوں کہ گلیشیئر ٹوٹ رہے ہیں، برف باری کے بعد سطح پر پڑی ہوئی برف فوراً ہی پگھل رہی ہے اور گلیشیئروں میں گہرے گڑھے بن رہے ہیں، جنھیں ’’مولین‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نہایت تشویش انگیز امر ہے لیکن جو چیز سائنس دانوں کو زیادہ تشویش میں مبتلا کر رہی ہے، وہ ہر سال جمع ہونے والی برف اور پگھل جانے والی برف کے توازن کا بگڑنا ہے۔ 1992ء سے 2017ء تک کے عرصے میں انٹارکٹیکا کی تیس کھرب ٹن برف پگھل چکی ہے۔ اس کے باعث دنیا بھر کے سمندروں کے پانی کی سطح تقریباً 0.12انچ اونچی ہو چکی ہے۔ یہ اضافہ زیادہ نہیں لگتا لیکن تشویش ناک امر یہ ہے کہ اس اضافے کا 40فی صد 2012ء سے 2017ء کے صرف پانچ برسوں کے دوران واقع ہوا ہے۔ صرف انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے سے سمندروں کے پانی کی سطح اونچی نہیں ہو رہی بلکہ گرین لینڈ کا بھی اس میں حصہ ہے۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ 2011ء سے 2014ء کے درمیانی عرصے میں گرین لینڈ کی تقریباً 10کھرب ٹن برف پگھلی۔ چوں کہ سمندر بھی گرم ہو رہے ہیں، اس لیے پانی کی سطح میں اضافے کے ساتھ ساتھ وہ زیادہ رقبہ بھی گھیر رہے ہیں۔ برف پگھلنے اور سمندروں کے گرم ہونے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انسان مختلف طریقوں سے ایسی گیسیں فضا میں شامل کر رہے ہیں، جن کی وجہ سے کرۂ ارض کا درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے۔ کرۂ ارض کے درجۂ حرارت میں اضافے کا باعث بننے والی گیسوں کو اصطلاحاً ’’گرین ہاؤس گیسز‘‘ کہا جاتا ہے۔ محولہ بالا تحقیقی رپورٹ انٹارکٹیکا کے مختلف خِطوں کی برف پگھلنے میں پائے جانے والے فرق کے باعث پیدا ہونے والا غیر یقینی پن بھی دور کرتی ہے۔ یہ بات تو کچھ عرصے سے سب کو معلوم ہے کہ مغربی انٹارکٹیکا اور جزیرہ نمائے انٹارکٹیکا، جو جنوبی امریکا تک پہنچتا ہے، اپنی برف کھو رہے ہیں، تاہم مشرقی انٹارکٹیکا کی صورتِ حال قدرے دھندلی ہے کیوں کہ اس کے بعض حصوں میں برف کی تہیں پگھل رہی ہیں جب کہ بعض حصوں میں برف کی تہیں مزید موٹی ہوتی جا رہی ہیں۔
مشرقی انٹارکٹیکا کچھ عرصہ اُن لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا، جو کرۂ ارض کے درجۂ حرارت میں اضافے کی سائنس کو نہیں مانتے۔ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے ایک جیالوجسٹ ڈاکٹر مائیکل کوپس کہتے ہیں، ’’بہت سے ایسے لوگ جو آب و ہوا کی تبدیلی میں دل چسپی نہیں رکھتے، ان کا کہنا ہے کہ مشرقی انٹارکٹیکا کی برف کی تہ حقیقت میں موٹی ہوتی جا رہی ہے، اس لیے ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ڈاکٹر مائیکل کوپس نے کہا کہ مشرقی انٹارکٹیکا برِ اعظم انٹارکٹیکا کے دو تہائی حصے پر مشتمل ہے اور دنیا کے اِس دور افتادہ ترین علاقے کا بھی دور افتادہ حصہ ہے، جہاں اعداد و شمار بہت کم دستیاب ہیں کیوں کہ اس علاقے میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی پیمائش کرنے والے مراکز بہت کم ہیں۔ محققین کو ریاست ہائے متحدہ امریکا کے رقبے کے برابر رقبے والے اس علاقے میں رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے بہت تھوڑے اعداد و شمار کے ذریعے ہی اندازے لگانا پڑتے ہیں، جس کے باعث ٹھیک ٹھیک تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ محولہ تحقیق کے دوران ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کے اسّی (80) سے زیادہ محققین نے 1990ء کے عشرے سے لے کر تحقیق کے وقت تک سیٹلائٹس سے کی جانے والی درجن بھر مختلف پیمائشوں کا ڈیٹا استعمال کیا۔ ڈاکٹر اینڈریو شیفرڈ کہتے ہیں، ’’ہم نے مختلف سیٹلائٹس اور تیکنیکیں استعمال کر کے سمندروں کے پانی کی سطح میں اضافے کی مقدار کا تعین کیا کیوں کہ مختلف طریقوں کی اپنی خوبیاں اور خامیاں تھیں۔ ہم نے یہ جانا کہ ہم تمام دستیاب پیمائشوں کو ملا کر انفرادی تیکنیکوں کے مسائل سے بچ سکتے ہیں۔‘‘ محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مشرقی انٹارکٹیکا کی برف اتنی تیزی سے نہیں پگھل رہی جتنی تیزی سے مغربی انٹارکٹیکا اور جزیرہ نمائے انٹارکٹیکا کی برف پگھل رہی ہے۔ بہر حال برِ اعظم انٹارکٹیکا کی برف کی تہیں پگھل رہی ہیں اور دنیا بھر کے سمندروں کے پانی کی سطح میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ ڈاکٹر اینڈریو شیفرڈ اور ان کی ٹیم نے پانچ سال پہلے بھی پچھلے بیس برسوں کے اعداد و شمار استعمال کرتے ہوئے اسی طرح تجزیہ کیا تھا لیکن اس کے سوا کچھ کہنے سے قاصر رہے تھے کہ انٹارکٹیکا تیزی سے اپنی برف سے محروم ہو رہا ہے۔ انھوں نے انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے کی شرح تب دریافت کی، جب انھوں نے دوسری مرتبہ تجزیہ کرتے ہوئے مزید پانچ برس کے اعداد و شمار سے بھی استفادہ کیا۔ڈاکٹر اینڈریو شیفرڈ کہتے ہیں، ’’ اب ہم دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں تو واقعی دیکھ سکتے ہیں کہ ہم نے پہلے جو کچھ دیکھا تھا، اشارے اُس سے مختلف ہیں۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے کے باعث سمندروں کے پانی کی سطح میں ہونے والے اضافے کی شرح 2012ء سے تین گنازیادہ ہو چکی ہے۔
کرۂ ارض کا مشاہدہ کرنے والے سیٹلائٹس میں بہتری کے باعث محققین قطبی خِطوں کو زیادہ بہتر سمجھنے کے اہل ہو گئے ہیں۔ بہت سے محققین کا خیال تھا کہ کرۂ ارض کے درجۂ حرارت میں اضافے سے قطبی خِطوں کی برف میں اضافہ ہو گا کیوں کہ زیادہ درجۂ حرارت فضا میں نمی کے بڑھنے کا باعث بنتا ہے، جس کی وجہ سے بارشیں زیادہ ہوتی ہیں اور ان کا خیال تھا کہ اسی طرح قطبین میں برف باری بھی زیادہ ہو گی۔ سیٹلائٹس سے کیے جانے والے براہِ راست مشاہدے نے ان کا خیال غلط ثابت کر دیا۔ بہر حال ڈاکٹر اینڈریو شیفرڈ جیسے محققین اس خدشے کے شکار ہیں کہ مستقبل میں سیٹلائٹس سے معلومات کا حصول مشکل ہو گا کیوں کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے بجٹ میں کرۂ ارض کے مشاہدے کے بعض پروگراموں میں تخفیف کر دی ہے۔ ڈاکٹر اینڈریو شیفرڈ نے کہا، ’’ہم نا صرف برف کی تہوں کے پگھلنے بلکہ اس کے باعث سمندروں کی سطح میں ہونے والے اضافے کی پیمائش کے لیے بھی سیٹلائٹس سے حاصل شدہ اعداد و شمار سے استفادہ کرتے ہیں۔‘‘ سیٹلائٹس سے کیے گئے مشاہدے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ انٹارکٹیکا کی برف پگھلنے کے اسباب کیا ہیں۔ ڈاکٹر مائیکل کوپس نے بتایا، ’’یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ برف کی تہ کے کنارے زیادہ پگھل رہے ہیں۔ اس جگہ برف کی تہ اور سمندر آپس میں ملتے ہیں۔ گرم سمندر برف پگھلا رہے ہیں۔ سمندر برف کو اتنی تیزی سے پگھلا رہے ہیں کہ ہوا میں بھی کوئی چیز اتنی تیزی سے تبدیلی نہیں لا رہی۔ یہ ایسی قوتیں ہیں جنھیں روکنا آسان نہیں۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛  ترجمہ: محمد احسن بٹ)

