Thursday, May 10, 2018

مودی کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف بھارتی محنت کشوں کا احتجاج

مصنف: شازیہ نگار
مترجم: محمد احسن بٹ

بھارتی عوام اور دانشور کہتے ہیں کہ محنت کشوں کے لیے بنائے گئے قوانین میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی نام نہاد اصلاحات نے محنت کشوں کو مزید کمزور کر دیا ہے جس سے ان کے استحصال کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کے لیبر قوانین میں مذکورہ اصلاحات کے نتیجے میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود کی سکیمیں خطرات سے دو چار ہو گئی ہیں اور ملازمت پیشہ افراد کی ملازمتوں کا تحفظ بھی برقرار نہیں رہا۔ اس تناظر میں چند ہی دن پہلے یومِ مئی کے موقع پر ممبئی میں ٹریڈ یونینوں نے ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا اور جلسے کا انعقاد کیا۔ اس احتجاجی جلسے کا اہم ترین پہلو یہ تھا کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیبر ونگ ’’ بھارتیہ مزدور سَنگھ‘‘ نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ ٹریڈ یونینوں کے احتجاجی جلسے میں محنت کشوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ 2019ء میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کو شکستِ فاش دی جائے گی۔ بھارت کا محنت کش طبقہ لیبر قوانین میں کی جانے والی ترامیم پر مضطرب اور مشتعل ہے جو نریندر مودی کی زیرِ قیادت قائم بی جے پی کی حکومت نے حالیہ برسوں میں کی ہیں۔ ٹریڈ یونینوں نے ان اصلاحات کو ’’مزدور دشمن‘‘قرار دیا ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد بھارت کو ورلڈ بینک کے ’’کاروبار میں آسانی کے اشاریے‘‘ میں اوپر لانا ہے۔ جہاں تک صنعت کاروں اور تاجروں تعلق ہے تو ان کے لیے نریندر مودی کی حکومت کی یہ اصلاحات خوش کن ہیں۔ راجستھان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اصلاحات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان اصلاحات نے ’’وقت ضائع کرنے والی قانونی پیچیدگیاں ختم کرنے میں مدد دی ہے۔‘‘یکم مئی 2017ء کو بھارت کے وزیرِ محنت بندارو دَتّا تریہ نے ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی تھی۔ یہ تحقیقی رپورٹ وی وی گِری نیشنل انسٹی ٹیوٹ نے تیار کی تھی۔ اس تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اصلاحات کا اثر محض علامتی ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ میں راجستھان، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور آندھرا پردیش کی ریاستی حکومتوں کی اپنی اپنی ریاست کے لیبر قوانین میں کی جانے والی ترامیم کے اثرات و نتائج کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ ترامیم انڈسٹریل ڈسپیوٹ ایکٹ 1974ء، فیکٹریز ایکٹ 1948ء اور کنٹریکٹ لیبر ایکٹ 1970ء سمیت چند دوسرے لیبر قوانین میں کی گئی ہیں۔ لیبر قوانین میں ان ترامیم سے کاروبار مکمل ختم کرنے، محنت کشوں کو ملازمت پر رکھنے اور ملازمت سے نکالنے، کاروبار کی آن لائن رجسٹریشن، یونینوں کو تسلیم کیے جانے اور اجرتوں کی تلافی سمیت بہت سے دوسرے معاملات میں بہت زیادہ آسانیاں مہیا کی گئی ہیں۔

