Sunday, June 3, 2018

Saudi Princess Hayfa Bint Abdullah Al Saud behind the Wheel


Vogue Arabia June cover:

Women in Saudi Arabia will be legally allowed to drive on June 24, and Vogue Arabia is marking the sea change with its June cover featuring Saudi princess Hayfa Bint Abdullah Al Saud behind the wheel. (courtesy axios dot com)




Thursday, May 31, 2018

$3.7 trillion is lost to procurement fraud each year


Nearly 30 percent of organizations report incidents of procurement fraud: $3.7 trillion is lost to procurement fraud each year.

(Association of Certified Fraud Examiners - ACFE)

مشرقِ وسطیٰ، ٹرمپ اور پوٹن

مشرقِ وسطیٰ، ٹرمپ اور پوٹن

رابرٹ فسک

وِلادی میر پوٹن کو شامی توپ خانے کے نزدیک اُس مقام پر گہری توجہ دینا پڑے گی جہاں گذشتہ اختتامِ ہفتہ چار روسی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دیر الزور کے گرد واقع صحرا ایک خطرناک مقام ہے ۔۔۔ سیاسی اعتبار سے بھی اور طبعی اعتبار سے بھی ۔۔۔ جہاں امریکی اور روسی جنگ کا انتہائی خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔
پوٹن کو اب بھی شبہ ہے کہ امریکیوں نے ایک سال سے بھی تھوڑا عرصہ پہلے توپ خانے کے اُس حملے کے لیے آرٹلری گائیڈینس مہیا کی تھی جس میں دیر الزور کے مقام پر روس کی فار ایسٹ ففتھ آرمی کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ویلیری ایساپوف ہلاک ہو گئے تھے۔ کیا توپوں سے داغے جانے والے وہ بم امریکا کے حامی کرد جنگجووں نے داغے تھے؟ یا انھیں آئی ایس آئی ایس نے داغا تھا؟ روسی کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی ایس کے گشتی حملہ آوروں نے اس ہفتے کے اختتام پر رات کے وقت شامی توپ خانے کے مورچوں پر حملہ کیا تھا ۔۔۔ اسلامسٹوں کی معمول کی کارروائی، جس میں وہ خود کش ٹرکوں اور موٹر سائیکلوں پر صحرائی وادیوں سے نکل کر حملے کرتے ہیں ۔۔۔ حالاں کہ شامی فوج کے چھوٹے چھوٹے قلعے، پوری ریتلی سطح مرتفع پر ریت اور سیمنٹ سے تعمیر کیے گئے پشتے، ناقابلِ تسخیر تصور کیے جاتے ہیں۔
سو اَب روسی توپ خانے سے اپنے احکامات کے تحت گولہ باری کروا رہے ہیں۔ پہلے وہ شامی فوج کو فضائی مدد مہیا کر رہے تھے۔ ان کی فضائیہ کے آبزرور اگلے مورچوں پر جا کر شام کے صدر بشار الاسد کے دشمنوں پر حملوں کے لیے سخوئی طیاروں کی رہنمائی کرتے تھے۔ پھر روسیوں نے پالمیرا، دیر الزور، حمص اور حلب سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام انجام دیا۔ اس کے بعد روسی ملٹری پولیس شکست خوردہ جہادیوں کو صوبہ ادلب کے ویرانوں یا ترکی کی سرحد تک پہنچا کر آئی۔ روسی ہی دریائے فرات پر شامیوں اور امریکا کے حامی کردوں کے مابین رابطے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔
بارہ مہینے پہلے ولادی میر پوٹن کے توپ خانے کے چوٹی کے ٹیکنیشن حلب میں ملبہ کریدکرید کر سخت مشکل اٹھا کر بموں کے گرنے کے نقشے تیار کر رہے تھے ۔۔۔ یعنی روسیوں کے فضا سے گرائے گئے بموں کے خول اور دھماکوں کے اثرات کا ٹھیک ٹھیک جائزہ لے رہے تھے۔ میں ان میں سے ایک ٹیم سے ملا تھا۔ بلاشبہ اس کی خبریں گردش کرتی روسی فوجی انٹیلی جنس تک بھی پہنچ گئی تھیں لیکن وہ پہلے براہِ راست کریملن پہنچی تھیں۔
ولادی میر پوٹن نے وہ خبریں خود پڑھی تھیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نظر رکھنے والے حکمران ہیں۔ شام میں اس طرح کا المیہ رونما نہیں ہو گا جیسے برزنیف کے دور میں افغانستان میں رونما ہوا تھا ۔۔۔ یا روسی یہ دعا مانگتے ہیں ۔۔۔ نہ دریائے آمو کے پار سیاسی جرنیلوں کی تن آسانی سے ہونے والی پسپائی کی طرح پسپائی ہو گی اور نہ ہی کریملن سستی سے کام لے گا۔ روسی افسر اچھی عربی بولتے ہیں (اور کافی اچھی انگریزی بھی) ۔۔۔ ماسکو سکول آف فارن لینگوئجز کی پیداوار ۔۔۔ اور شامی فوج کے افسروں کی طرح ان کے افسر بھی میدانِ جنگ میں اگلے مورچوں تک جاتے ہیں۔
لیفٹیننٹ ایساپوف اسی باعث تو ہلاک ہوئے تھے۔ ولادی میر پوٹن نے اپنے چیچنیائی اور روسی جہادی دشمنوں کا پیچھا شام تک کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔ اور ان سب کو ہلاک کر دیا۔ انھوں نے اپنے اتحادی بشار الاسد کو بچا لیا لیکن اس کے ساتھ ہی ۔۔۔ ایک آدھ انتباہ لینے دینے اور بعد میں معافی مانگ لینے والے اردوان کی جانب سے ایک روسی طیارہ مار گرائے جانے کے سوا ۔۔۔ وہ اسرائیل، ایران، ترکی، مصر، لبنان، سعودی عرب وغیرہ وغیرہ کے قابلِ اعتبار دوست رہے ہیں۔
ولادی میر پوٹن نے شیعوں اور سنیوں کے مابین فرقہ وارانہ جنگ میں واشنگٹن میں موجود اپنے فاتر العقل ہم منصب کے ساتھ شریک ہونے سے انکار کرتے ہوئے ایک اصطلاح استعمال کی، جو ہر ڈکٹیٹر، وزیرِ اعظم، مافیائی مطلق العنان حاکم، بادشاہ، صدر، قتلِ عام کروانے والے جابر، اجرت پر کام کرنے والے ماہرِ تعلقاتِ عامہ یا چاپلوس مدیر تک سب کو متحد کر دیتا ہے: ’’وار آن ٹیرر‘‘۔