Monday, June 18, 2018

بِکے ہوئے اینکر، کالم نویس اور حقیقی میڈیا ورکرز

جب بھی کوئی اینکر ٹی وی پر  غلط بات  کرتا ہے یا کالم میں غلط بات لکھتا ہے تو بعض قارئین و ناظرین ان پر تنقید کرتے ہوئے تمام  صحافیوں (پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں) کو برا کہتے ہیں۔ چوں کہ میں بھی ایک نہایت حقیر میڈیا ورکر ہوں، اس لیے ذاتی تجربے اور معلومات (فرسٹ ہینڈ نالج) کی بنیاد پر ایک اہم گزارش کر رہا ہوں۔

جو میڈیا پرسنز (کالم نویس، اینکر اور تجزیہ کار) ملک و معاشرے کے حقیقی مسائل پر بات نہیں کرتے اور نان ایشوز پر بات کرتے ہوئے غیرمتوازن تبصرے اور تجزیے کرتے ہیں،   ایسے سوکالڈ میڈیا پرسنز کے بارے میں اہم ترین حقیقت جان لیجیے۔ ان میں سے تقریباً 99 فی صد لوگ حقیقت میں صحافی نہیں ہیں۔ یہ  سب نہیں لیکن ان میں سے اکثر کرمنل مائنڈڈ لوگ ہیں، جو ارادتاً صحافیوں (میڈیا پرسنز)  کا بہروپ بھر کر بڑی عیاری اور سفاکی سے میرٹ اور اہل میڈیا ورکرز کے حقوق پامال کر کے میڈیا پر قابض ہیں۔ اصل میڈیا ورکرز (صحافیوں) کی حالت اتنی خراب ہے کہ اکثر کو سخت محنت کے باوجود وقت پر تنخواہ  نہیں ملتی۔ مختلف شہروں میں اخبارات و ٹی وی کے نمائندوں کو کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اِن اہل اور محنتی صحافیوں کو میڈیا ہاؤسز کے مالکان نے آج تک ویج بورڈ ایوارڈ کے مطابق تنخواہ اور لازمی سہولیات کبھی نہیں دیں۔ مذکورہ کرمنل مائنڈڈ، بہروپیے، سوکالڈ میڈیا پرسنز (اینکرز، کالم نویس وغیرہ) دسیوں لاکھ روپے ماہانہ آن ریکارڈ تنخواہوں کے علاوہ بے شمار مراعات حاصل کر رہے ہیں جب کہ حقیقی صحافی (میڈیا پرسنز) کے گھروں میں  فاقوں تک کی نوبت آئی ہوتی ہے۔

 یہ کرمنل  مائنڈڈ  کالم نویس، اینکر وغیرہ عوام کے تصور سے بھی زیادہ سفاک  اور بے حس ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ جن صحافیوں  کو وقت پر تنخواہ نہیں مل رہی یا وہ بے روزگار ہیں، یہ اُن کا اپنا قصور ہے۔ ہاں اُن کا قصور یہ ہے کہ وہ کرمنل مائنڈڈ، سوکالڈ میڈیا پرسنز (کالم نویس، اینکرز وغیرہ) کی طرح ضمیر فروش، سفاک اور بے حس نہیں ہیں۔

رکھیو غالب مجھے اِس تلخ نوائی سے معاف
آج کچھ درد مِرے دل میں سِوا ہوتا ہے

سفاک اور بےحس کرمنل مائنڈڈ، بہروپیے سوکالڈ میڈیا پرسنز (کالم نویس، اینکرز وغیرہ) کی بےحسی خدا تو دیکھ رہا ہے نا!  خدا محنتی، خود حلال کھانے اور اپنی اولاد کو حلال کھلانے والے میڈیا ورکرز کو اُن کا حق ضرور دلائے گا۔