اس تحقیقی رپورٹ کی تیاری کے لیے کام کرنے والے سنجے اُپادھیائے اور پنکج کمار کہتے ہیں: ’’یہ اصلاحات نہ تو بڑی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں اور نہ ہی صنعتوں اور ملازمتوں میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔ لیبر قوانین میں ان ترامیم کا واحد نتیجہ یہ نکلا ہے کہ محنت کشوں کے استحصال میں اضافہ ہو گیا ہے اورا نھیں فراہم کی جانے والی سہولیات مزید گھٹا دی گئی ہیں۔ ملک کے محنت کش طبقے کے لیے کام کرنے کے حالات بھی پہلے سے زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔‘‘ یونیورسٹی آف لندن کے سکول آف اوریئنٹل اینڈ افریقن سٹڈیز کے لیکچرر ڈاکٹر جینس لرچے نے نریندر مودی کے بھارت میں لیبر قوانین میں کی جانے والی ترامیم کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے یہ تحقیقی جائزہ 2015ء میں لیا تھا۔ انھوں نے ان اصلاحات کے متنازع ہونے کی تین وجوہ کی نشان دہی کی۔ انھوں نے کہا کہ ان ترامیم نے ’’محنت کشوں کو ملازمتوں سے نکال باہر کرنا آسان بنا دیا ہے، چھوٹی فیکٹریوں کو قوانین و ضوابط کی پابندی سے آزادی مل گئی ہے اور کارخانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی نمائندگی کرنے والی ٹریڈ یونینوں کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جانا مشکل بنا دیا ہے۔ ‘‘
سب سے متنازع ترمیم جس کا اطلاق بھی سب سے بڑے پیمانے پر کیا گیا، انڈسٹریل ڈسپیوٹ ایکٹ میں کی گئی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے کارخانوں اور کمپنیوں کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ حکومت سے اجازت لیے بغیر اپنی مرضی سے جب چاہیں کارخانہ یا کمپنی ختم کر سکتے ہیں اور محنت کشوں کو ملازمتوں سے نکال سکتے ہیں یا ان کی تعداد میں کمی کر سکتے ہیں۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات اور مہاراشٹر میں پہلے ایک سو (100) محنت کشوں کو ملازمتوں سے نکالا جا سکتا تھا۔ نرنیدر مودی حکومت کی انڈسٹریل ڈسپیوٹ ایکٹ میں ترمیم کے بعد کارخانہ دار یا کمپنی کے مالکان ایک سو (100) کی بجائے تین سو (300)محنت کشوں کو ملازمتوں سے نکال سکتے ہیں۔ آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی مہاراشٹر شاخ کے صدر سکمر ڈاملے نے اس ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’کارخانوں کے مالکان دونوں طرح کے فائدے اٹھانا چاہتے ہیں ۔۔۔ حکومت سے اجازت لیے بغیر محنت کشوں کی تعداد میں کمی کرنا اور محنت کشوں کو ان کی سہولیات سے محروم کرنے کے لیے انھیں کنٹریکٹ پر بھرتی کرنا۔ ہم سختی سے اس کی مخالفت کریں گے۔‘‘ انڈسٹریل ڈسپیوٹ ایکٹ میں کی جانے والی ایک ترمیم نے ٹریڈ یونین قائم کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ قانونی اعتبار سے منظور شدہ ٹریڈ یونین بنانے کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ کسی کارخانے یا کمپنی میں کام کرنے والے تمام محنت کشوں میں سے 30فی صد محنت کش اس ٹریڈ یونین کے رکن ہوں۔ اس ترمیم سے پہلے 15فی صد محنت کشوں کی رکنیت کی حامل ٹریڈ یونین کو قانونی اعتبار سے محنت کشوں کی نمائندہ تسلیم کر لیا جاتا تھا۔ انڈسٹریل ڈسپیوٹ ایکٹ میں کی جانے والی ایک اور ترمیم کے تحت آجر اور اجیر یعنی محنت کش اور کارخانوں یا کمپنیوں کے مالکان عدالت کے باہر ہی اپنے جھگڑوں کا تصفیہ کر سکتے ہیں۔ اس کا زیادہ فائدہ کارخانوں اور کمپنیوں کے مالکان کو ہوا ہے کیوں کہ عدالت کا خوف ختم ہونے کے بعد وہ محنت کشوں کو دھونس دھاندلی سے اپنے حقوق سے دست بردار ہونے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ایک ٹریڈ یونین راہ نما رامانند کمار کہتے ہیں، ’’یہ ترمیم کارخانہ داروں اور کمپنیوں کے مالکان کے حق میں ہے اور محنت کشوں کو عدالت سے رجوع کرنے کے حق سے محروم کرتی ہے۔ کارخانوں اور کمپنیوں کے مالکان طاقتورہوتے ہیں اس لیے عدالت کے باہر کیے جانے والے تصفیے میں عموماً منصفانہ فیصلے نہیں کیے جاتے۔‘‘
جہاں تک فیکٹریز ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم کا تعلق ہے تو حکومت نے یہ کہتے ہوئے اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی کہ پرانے ضوابط کے تحت چھوٹے کارخانے ’’فیکٹری‘‘ کی تعریف میں آ جاتے تھے اور فیکٹریوں پر لاگو ہونے والے ضوابط پر عمل کرنے سے ان کی توسیع اور ترقی متاثر ہوتی تھی۔ یونیورسٹی آف لندن کے سکول آف اوریئنٹل اینڈ افریقن سٹڈیز کے لیکچرر ڈاکٹر جینس لرچے کہتے ہیں: ’’دس (10) محنت کشوں سے کم محنت کشوں والی فیکٹریوں کو تو پہلے ہی غیر رسمی شعبے میں شمار کیا جا رہا ہے لہٰذا انھیں تو پہلے ہی بیش تر لیبر قوانین سے چھوٹ دی جا چکی ہے۔ اب غیر رسمی شعبے کے لیے بالائی حد بڑھا کر بیس (20)کر دی گئی ہے اور اس سے کم محنت کشوں والی فیکٹریاں چودہ (14) لیبر قوانین سے آزاد ہوں گی۔ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ان میں وہ قوانین بھی شامل ہیں جو ملازمت کے دوران محنت کشوں کا تحفظ، ان کی صحت اور بہبود یقینی بناتے تھے۔‘‘ بینک آف مہاراشٹر ایمپلائیز یونین کے جنرل سیکریٹری وِشال اُتاگی یومِ مئی پر منعقد کیے گئے احتجاجی جلسے اور جلوس کے انتظامات میں پیش پیش تھے۔ انھوں نے ایک اور مزدور دشمن ترمیم کی نشان دہی کی ہے۔ انھوں نے پچھلے مہینے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ’’2017ء میں کنٹریکٹ لیبر (ریگولیشن اینڈ ایبولِیشن) ایکٹ میں جو ترمیم (مہاراشٹر میں) کی گئی ہے، اس کے لیے سراسر غیر جمہوری انداز اپنایا گیا تھا۔ اس ترمیم کے تحت آجر انچاس (49) محنت کشوں کو کنٹریکٹ پر بھرتی کر سکتا ہے اور اسے ایمپلائز سٹیٹ انشورنس کے فوائد، وردی، چھٹیاں اور دوسری سہولیات دینے کی پابندی سے آزاد کر دیا گیا ہے۔‘‘ ان نام نہاد اصلاحات سے پہلے بیس (20) یا بیس سے زیادہ محنت کشوں کی حامل فیکٹریوں پر لازم تھا کہ وہ اپنے ملازموں کو یہ سہولیات فراہم کریں۔ اب محنت کشوں کو صرف اس صورت میں یہ سہولیات مل سکتی ہیں کہ فیکٹری میں کام کرنے والے محنت کشوں کی تعداد پچاس یا پچاس سے زیادہ ہو۔ حکومت کا استدلال ہے کہ پہلے محنت کشوں کی جو کم سے کم تعدادسہولیات کے حصول کے لیے مقرر کی گئی تھی، اس کی وجہ سے آجروں کو محنت کش بھرتی کرتے یا چھوٹے کاروباری اداروں سے ضروری اشیا کی خریداری کرتے ہوئے دشواری ہوتی تھی کیوں کہ چھوٹے کارخانوں یا کمپنیوں کو اس قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مشکلات پیش آتی تھیں۔
سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز (سی آئی ٹی یو) کے جنرل سیکریٹری تپن سین لیبر قوانین میں مودی حکومت کی اصلاحات کے سرگرم ناقد ہیں۔ انھوں نے نشان دہی کی کہ اپرنٹس ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم کے تحت کسی فرم میں بھرتی کیے جانے والے اپرنٹسوں کی تعداد بڑھا کر اس فرم میں کام کرنے والے تمام محنت کشوں کی تعداد کے 10فی صد کی بجائے25فی صد کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا، ’’اس ترمیم کے تحت حکومت اپرنٹسوں کو دیے جانے والے معاوضے ادا کرے گی جب کہ وہ نجی آجروں کے لیے کام کریں گے۔ اس کے علاوہ اس ترمیم کے تحت اپرنٹس شپ کے دورانیے کا تعین بھی نہیں کیا گیا۔‘‘ اس طرح نجی فیکٹریاں لامختتم مدت تک اپرنٹس شپ جاری رکھتے ہوئے محنت کشوں کو ان سہولیات سے محروم رکھ سکتی ہے جو باقاعدہ ملازموں کو دینا لازم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 2017ء کے سوشل سکیورٹی ڈرافٹ بل کے نتیجے میں ’’ایمپلائیز سٹیٹ انشورنس اور ایمپلائیز پراویڈینٹ فنڈ جیسی بنیادی اہمیت کی حامل سہولیات ختم ہو جائیں گی۔‘‘ اس کے علاوہ یہ بل ان محنت کشوں کے بہت سے فلاحی بورڈ اور بہبود فنڈ بھی ختم کر دے گا جو کارخانوں کے باقاعدہ ملازم نہیں۔ مزید بر آں مجوزّہ ’’فکسڈ ٹرم ایمپلائمنٹ‘‘ کی ترمیم تمام فرموں کو اجازت دیتی ہے کہ وہ کم عرصے کے لیے محنت کشوں کو ملازمت پر رکھ سکتی ہیں اور نوٹس دیے بغیر ملازمت سے نکال سکتی ہیں۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء تک بھارت کے77فی صد محنت کش ’’غیر محفوظ ملازمتیں‘‘ کر رہے ہوں گے۔ ’’غیر محفوظ ملازمتوں‘‘ سے ایسی ملازمتیں مراد ہیں جن کے اجرتیں کم سے کم اجرت سے بھی تھوڑی ہوتی ہیں، کام مشکل ہوتا ہے اور حالاتِ کار خطرناک ہوتے ہیں (مثلاً لمبی شفٹوں میں کام لیا جانا اور ملازمت کا تحفظ نہ ہونا وغیرہ)، کام کا ماحول غیر محفوظ ہوتا ہے اور تمام لیبر قوانین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ یاد رہے یہ رپورٹ اُسی انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے جاری کی ہے، ہندوستان جس کا 1922ء سے بانی و مستقل رکن ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ بھارت کی وزارتِ محنت و روزگار نے بار بار رابطوں کے باوجود اس معاملے پر اپنی رائے نہیں دی۔