میرا خیال ہے ولادی میر پوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ یہ پیچیدہ و مبہم فقرے تقریباً برابر تعداد میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ عوام کے لیے گپ ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کریملن میں موجود کوئی کلبی اسے استعمال کرتا ہے یا وائٹ ہاؤس میں موجود مضحک شکل کا کوئی شخص اسے استعمال کرتا ہے، جو مکمل مسخرہ ہے۔ بہر حال بلاشبہ ولادی میر پوٹن ایک ایسے انسان ہیں جو ہر طرح کی صورتِ حال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وہ شام کو ’’بچانے‘‘ پر بشار الاسد کی تعریف و تحسین قبول کرتے ہیں۔ وہ اسرائیل کے نسل پرست وزیرِ دفاع اویگڈور لائبرمین کو ’’ذہین‘‘ کہتے ہیں۔ بلاشبہ کریملن میں ہونے والے ایک اجلاس کے ایک روسی ترجمے میں ولادی میر پوٹن کے حوالے سے یہ دعویٰ بیان کیا گیا ہے کہ لائبرمین ۔۔۔ سابق سوویت یونین کے ایک نائٹ کلب کے سابق دربان ۔۔۔ ’’ایک عظیم روسی ہیں۔‘‘ بنجامن نیتن یاہو کا کریملن میں ہمیشہ خیر مقدم کیا جاتا ہے، خواہ وہ شام میں ایرانیوں پر بم باری کروا رہے ہوں۔ سلطان اردوان آف ترکی، جن کی ایئر فورس نے پوٹن کا ایک جیٹ مار گرایا تھا، اس وقت پوٹن کو دوست بنانے دوڑے دوڑے پہنچ گئے تھے جب روسیوں نے تعطیلات میں سیر و سیاحت کا بند و بست کرنے والوں سے کہا تھا کہ ترکی کی ساحلی سیاحتی صنعت کا صفایا کر دیں۔ جب ولادی میر پوٹن استنبول جا کر اردوان کے سونے کے محل میں ان سے ملنے گئے تھے، تب انھوں نے عین توپ کاپی کے سامنے ٹھیک باسفورس کے وسط میں اپنے ہیلی کاپٹر کیریئر کو ٹھہرایا تھا۔
مصر کے سیسی ولادی میر پوٹن کو قاہرہ کے ایک اوپرا لے گئے تھے۔ کریملن میں ولادی میر پوٹن نے سعودی عرب کے شاہ عبد اللہ کا استقبال کیا۔ انھوں نے قطریوں کا بھی خیر مقدم کیا۔ وہ ایران کے روحانی کی پسندیدگی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب سپریم لیڈر خامنائی مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی مداخلت کی برائیاں بیان کرتے ہیں (صرف دو سال پہلے) تو وہ ۔۔۔ یقینی طور سے، ان کی طرف غصے سے تکتے ہوئے ۔۔۔ سنتے ہیں۔
شکر ہے ایرانیوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران شمالی ایران پر روس کے حملے کا ذکر نہیں کیا، نہ ہی جنگ کے بعد آذربائیجان اور ایرانی کردستان میں مہاباد میں سوویتیں قائم کرنے کا ذکر کیا۔ سیسی سے زیادہ کوئی یاد نہیں کرتا کہ سادات نے 1972ء میں کس طرح روسیوں کو مصر سے نکال باہر کیا تھا۔ پوٹن سے زیادہ کسی نے اسد سے نہیں کہا ہو گا کہ کس طرح دمشق کے نوجوان شیر نے مغرب سے فلرٹ کیا ہے اور 2008ء میں نکولس سرکوزی کے ساتھ بیستائل ڈے پریڈ میں شرکت کی ۔۔۔ ٹرمپ نے بھی پچھلے سال اسی طرح کی فوجی یاوہ گوئی کی ۔۔۔ اور 2000 ء میں فرار ہو کر روس چلے جانے والے چیچنیائی باغیوں کے حوالے سے روسی درخواستوں کا عوام کے سامنے جواب دینے سے ا نکار کر دیا۔
لیکن لیبیا کی بربادی کے بعد جب ولادی میر پوٹن کے مغربی ہم منصبوں نے بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی تو انھوں نے انھیں اس کا ذرا سا بھی موقع نہیں دیا۔ بحیرۂ روم سے روسیوں کی اس سے زیادہ شرم ناک پسپائی کوئی اور نہ ہوتی۔
جب بعد میں روسیوں نے امریکا کے تربیت یافتہ اسلامسٹ لیبیائی فوج کے لارڈ آف وار خلیفہ ہفتار سے گفت و شنید کرنا چاہا تو وہ اسے ہیلی کاپٹر میں اٹھا کر سمندر میں لنگر انداز روسی کیریئر پر لے گئے تھے۔ جب امریکیوں نے شکایت کی کہ شام میں روسیوں کے فضائی حملے صرف سی آئی اے کی پسندیدہ (اور کافی افسانوی نوعیت کی) ’’فری سیریا آرمی‘‘ کے باغیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تو روس کے وزیرِ خارجہ سرگی لیواروف نے ہیبت ناک انداز میں جواب دیا تھا کہ ’’اگر وہ دہشت گرد جیسا لگتا ہو، اگر وہ دہشت گرد کی طرح کارروائی کر رہا ہو، اگر وہ دہشت گرد کی طرح چل رہا ہو ۔۔۔ تو وہ دہشت گرد ہے۔‘‘
ولادی میر پوٹن نے ان روسی کرائے کے قاتلوں کے ہلاک ہونے پر بہت کم آنسو بہائے تھے، جو شام میں کردوں سے لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے، اسی طرح جیسے انھوں نے آفرین میں ترک فوج اور آئی ایس آئی ایس سے تعلق رکھنے والے جنگجووں سے لڑتے ہوئے ہلاک ہو جانے والے کردوں پر بھی بہت کم آنسو بہائے تھے۔ یہ ڈیل سادہ سی لگتی ہے۔ یہ کہ ترک صوبہ آفرین لے سکتے ہیں ۔۔۔ تھوڑے وقت کے لیے ۔۔۔ بشرطے کہ وہ شامیوں اور روسیوں کو مستقبل میں صوبہ ادلب سے اسلامسٹوں کا صفایا کرنے دیں (نوٹ: اس جنگ کا انتظار کیجیے)۔