آپ سب دردمند خواتین و حضرات  سے گزارش ہے کہ اہل، محنتی اور حلال کھانے والے حقیقی صحافیوں (میڈیا ورکرز) کے حق میں دعا کیجیے گا پلیز۔

Friday, June 15, 2018

بھارت میں زنا بالجبر کی وارداتیں: مودی کے نام 50سابق کلیدی بیوروکریٹس کا کھلا خط

 بھارت میں زنا بالجبر کی وارداتیں: مودی کے نام 50سابق کلیدی بیوروکریٹس کا کھلا خط

یہ اُس کھلے خط کا متن ہے جو ہم 50ریٹائرڈ سِول سروینٹ میڈیا کے ذریعے عزت مآب وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھیج رہے ہیں۔
ہم ریٹائرڈ سِوِل سروینٹس نے اپنے ملک کے آئین میں محفوظ تقدس کی حامل جمہوری، سیکولر اور لبرل اقدار کے زوال پر اپنی فکر و تشویش کے اظہار کے لیے پچھلے سال یہ گروپ تشکیل دیا تھا۔ موجودہ حکومت نے بڑی عیاری سے بتدریج بھارت میں نفرت،خوف اور شیطانیت کا جو ماحول طاری کر دیا ہے، اس کے خلاف بلند کی جانے والی دوسری احتجاجی آوازوں میں اپنی آواز ملانے کے لیے ہم نے یہ قدم اٹھایا تھا۔ ہم نے اُس وقت بھی آواز اٹھائی تھی اور ہم آج بھی آواز اٹھا رہے ہیں ۔۔۔ ایسے شہریوں کی حیثیت سے جن کا تعلق نہ تو کسی سیاسی جماعت سے ہے اور نہ ہی جو کسی سیاسی نظریے کے ماننے والے ہیں۔ ہمارا سروکار صرف اُن اقدار سے ہے جنھیں ہمارے آئین میں تقدس دیا گیا ہے۔
ہمیں امید تھی کہ آپ (نریندر مودی) نے آئین پر عمل کرنے کا حلف اٹھایا ہوا ہے اس لیے حکومت، جس کے آپ سربراہ ہیں اور وہ جماعت، جس سے آپ کا تعلق ہے، خطرناک زوال پر خوابِ غفلت سے جاگ اٹھیں گے، برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور سب کو، بالخصوص اقلیتوں اور معاشرے کے کم زور طبقات کو یقین دلائیں گے کہ انھیں اپنی جان اور آزادی کے کھو جانے کے خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ افسوس یہ امید خاک میں ملا دی گئی۔ اس کی بجائے کٹھوعہ اور اُنّاؤ میں ہونے والے واقعات کی دہشت نے ہمیں دم بخود کر ڈالا۔ ان واقعات سے عیاں ہوا کہ حکومت وہ بنیادی ذمہ داریوں ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جو عوام نے اسے سونپی تھیں۔ دوسری طرف اپنے اخلاقی، روحانی اور ثقافتی ورثے پر فخر کرنے والی قوم اور تحمل و برداشت، مظلوموں کے لیے دردمندی اور بھائی چارے جیسی مہذبانہ اقدار کو اپنا تہذیبی اثاثہ سمجھنے والے معاشرے کی حیثیت سے ہم بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ ہندووں کے نام پر ایک انسان کی دوسرے انسان کے خلاف بربریت و درندگی کو برقرار رکھ کر ہم انسان ہونے کی حیثیت میں بھی ناکام ہو چکے ہیں۔
ایک آٹھ سالہ بچی کو جس وحشت اور درندگی سے زنا بالجبر کے بعد قتل کیا گیا، اس سے عیاں ہوا کہ ہم اخلاقی زوال کی عمیق ترین کھائی میں گر چکے ہیں۔ بھارت کی آزادی کے بعد یہ اِس کی تاریخ کا تاریک ترین وقت ہے اور اس اخلاقی زوال پر ہماری حکومت اور ہماری سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کا ردِ عمل ناکافی اورکمزور ہے۔ تاریخ کے اس نازک موڑ پر ہمیں سرنگ کے آخری سِرے پر روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی اور شرم سے ہمارے سر جھکے ہوئے ہیں۔ ہمیں اس باعث بھی انتہائی شرم محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارے نوجوان رفقائے کار، جو اس وقت بھی ملازمت کر رہے ہیں خصوصاً ان اضلاع میں جہاں یہ خوف ناک واقعات رونما ہوئے ہیں، جن کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ کم زور اور بے بس افراد کا خیال رکھیں اور ان کا تحفظ کریں، وہ بھی اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