Monday, May 7, 2018

بھارت: زنا بالجبر کی شکار مسلم بچی سے کسی کو ہمدردی نہیں


مصنف: جیفری جیٹلمین



آٹھ سالہ بچی سے کسی کو ہمدردی نہیں تھی۔ یہ ایسے تھا جیسے اسے انسان ہی نہ سمجھا جا رہا ہو، جیسے اس کی زندگی سوائے ایک شکار کے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہو۔ پولیس کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ہندو نوجوانوں کے ایک ٹولے نے اس کا انتخاب بطورِ خاص ایسا پیغام بھیجنے کے لیے کیا تھا جو اس بچی کی مسلمان خانہ بدوش قوم میں دہشت پھیلا دے۔ انھوں نے باقاعدہ منصوبہ بنا کر اسے ایک چراگاہ سے اغوا کیا تھا، نشہ طاری کر دینے والی چیزیں اس کے حلق میں ٹھونسی تھیں اور اسے ایک مندر میں تین دن مقید رکھا تھا، جہاں انھوں نے اسے مارا پیٹا، اس کے ساتھ زنا بالجبر کیا اور آخرِ کار اس کا گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس کا قد محض ساڑھے تین فٹ تھا اور وہ اپنا دفاع کرنے کے قابل بالکل نہیں تھی۔ جہاں بھارت کے مختلف شہروں اور بین الاقوامی سطح پر غصہ بھرے احتجاجی مظاہرے ہوئے وہاں جموں و کشمیر کی اس بستی رسانا میں، جہاں اس بچی کو قتل کیا گیا تھا، موڈ مختلف ہے۔ رسانا ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ اس میں کُل بیس گھر ہیں اور اس کے ایک سِرے سے دوسرے تک پیدل جانے میں صرف پانچ منٹ لگتے ہیں۔ خشک، خراشیں ڈالنے والی گندم کے کھیتوں سے، جن سے گائے کے گوبر کی بو آ رہی ہے،اور نیچی بیرونی دیواروں والے چھوٹی اینٹوں کے مکانات سے آگے جائیں تو آخرِ کار آپ ایک گلابی رنگ کے مندر تک پہنچ جاتے ہیں، جس پر اب قفل پڑا ہے۔ یہاں نہ تو شرمندگی ہے اور نہ ہی ہمدردی۔ ہندو اکثریت والی اس بستی کے چند لوگ ہی اس غیر انسانی جرم یا اس حقیقت کے بارے میں بات کر رہے ہیں کہ صدمے کے شکار لڑکی کے ماں باپ بستی سے بھاگ چکے ہیں۔ انھیں اپنی بیٹی کی لاش اپنے گھر کے نزدیک دفنانے سے روک دیا گیا تھا، اس لیے اِس گھرانے کو اُس کی لاش اپنے ساتھ لے جانا پڑی۔
اس کی بجائے آپ ایسی باتیں سنیں گے: ہماری زمین اور ان کی زمین۔ ہم اور وہ۔
نزدیکی بستی کے ایک بھاگ مَل نامی بوڑھے نے کہا، ’’یہ ہندووں کی ہمت توڑنے کی بڑی سازش ہے۔‘‘ بھاگ مل کو اصرار تھا کہ بچی کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے آٹھ آدمیوں کو بلاوجہ پکڑا گیا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ اس سازش کے پیچھے کون ہے؟ تو اس نے غصہ بھری آواز میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا، ’’علیٰحدگی پسند۔‘‘ اس کا اشارہ ریاست جموں و کشمیر کے دوسرے حصے کے مسلمانوں کی طرف تھا جو بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ بہت سے بھارتیوں کو امید تھی کہ 2012ء میں دہلی میں ایک بس میں ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ اجتماعی زنا بالجبر کے واقعے کے بعد صورتِ حال تبدیل ہو جائے گی لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔ چند قوانین سخت بنا دیے گئے تھے اور اب بھارتی حکومت چاہتی ہے کہ چھوٹی بچیوں کے ساتھ زنا بالجبر کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے لیکن زنا بالجبر کے مقدمات میں سزا دینے کی شرح بہت کم ہے جب کہ درجنوں بھارتی سیاست دان جنسی جرائم کے الزامات کے باوجود منتخب ہو چکے ہیں۔
بھارت مذہب، نسل اور سیاسی خطوط پر اتنا زیادہ منقسم ملک ہے کہ اس قدر ہول ناک جرم کو بھی فوراًسیاست کے رنگ میں رنگ دیا گیا ہے۔بہت سے ہندو اہلِ علم انتہا پسندی کے عروج کو اس کا الزام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں مسلمانوں کے خلاف کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے خواہ وہ کہیں بھی ہوں اور کتنے کم عمر ہی کیوں نہ ہوں۔ بچی کی ہلاکت کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی پر، جن کی جماعت کی جڑیں ہندو قوم پرستی میں ہیں، اس جرم کی مذمت فوراً نہ کرنے پر سخت تنقید کی گئی۔ انھوں نے اس واقعے اور زنا بالجبر کے ایک اور حالیہ واقعے پر تب بات کی جب ہر طرف احتجاج برپا ہوا۔ انھوں نے کہا، ’’ہماری بیٹیوں کو انصاف ضرور ملے گا۔‘‘ ان کی جماعت کے عہدے داروں نے اس بات سے انکار کیا کہ انھوں نے دونوں واقعات کے حوالے سے غلط طرزِ عمل اپنایا تھا۔ انھوں نے یہ بات بھی تسلیم نہیں کی کہ ان کی سیاست نے بھارت کو ایک دوسرے کے شدید مخالف دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بچی کی ہلاکت کے بعد وہ تو صرف ’’لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کر رہے تھے۔‘‘ بہرحال مودی کی جماعت کے بعض اعلیٰ عہدے دار بچی کے قتل کے معاملے میں ملوث افراد کا شدومد سے دفاع کر رہے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کئی سال سے بی جے پی کا رویہ ایسا ہی چلا آ رہا ہے۔ تیروواننتا پورم کے سینٹر فار ڈیویلپمنٹ سٹڈیز سے تعلق رکھنے والی تاریخ داں جے دِیویکانے کہا، ’’نوجوانوں کو پڑھایا گیا ہے کہ مسلمان اس قوم پر دھبہ ہیں ۔۔۔ ان کے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو، کرو۔‘‘ انھوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ان کے اتحادیوں پر الزام لگایا کہ انھوں نے ’’ہندو مذہب کو ہتھیار بنا لیا ہے۔