محترم وزیرِ اعظم! ہم نے صرف اجتماعی شرم کے اظہار کے لیے اور تہذیبی اقدار کو فنا کر دیے جانے پر اپنے کرب اور درد و غم کے اظہار کرنے اور سوگ منانے کے لیے ہی آپ کو خط نہیں لکھا بلکہ ہم نے یہ خط اپنے شدید غصے اور اشتعال کے اظہار کے لیے لکھا ہے۔ ہمیں آپ کی جماعت اور اس کی بے شمار شاخوں کے تقسیم و تفریق اور نفرت کے ایجنڈے پر شدید غصہ ہے۔ آپ کی جماعت کی وقتا فوقتاً ابھر آنے والی اکثر شاخیں خفیہ ہوتی ہیں۔ آپ کی جماعت اور اس کی ان گنت شاخوں نے تقسیم و تفریق اور نفرت کا یہ ایجنڈا ہماری سیاست کی گرامر، ہماری سماجی و ثقافتی زندگی اور حد تو یہ ہے کہ ہمارے روزمرہ کے بیانیے میں بڑی عیاری سے بتدریج متعارف کروایا ہے۔ اسی باعث کٹھوعہ اور اناؤ جیسے شرم ناک واقعات کو سماجی قبولیت اور جواز ملا ہے۔
جموں کے شہر کٹھوعہ میں سَنگھ پری وار (راشٹریہ سویم سیوک سَنگھ کے ارکان کی قائم کردہ انتہا پسند ہندو تنظیموں) نے ہندو اکثریت کی جنگجویانہ اور جارحانہ ثقافت کو فروغ دیا ہے جس نے ہندو اکثریت کے جنونی فرقہ پرست عناصر کو اپنے گھناؤنے ایجنڈے پر عمل کرنے کی جرأت دی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاسی اعتبار سے طاقتور افراد اور ہندووں اور مسلمانوں میں شدید ترین نفرت و عداوت پیدا کر کے حکومت حاصل کرنے والے لوگ ان کی تائید و حمایت کریں گے۔ اتر پردیش کے قصبے اُنّاؤ میں ووٹ اور سیاسی طاقت حاصل کرنے کی غرض سے بدترین پدرسری جاگیردار مافیا ڈانوں پر انحصار کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنی شخصی طاقت دکھانے کے لیے زنا بالجبر اور قتل اور بھتہ خوری کی آزادی حاصل ہو گئی ہے۔ طاقت اور اختیار و اقتدار کے اس گھناؤنے استعمال سے بھی بدتر امر یہ ہے کہ ریاستی حکومت زنا بالجبر اور قتل کے مبینہ ملزموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی بجائے زنا بالجبر کا نشانہ بننے والی بچی اور اس کے مظلوم خاندان کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ اس سے عیاں ہوتا ہے کہ حکومت کس قدر بے راہ روی اور کج روی کی شکار ہو چکی ہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اتر پردیش کی حکومت تب جا کر حرکت میں آئی جب ہائی کورٹ نے اسے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا حکم دیا۔ اس سے حکومت کی منافقت اور ملزموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اس کی نیم دلی عیاں ہے ۔
محترم وزیرِ اعظم! یہ دونوں واقعات جن ریاستوں میں رونما ہوئے وہاں آپ کی جماعت برسرِ اقتدار ہے۔ آپ کی جماعت میں آپ کی برتری نیز جماعت پر آپ اور جماعت کے صدر کے کنٹرول کے تناظر میں اس دہشت انگیز اور ہول ناک صورتِ حال کے سب سے زیادہ ذمہ دار آپ قرار پاتے ہیں۔ آپ نے اپنی ذمہ داری نبھانے اور تلافی کرنے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی اور اپنے ہونٹوں پر لگا چپ کا تالا صرف اس وقت توڑاجب بھارتی عوام اور بین الاقوامی برادری کا غصہ اس سطح تک پہنچ گیا کہ آپ اسے مزید نظر انداز کرنے کے قابل ہی نہیں رہے تھے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ آپ نے واقعے کی مذمت تو کی اور شرم کا اظہار تو کیا لیکن ایسے دہشت انگیز واقعات کا سبب بننے والی ہندو انتہا پسندی کی مذمت بالکل نہیں کی اور نہ ہی نفرت کو پروان چڑھانے والے سماجی، سیاسی اور انتظامی حالات تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اب ہم اس طرح تاخیر سے پیش کی جانے والی تاویلوں اور انصاف کرنے کے جھوٹے وعدوں کو مزید برداشت نہیں کر سکتے جب کہ سَنگھ پری وار کی پروردہ طاقتیں مذہبی انتہا پسندی کی بھٹی مسلسل بھڑکا رہی ہیں۔
محترم وزیرِ اعظم! یہ دو واقعات عام جرائم نہیں جن کے باعث ہمارے معاشرے کے سماجی اور اخلاقی وجود پر لگنے والے زخم وقت گزرنے کے ساتھ بھر جائیں گے اور گلشن کا کاروبار ایک بار پھر معمول کے مطابق چلنے لگے گا۔ ایسا نہیں ہونے والا۔ یہ وجودی بحران کی گھڑی ہے، ایک ہم ترین موڑ ہے ۔۔۔ اب حکومت جس انداز سے ردِ عمل کرے گی وہ اس امر کا تعین کرے گا کہ ہم ایک قوم اور ایک جمہوریہ کی حیثیت سے آئینی اقدار، حکمرانی اور اپنے اخلاقی نظام کے بحران پر قابو پانے کے اہل ہیں کہ نہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم آپ سے درجِ ذیل اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں:
* اناؤ اور کٹھوعہ میں مظلوموں کے اہلِ خانہ سے جا کر ملیں اور ہم سب کی طرف سے ان سے معافی مانگیں۔
* کٹھوعہ والے واقعے کے ملزموں کو جلد از جلد سزا دلوائیں اور اناؤ والے واقعے میں مزید تاویلات پیش کرنے کی بجائے عدالت کے ذریعے خصوصی تفتیشی ٹیم بنوائیں۔
* ان معصوم بچیوں اور نفرت کے جذبے کے زیرِ اثر کیے جانے والے جرائم کے شکار بننے والے تمام لوگوں کی یاد میں اس عہد کا احیا کریں کہ مسلمانوں، دلتوں، دوسری اقلیتوں، خواتین اور بچوں کو خصوصی تحفظ دیا جائے گا تاکہ انھیں اپنی جان اور آزادی کے حوالے سے مزید خوف نہ رہے نیز یہ عہد کریں کہ انھیں لاحق ہر خطرہ ریاست کی پوری طاقت استعمال کر کے مٹا ڈالا جائے گا۔
* نفرت کے جذبے کے تحت کیے جانے والے جرائم اور نفرت آمیز تقریریں کرنے والے ہر شخص کو حکومتی عہدوں سے ہٹا دیں۔
* نفرت کے جذبے کے زیرِ اثر کیے جانے والے جرائم کو سماجی، سیاسی اور انتظامی اعتبار سے ختم کرنے کے طریقوں پر غور کرنے کے لیے ایک کُل جماعتی اجلاس بلائیں۔
اگرچہ بہت تاخیر سے کیے جانے والے ان اقدامات کا فائدہ بہت کم ہو گا لیکن اس سے یہ احساس تھوڑا بہت بحال ہو گا کہ ملک کا نظام کسی حد تک اب بھی قائم ہے اور امید پیدا ہو گی کہ انارکی ختم کی جا سکتی ہے۔ ہم امید میں جی رہے ہیں۔

(بشکریہ دی ہندو؛  ترجمہ: محمد احسن بٹ)

عظیم قومیں، راہ نما اور تاریخ

امریکا کے ایک اہم ترین اخبار واشنگٹن پوسٹ کی  آج 15 جون 2018ء کی ایک ٹویٹ کے مطابق لنکن میموریل کی مرمت اور بحالی و بہتری کا کام کیا جا رہا ہے۔ اس کام  پر پاکستانی روپوں میں 3014000000.00 خرچ ہوں گے۔ عظیم ملک اور معاشرے اپنی تاریخ اور اپنے قومی راہ نماؤں کی اتنی قدر کرتے ہیں۔

Tuesday, June 12, 2018

Our Brains Deceive Us

The pictures that the imagination draws are so very delightful that we willingly predominate it to over reason till experience forces us to see the truth. - Philosopher Mary Wollstonecraft.

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...