‘‘ انھوں نے ایک اور واقعے کا بھی ذکر کیا جس میں ایک ہندو جنونی نے کلہاڑی کے وار کر کے ایک مسلمان کو قتل کر دیا تھا۔ قاتل نے اس کی دہشت ناک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی، جو بہت بڑی تعدا میں شیئر کی گئی۔قاتل ہندو انتہا پسندوں میں راتوں رات مشہور ہو گیا۔ جہاں بہت سے بھارتیوں کو اس واقعے پر افسوس ہوا، وہاں بے شمار بھارتی اس پر خوش ہوئے۔ ہندو انتہا پسندوں کے ہول ناک جرائم کی فہرست طویل ہے۔ گائے لے جانے والے مسلمانوں کو ہندووں کے ہجوم نے تشدد کر کے ہلاک کر ڈالا۔ ایک مسلمان لڑکے کو ٹرین میں خنجر گھونپ دیا گیا۔ ابھی پچھلے ہی ہفتے پولیس نے کہا کہ نریندر مودی کی سیاسی جماعت کے ایک نوجوان راہنما نے شیخی بگھارتے ہوئے بتایا کہ اس نے روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کے سینکڑوں مکانات جلا کر خاکستر کر ڈالے۔ ایک حالیہ تجزیے کے مطابق نریندر مودی کی آنکھوں کے سامنے نفرت کی وجہ سے کیے جانے والے جرائم میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ بچی کا قتل اسی عام ہو جانے والی نفرت کا ہی نتیجہ ہے۔ زیادہ تر مسلمان اور نچلی ذات کے ہندو نفرت کا نشانہ بنتے ہیں۔ رسانا میں موجود سرکاری اہل کاردونوں طرف کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
بھارت کے بیش تر علاقوں میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ اس علاقے میں بھی مسلمان اور ہندو ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور عموماً ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ انداز اپنائے رکھتے ہیں تا وقتے کہ کوئی انھیں اکسا نہ دے۔ آٹھ سالہ بچی سے زنا اور اسے قتل کرنے کے مقدمے میں عدالت میں سب سے پہلے ہندو وکیلوں نے پولیس کے سپاہیوں کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ اس کے بعد احتجاج در احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ نریندر مودی کی جماعت کے کارکنوں اور عہدہ داروں نے جلوس نکالے اور توڑ پھوڑ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ افراد کو اس مقدمے میں پھنسایا گیا ہے اور وہ بے قصور ہیں۔ درجنوں ہندو عورتیں بھی ان کے احتجاجی جلوس میں شریک ہوئی تھیں۔ ان ہندو عورتوں نے بھوک ہڑتال کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کریں گی۔ ان میں سے کئی ہندو عورتوں نے ایسا ہی کیا اور قریب المرگ ہونے پر انھیں ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا۔ احتجاج کرنے والے ہندو ایک سی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ ریاستی حکومت پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ریاستی پولیس کی بجائے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) تفتیش کرے۔ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) ایک وفاقی ایجنسی ہے جس کے بارے میں سب کہتے ہیں کہ وہ نریندر مودی کی جماعت کے اشاروں پر کام کرتی ہے۔ دوسری طرف ریاست کے دوسرے حصوں میں مسلمانوں نے احتجاجی جلوس نکالے۔ پولیس نے انھیں روکا تو ان کا پولیس کے ساتھ تصادم ہو گیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مشتبہ افراد کو پھانسی دی جائے۔ اگرچہ ریاستِ جموں و کشمیر کا زیادہ تر انتظام بھارت کے ہاتھ میں ہے لیکن یہ پاکستان کے ساتھ عشروں سے جاری خوں ریز تنازع کا باعث چلی آ رہی ہے۔ ریاست کی حکومت پہلے ہی حالات و واقعات سے گھبرائی ہوئی ہے۔ اسے وادئ کشمیر کے عوام کی لامختتم شورش اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے شدید ترین کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ یہ حکومت محض سیاسی مقاصد سے بنائے گئے ایک عجیب و غریب اتحاد کی حکومت ہے جس میں خودمختاری کے لیے کام کرنے والی مسلمانوں کی ایک جماعت اور نریندر مودی کی دائیں بازو کی ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، جسے بی جے پی کہا جاتاہے، شامل ہیں (دونوں جماعتوں نے اتنے ووٹ حاصل نہیں کیے تھے جو حکومت بنانے کے لیے کافی ہوتے۔) اپریل کے وسط میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے اُن دو وزیروں کو استعفے دینے پر مجبور کر دیا گیا جنھوں نے آٹھ سالہ بچی سے زنا اور قتل کرنے میں ملوث ملزمان کے حق میں نکالے جانے والے احتجاجی جلوسوں میں شرکت کی تھی۔ اس اقدام کا مقصد کمزور سیاسی اتحاد کو بچانا تھا۔ اب بھی وہ دونوں سابق وزیر ملزموں کے حق میں نکالے جانے والے وکیلوں کے احتجاجی جلوسوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ پورے بھارت میں، خصوصاً بڑے شہروں میں، ہر مذہب کے لوگوں نے اس جرم اور اس کے بعد ابھرنے والی تفریق کے خلاف غصے کا اظہار کیا لیکن اکسانے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کے کئی اخبارات اور نیوز چینلوں کے مطابق ایک ہندو وکیل نے اس جرم کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر کی تذلیل کی۔ اگرچہ فردِ جرم کسی ڈراؤنی فلم کے سکرپٹ کی طرح رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے لیکن مقامی سطح پر اس دہشت انگیز جرم کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ بچی کے باپ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ 10جنوری کی شام کو گڑبڑ کے پہلے آثار نظر آئے تھے، جب پانچ گھوڑے اپنی آٹھ سالہ مالکن کے بغیر واپس آئے تھے۔ بچی کو گھوڑوں سے بہت پیار تھا۔ وہ اپنے دوپٹے کو لگام کی جگہ استعمال کرتے ہوئے ان پر لگاموں کے بغیر سواری کیا کرتی تھی۔ اسے بہت تلاش کیا گیا لیکن وہ کہیں نہ مل سکی۔ اس کے باپ نے محسوس کر لیا تھا کہ یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس نے جلدی سے ٹارچ اٹھائی اور ہر گڑھے، کھائی، نالے اور کھیتوں میں اسے ڈھونڈا۔ وہ کہیں نہیں ملی۔ انھوں نے اسے گھر گھر تلاش کیا۔ وہ کسی بھی گھر میں نہیں ملی۔ ان کی پریشانی بڑھتی گئی۔ بہت سے دوسرے خانہ بدوش بھی ان کے ساتھ تلاش میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے نزدیکی جنگل میں تلاش کیا اور ایک چھوٹے سے مندر تک پہنچ گئے۔ خانہ بدوشوں نے بتایا کہ مندر کے نگران نے انھیں ڈرا یا دھمکایا۔ وہ ایک سابق ریوینیو افسر ہے، جو دست شناسی، علمِ نجوم اور مستقبل بینی کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس نے تحکم آمیز لہجے میں لڑکی کے والدین کو تسلی دی کہ فکر نہ کرو، تمھاری بچی خیریت سے ہے۔ کوئی اس کی حفاظت کر رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ٹھیک اسی وقت اسی مندر کے نگران کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے نوجوان مرد مندر کے اندر بچی کے ساتھ زنا بالجبر کر رہے تھے۔ تین دن بعد انھوں نے بچی کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تفتیش کار کہتے ہیں کہ جرم کا مقصد نسلی صفایا کے سوا کچھ نہیں تھا۔
تفتیش کاروں نے کہا کہ مندر کا نگران سانجی رام اپنے علاقے میں خانہ بدوشوں کے آنے کے باعث ان سے نفرت کرتا تھا اور اس نے انھیں وہاں سے بھگانے کی نیت سے اس جرم کا منصوبہ بنایا تھا۔ خانہ بدوشوں کا تعلق بکروال کہلائے جانے والے ایک نسلی گروپ سے ہے، جس کے اکثر لوگ مسلمان ہیں۔ وہ لوگ کئی نسلوں سے بھیڑبکریوں کے گلّوں اور گھوڑوں اور کتوں کے ساتھ پورے جموں و کشمیر کے اونچے نیچے پہاڑوں ، وادیوں میں اور سڑکوں کے کنارے کنارے پھرتے رہتے ہیں۔ وہ ہائی ویز کے نزدیک لگائے گئے اپنے رنگ برنگے خیموں اور اپنی چمک دار آنکھوں کی وجہ سے دوسروں سے الگ دکھائی دیتے ہیں۔ بکروال بزرگ کہتے ہیں کہ انھیں اپنی برادری کے لوگوں کی تعداد کا علم نہیں، شاید ان کی تعداد 200,000ہو۔اسی طرح انھیں اپنی اصل کا بھی ٹھیک سے علم نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ کوہِ قاف سے آئے تھے اور بعض کہتے ہیں وہ افغانستان سے آئے تھے۔ ایک بکروال بزرگ طالب حسین نے کہا، ’’ہماری تاریخ کسی نے نہیں لکھی۔‘‘ بہرحال بکروال خانہ بدوشوں کے لیے زندگی بدل رہی ہے۔چند گھرانوں نے رسانا کے علاقے میں ہندو کاشت کاروں سے زمین خرید کر وہاں آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے پکی اینٹوں سے مکان تعمیر کروائے اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کا سوچا۔ یہ ان کے لیے آگے کی طرف ایک بہت بڑا قدم تھا۔ مقتول بچی کا گھرانا بھی ان گھرانوں میں شامل تھا۔ مشتعل سانجی رام کے بارے میں بستی والے کہتے ہیں کہ وہ راسخ العقیدہ ہندو اور نریندر مودی کا جوشیلا مداح تھا۔بستی کے بہت سے لوگوں نے بتایا کہ سانجی رام ہندو خانہ بدوشوں کو تو اپنی زمین کاشت کاری کے لیے بخوشی دے دیتا تھا لیکن مسلمانوں کو بالکل نہیں دیتا تھا۔ تفتیش کارکہتے ہیں کہ سانجی رام نے آٹھ سالہ بچی کو اغوا کرنے کے لیے اپنے بیٹے، بھانجے اور چند دوسرے نوجوانوں کو تیار کیا تھا۔ (بچی کا نام اس باعث لکھا نہیں جا رہا کیوں کہ ایک بھارتی عدالت نے صحافیوں کو دھمکی دی ہے کہ بچی یا اس کے گھرانے کے افراد کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات افشا کیں تو انھیں جیل بھیج دیا جائے گا۔ عدالت کہتی ہے کہ اس گھرانے کی عزت محفوظ رکھنے کی غرض سے ایسا کرنا ضروری ہے حالاں کہ پولیس پہلے ہی بچی کا نام بتا چکی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کا نام عام ہو چکا ہے۔) بچی کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش ایک کھائی میں پھینک دی گئی تھی۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ دو پولیس والوں نے، جو ہندو تھے، ثبوت و شواہد مٹا دیے۔ انھوں نے بچی کا لباس کرائم لیبارٹری بھیجے جانے سے پہلے صاف کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے بہانہ بنایا کہ وہ تو ڈی این اے ثبوت ڈھونڈ رہے تھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ آٹھوں مشتبہ افراد نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ رسانا کے ہندووں کو اس بات پر یقین نہیں۔ ایک دن چند ہندو بوڑھے مجھے جنگل کے سِرے پر واقع گلابی رنگ کی عمارت والے مندر میں لے گئے۔ کنکریٹ کا فرش دھو کر صاف کر دیا گیا تھا، دیواریں ہندو دیوی، دیوتاؤں کے شوخ رنگوں والے پرانے پوسٹروں سے سجائی گئی تھیں۔ مندر میں سانجی رام کے ایک معاون سریش شرما نے کہا، ’’دیکھیں، بچی کو یہاں قید نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہاں لوگ ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں۔‘‘ لیکن اس کی بات پر یقین کرنا بہت مشکل ہے۔ صرف چند ہی گھروں کے لوگ اس مندر میں آتے ہیں جب کہ بہت سے گھر ویران پڑے ہیں۔

بشکریہ نیو یارک ٹائمز

آدرشوں سے بے وفائی

صرف جنوبی افریقا کو اس کی بد عنوانی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنانا منصفانہ عمل نہیں ۔ وہ ذیلی صحارائی افریقا کے ملکوں میں بد عنوانی کا بدترین مجرم نہیں ہے جب کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی فہرست کے مطابق بھارت جیسے دنیا کے بدعنوان ترین ملکوں سے تو ہزار درجہ بہتر ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقا فعال جمہوری اداروں اور جاں دار پریس کا حامل بھی ہے۔ بہرحال ملکوں کو دنیا کے دوسرے ملکوں کے مقابل رکھ کر جانچنے کی بجائے انھیں ان کے اپنے امکانات اور وعدوں کی روشنی میں جانچا جانا چاہیے۔اس زاویے سے دیکھا جائے تو جس افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) نے نیلسن منڈیلا کی قیادت میں چوتھائی صدی پہلے نسل پرستی پر فتح پائی تھی، اب اس کے گلے میں بد عنوانی کا طوق پڑ چکا ہے۔ نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی نوریمیٹسو اونیشی اور سلام جبریکیدان کی رپورٹ کے مطابق یہ امر بطورِ خاص غصہ دلانے والا ہے کہ ریاست کے خزانے سے اڑا لیے جانے والے کروڑوں ڈالر نسل پرستی کے منفی اثرات کے باعث پس ماندگی سے دوچار غریبوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ جہاں سیاسی اعتبار سے آپس میں جڑی کمپنیاں اور افراد دولت مند ہو چکے ہیں، وہاں اُن کے اور غریبوں کے مابین خلا بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ یاد رہے غریبوں میں زیادہ تعداد سیاہ فاموں کی ہے۔ ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق نسل پرستی کے خاتمے کے بعد تھوڑی بہت ترقی کے باوجود جنوبی افریقا اب بھی ’’دنیا کے ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں نابرابری اور عدم مساوات سب سے زیادہ ہے۔‘‘
تبدیلی کا امکان اس وقت واضح ہوا جب بالآخر فروری میں افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) نے صدر جیکب زوما کو زبردستی ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ جیکب زوما کے اقتدار کے نو (9 ) سال انتہائی گھناؤنی بد عنوانی سے لتھڑے ہوئے تھے۔ اب وہ بد عنوانی، بد دیانتی، فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے بعد صدارت کے منصب پر متمکن ہونے والے سرل رامافوسا نے اپنے اوّلین صدارتی خطاب میں وعدہ کیا تھا کہ ’’اس سال ہم اپنے سرکاری اداروں سے بد عنوانی کی لہر کا رُخ موڑ دیں گے۔‘‘ بہرحال سرل رامافوسا خود بھی افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) کے پرانے رکن ہیں اور ان کے پاس جتنی دولت موجود ہے، اس کا بڑا حصہ انھوں نے پارٹی سے اپنے تعلق کے ذریعے کمایا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کابینہ میں ایسے لوگ شامل ہیں جن پر بد عنوانی کے الزامات ہیں۔ ہو سکتا ہے خود نیلسن منڈیلا اس صورتِ حال کے ذمہ دار ہوں کیوں کہ جب انھوں نے سفید فام اقلیت کے ساتھ عظیم معاہدہ کیا تھا تب سفید فام اقلیت نے آخرِ کار سیاست کا کنٹرول تو سیاہ فام اکثریت کے حوالے کر دیا تھا لیکن بہت سے معاشی وسائل سفید فاموں ہی کے ہاتھوں میں رہ گئے تھے۔ نیو یارک ٹائمز کے محولہ بالا مضمون کے مطابق اس کے سبب رشوت لینے دینے کی ترغیب ملی تھی۔ جہاں خامیوں سے معمور انتقالِ اقتدار بد عنوانی میں اضافے کا باعث بنا، وہاں ان حکام کی بد دیانتی و خیانت کا کوئی جواز نہیں جنھوں نے نیلسن منڈیلا کی قیادت میں برپا ہونے والی تحریک کے آدرشوں اور آرزووں کے تحت پرورش پائی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا سرل رامافوسا اور افریقن نیشنل پارٹی (اے این سی) ان آدرشوں اور آرزووں کو پورا کرنے کے اہل ہیں یا نہیں؟

دو منٹ واک زندگی طویل کرتی اور جلد مرنے سے بچاتی ہے


مصنف: گریٹکن رینلڈز
ترجمہ: محمد احسن بٹ


دو منٹ واک کیجیے۔ یہ عمل پندرہ مرتبہ دہرایئے۔ یا پھر تین مرتبہ دس دس منٹ واک کیجیے۔ جسمانی سرگرمی اور زندگی کے دورانیے کے بارے میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ان دونوں ورزشوں پر عمل کرنے والوں کو فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ طویل عمر پاتے ہیں۔ اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ورزش کے فائدہ بخش ہونے کے لیے اس کا دیر تک کیا جانا ضروری نہیں۔ ضروری یہ ہے کہ ورزش تسلسل سے کی جائے۔ ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ جو صحت میں دل چسپی رکھتے ہیں، یہ بات جانتے ہیں کہ ورزش کے حوالے سے امریکا کی وفاقی حکومت کے راہنما خطوط میں تجویز کیا گیا ہے کہ ہمیں بہت سی بیماریوں اور کم عمری میں مرنے سے بچنے کے لیے روزانہ کم از کم 30منٹ معتدل ورزش کرنا چاہیے۔انھی راہنما خطوط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم روزانہ تیس منٹ کی ورزش کو دس دس منٹ کے تین دورانیوں میں بانٹ سکتے ہیں اور دن کے مختلف اوقات میں جب بھی وقت ملے دس منٹ ورزش کر سکتے ہیں۔ یہ راہنما خطوط پہلی مرتبہ 2008ء میں شائع کیے گئے تھے۔ انھیں اس وقت کی بہترین ورزشی سائنس اور متعدد تحقیقی جائزوں کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا تھا۔
بہرحا ل حکومت اور سائنس دانوں نے اسے کافی نہیں سمجھا اور 2008ء کے راہنما خطوط میں مزید بہتری لانے کے لیے منصوبہ بنانا شروع کیا۔ انھوں نے ورزش کے دورانیے اور صحت پر اس کے اثرات کے بارے میں کی جانے والی تازہ ترین تحقیقی جائزوں سے استفادے کی غرض سے ان کی رپورٹیں جمع کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صرف چند طویل تحقیقی جائزے ہی کارآمد تھے جب کہ باقی میں لوگوں کی فعال رہنے کی ناقابلِ اعتبار یادوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ چناں چہ نئے راہنما خطوط پر کام کرنے والے سائنس دانوں نے فیصلہ کیا کہ ایک نیا تحقیقی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انھوں نے عام لوگوں کی ورزش کی عادات سے متعلق قابلِ اعتبار اور معروضی ڈیٹا جمع کرنا شروع کیا۔ یہ ڈیٹا انھیں امریکا کے ’’نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے‘‘ میں مل گیا۔ ’’سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن‘‘ عشروں سے یہ سروے امریکا میں ہر سال کروا رہے ہیں۔ اس میں دسیوں ہزار امریکی مردوں اور عورتوں کے طرزِ زندگی اور صحت کے بارے میں تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ 2002ء سے اس سروے میں حصہ لینے والے بعض لوگ اپنے جسم پر ایکسیلرومیٹر باندھے رکھتے تھے تاکہ جان سکیں کہ پورے دن میں انھوں نے کس وقت کتنی حرکت کی تھی۔
تازہ تحقیقی جائزے کے لیے، جو اسی مہینے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے رسالے میں شائع ہوا ہے، سائنس دانوں نے چالیس سال سے زیادہ عمر کے 4,840مردوں اور عورتوں کا ڈیٹا استعمال کیا۔ سائنس دانوں نے ایکسیلرومیٹروں کی ریڈنگ کا جائزہ لے کر یہ معلوم کیا کہ ہر شخص نے روزانہ کتنے منٹ معتدل یا زیادہ مشقت والی جسمانی سرگرمی میں گزارے تھے۔ انھوں نے تیز تیز چلنے کو’’ معتدل‘‘ جسمانی سرگرمی قرار دیا ہے جب کہ جاگنگ اور اس سے ملتی جلتی جسمانی سرگرمیوں کو زیادہ مشقت والی جسمانی سرگرمی قرار دیا ہے۔ محققین نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ ہر مرتبہ جسمانی سرگرمی کتنی دیر جاری رہی تھی۔ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہنے والی جسمانی سرگرمی کو انھوں نے باقاعدہ ورزش قرار دیا۔ اگر کوئی جسمانی سرگرمی پانچ منٹ سے کم وقت جاری رہی ہو تو سائنس دانوں نے اسے ورزش شمار نہیں کیاجیسا کہ لمبی راہ داری میں چلنا یا سیڑھیاں اترنا۔
آخر میں انھوں نے 2011ء کے دوران فوت ہونے والے ان لوگوں کے ڈیتھ ریکارڈ کا جائزہ لیا جنھوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا تھا۔ سائنس دانوں نے جانا کہ ’’حرکت‘‘ کا طویل عمری پر بہت اثر ہوا تھا۔ جو مرد اور عورتیں روزانہ بیس منٹ سے کم وقت ’’معتدل‘‘ ورزش کرتے تھے، وہ زیادہ لمبا عرصہ زندہ نہیں رہے تھے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ جو لوگ دن بھر میں مجموعی اعتبار سے ایک گھنٹہ جسمانی سرگرمیوں میں مصروف رہے تھے، ان کے جلد مر جانے کے خطرے میں نصف کمی آ گئی تھی۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنے منٹ جسمانی سرگرمی کر کے ایک گھنٹہ پورا کرتے تھے۔ جو لوگ پانچ منٹ یا اس سے زیادہ منٹ چلتے رہے تھے یعنی ’’واک‘‘کرتے رہے تھے، ان کا جوانی میں مرنے کا خطرہ گھٹ گیا تھا لیکن اگر وہ اس سے بھی تھوڑا وقت لیکن تسلسل کے ساتھ واک کرتے رہے تھے یا کوئی بھی جسمانی سرگرمی کرتے رہے تھے تو پھر بھی انھیں فائدہ ہوا تھا۔ ڈیوک یونیورسٹی کے پروفیسر اور نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ اس تحقیق میں حصہ لینے والے ڈاکٹر ولیم کراز کہتے ہیں، ’’پیغام یہ ہے کہ ہر جسمانی سرگرمی فائدہ بخش ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے کام بھی، جو لوگ روزانہ کرتے ہیں جیسا کہ کار سے اتر کراپنے دفتر تک جانا یا سیڑھیاں چڑھنا، بیماریوں اور موت سے محفوظ رکھتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر ولیم کراز نے کہا کہ بلاشبہ یہ ایک طبی تحقیق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ صرف اتنا بتاتی ہے کہ جسمانی سرگرمی لمبی عمر سے جڑی ہوئی ہے۔ اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جسمانی سرگرمی لمبی عمر کا سبب ہوتی ہے۔ اس تحقیق کے لیے پانچ ہزار سے کم افراد کے معمولات کا جائزہ لیا گیا تھا، اس اعتبار سے یہ ایک چھوٹی تحقیق ہے لیکن اس کے نتائج، جن کی بنیاد پر سائنس داں اور ماہرین ورزش کے باقاعدہ راہنما خطوط ترتیب دیں گے، بڑے حوصلہ بخش ہیں۔ انھوں نے کہا، ’’اگر آپ لمبی واک پر نہیں جا سکتے تو پورے دن میں وقفے وقفے سے چند منٹ واک کرنا بھی آپ کے لیے فائدہ بخش ہو سکتا ہے۔‘‘

بشکریہ نیو یارک ٹائمز

گوادر: مستقبل کا دبئی


مصنف: رولینڈ اولیفینٹ

ترجمہ: محمد احسن بٹ

ہزاروں  سال سے  مچھیرے خلیجِ گوادر میں ماہی گیری کرتے آئے ہیں۔ ہر اعتبار سے  کامل گوادرکی بندرگاہ اُس دشت تک رسائی فراہم کرتی ہے جہاں سکندرِ اعظم نے اپنی فوج کو پیاس سے مرتا دیکھا تھا۔ ماہی گیروں  کی یہ چھوٹی سی بستی سکندرِ اعظم جیسے عزائم کے حامل تزویری منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ پاکستان اور  چین کے اس اتحاد کا محور ہے جو بحرِ ہند میں طاقت کا توازن مکمل طور پرتبدیل کرسکتا ہے۔ کیپٹن گل محمد یہاں میرین آپریشنز کے سربراہ ہیں۔ وہ کراچی میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی زندگی کا بڑا حصہ سمندروں میں گزرا ہے۔ وہ دوستانہ مزاج کے برطانوی تربیت یافتہ ماسٹر میرینر ہیں۔ وہ بحری راستوں کو رکاوٹوں سے پاک رکھنے، روشنیوں اور سمندر میں تیرتے آبی  نشانات کو درست رکھنے جیسے امور کے ذمہ دار ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں خلیج کے گرد ایستادہ سائنس فکشن جیسی خاکستری پہاڑیوں کے سائے میں بحری سفر کے دوران انھوں نے کہا، "گوادرمستقبل میں دبئی کی طرح ترقی یافتہ ہو جائے گا۔ بلاشبہ یہ بات خواب جیسی لگتی ہے لیکن ایسا ہونا یقینی ہے۔"
 گواد کی بندرگاہ پاکستان چین اکنامک کوریڈور کا آخری پڑاؤ ہے۔ پاکستان چین اکنامک کوریڈور چین کی سرحد سے لے کر بحرِ ہند تک محیط ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کا عظیم ترین منصوبہ ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان کو اپنے انفراسٹرکچر  کے لیے سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے جو کہ اس کی معیشت کے لیے بہت ضروری تھی جبکہ چین کو گرم پانیوں کی ایک ایسی بندرگاہ تک رسائی مل گئی ہے جو آبنائےہرمز سے صرف 563 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ گوادر کی بندرگاہ  یورپ سے تجارتی رابطوں کے لیے چین کے "ایک بیلٹ، ایک روڈ" منصوبے  کی ایک کلیدی بندرگاہ ہے۔ پاکستان چین اکنامک کوریڈور کے لیے چین نے پاکستان میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔ اتنی بڑی سرمایہ کاری  پاکستان کی معیشت میں نئی روح پھونک دے گی۔سابق مشیر برائے ٹیکس اور اقتصادی اصلاح محمد زبیر، جو اَب صوبہ سندھ کے گورنر ہیں، اس منصوبے کو تشکیل دینے والوں میں شامل رہے ہیں۔ انھوں نے کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ پاکستان کے نکتۂ نظر سے اس منصوبے کا محرک تزویراتی وژن نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا، "پاکستان کو بلیک آؤٹ کا سامنا تھا۔ طلب اور رسد کا فرق بڑھتا جا رہا تھا اور کوئی پاور پلانٹ زیرِ تعمیر نہیں تھا۔ ہم نے شمارکیا تو معلوم ہوا کہ اس کے لیے 30 ارب ڈالر سے 35 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس اتنی بڑی رقم نہیں تھی۔ اس ضرورت نے ہمیں پاکستان چین اکنامک کوریڈور کی طرف متوجہ کیا۔" چین جبوتی کی بندرگاہ بھی تعمیر کر چکا ہے جو سری لنکا اور میانمار کی بندرگاہوں سمیت  بندرگاہیں تعمیر کرنے کے "موتیوں کی مالا" نامی منصوبے کاایک "موتی" ہے۔ چین نے جبوتی میں فوجی اڈہ بھی بنایا ہے۔ چین نے مالدیپ میں بھی بندگاہ تعمیر کی ہے۔ جہاں تک گوادر کا تعلق ہے تو یہ  ایک تجارتی بندرگاہ ہے اور ٹیلی گراف نے بندرگاہ کے دورے کے دوران وہاں کوئی فوجی سرگرمی نہیں دیکھی۔ ہم نے دیکھا کہ  ساحل پر لکڑی کی پرانی کشتیوں کے ڈھانچوں کے نزدیک بڑے بڑے بحری جہاز بنائے جا رہے تھے۔چینیوں نے صحرا میں رومنوں کی شاہراہوں جیسی موٹروے تعمیر کی ہے۔ گوادر تک ریلوے لائن بچھانے اور پاکستان کے سب سے بڑے ائیرپورٹ کی تعمیر کے منصوبے بھی تشکیل دے جا چکے ہیں۔  اس کے علاوہ افغانستان جانے کے لیے ایک نئی سڑک بھی تعمیرکی جائے گی۔ صحرا میں بسائے جانے والے نئے شہر کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سمندر کے پانی کو انسانوں کے لیے قابلِ استعمال بنانےکے منصوبے بھی تشکیل دے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ 2050ء تک اس شہر کی آبادی ایک کروڑ ستر لاکھ نفوس تک پہنچ جائے گی۔ بندرگاہ کے قریب دو وسیع و عریض "فری اکنامک زون" بھی بنائے جائیں گے۔ سرمایہ کاروں کو ان فری اکنامک زونز کی طرف مائل کرنے کے لیے 99 سال کے پٹے اور 23 سال کی ٹیکس چھوٹ بھی سہولیات میں شامل ہیں۔ سمندر میں شان دار بندرگاہ تعمیرکی جا چکی ہے۔ جہاں تک خشکی کا تعلق ہے تو خاکستری ریت  پرہائی ویز کا جال بچھا دیا گیا ہے جن کے  نام سینٹرل بولیوارڈ اور میرین ڈرائیو رکھے گئے ہیں۔ پراپرٹی کا کاروبار خوب فروغ پا رہا ہے اور بنجرپلاٹوں کی قیمتیں کروڑوں تک پہنچ چکی ہیں۔ فی الوقت شہرکے 85000 لوگوں کی پانی کی ضرورت اس آبی ذخیرے سے پوری کی جاتی ہے جس میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا ہے۔ اس مہینے کے شروع میں شہر میں پانی کی قلت ہوئ تو  نزدیکی شہرتربت سے ٹینکروں میں پانی لا کر فراہم کیا گیا۔
بندرگاہ اور دوسرے تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے معماروں کو نہ صرف انتہائی سخت آب و ہوا کا سامنا ہے بلکہ دہشت گردوں کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ پاکستان کی فوج کئی سال سے دہشت گردوں کے ساتھ کامیابی سے نبرد آزما ہے۔ دہشت گرد افغانستان کی سرحد پار کر کے خود کش حملے کر چکے ہیں۔ پاکستانی فوج کے جوان مشین گنوں اور آئی ای ڈی ڈیوائسز کو جام کر دینے والے آلات  سے لیس  پک اپ  ٹرکوں میں سوار ہو کرصحرا میں آباد شہروں کے گرد گشت کرتے رہتے ہیں۔ اسی ہفتے ملنے والی خبروں کے مطابق چینی اہل کاروں نے بھی دہشت گردانہ حملے رکوانے کے لیے علیٰحدگی پسندوں کے راہنماؤں کے ساتھ گف و شنید کی ہے۔ اگرچہ اس دورے کے دوران ٹیلی گراف کی ملاقات  کسی چینی اہل کار سے نہیں ہوئی تاہم چینی پاکستان میں جاری مختلف تعمیری منصوبوں میں سرگرمِ کار ہیں۔
شہر کے گرد آلود ائیرپورٹ کے باہر چینی زبان اور انگریزی میں خیرمقدمی بورڈ آویزاں ہیں۔ نئی بندرگاہ کے اردگرد سڑکوں کے نشانات بھی دونوں زبانوں میں لکھے گئے ہیں۔ بندرگاہ کے داخلی راستے پر پاکستان اور چین کے پرچم ساتھ ساتھ لہرا رہے ہیں۔ یہ دو پرانے اتحادیوں کے مابین دوستی کا شان دار اظہار ہے۔

بشکریہ دی ٹیلی گراف

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...