(بشکریہ د ی  انڈی پینڈنٹ؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

Monday, May 28, 2018

دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کی وجہ جانیے


Unsafe water (and lack of basic sanitation) kills more people every year than all forms of violence combined, including war. (UN Secretary General Ban Ki-moon)

Saturday, May 26, 2018

ایئرکنڈیشنر فضا کا درجۂ حرارت بڑھا رہے ہیں

مصنف: کینڈرا پیئر لوئس

جھینگروں، جگنوؤں، بیس بال اور تفریحی مقامات پر طرح طرح کے پکوان تیار کرنے کی نسبت ایئرکنڈیشنروں کے چلنے کی مانوس آواز امریکا میں موسمِ گرما کی آمد کی زیادہ بڑی علامت ہے لیکن جوں جوں دنیا کے دوسرے ملک امریکا کی طرح ایئرکنڈیشنروں کی محبت میں مبتلا ہو رہے ہیں، توں توں اس فکر میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ائیرکنڈیشنروں کو چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی استعمال ہو گی جس سے بجلی کے گرِڈوں پر بوجھ میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ بہت زیادہ تعداد میں ایئرکنڈیشنر استعمال کیے جانے سے کرۂ ارض کے درجۂ حرارت میں اضافہ کرنے والی گیسیں زیادہ مقدار میں فضا میں شامل ہوں گی۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اسی ہفتے ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب ساٹھ کروڑ ایئرکنڈیشنر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ محولہ رپورٹ کے مطابق ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس صدی کے وسط تک پوری دنیا میں زیرِ استعمال ائیرکنڈیشنروں کی مجموعی تعداد بڑھ کر پانچ ارب ساٹھ کروڑ ہو جائے گی۔ اگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی تو 2050ء تک پوری دنیا میں چلائے جانے والے ایئرکنڈیشنراتنی بجلی استعمال کر رہے ہوں گے جتنی کہ آج پورا چین تمام سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ایئرکنڈیشنروں کو چلانے میں جتنی بجلی خرچ ہو رہی ہے، اسے بنانے والے کوئلے اور قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی کے کارخانے کرۂ ارض کا درجۂ حرارت بڑھانے والی (گرین ہاؤس) گیسوں کی جتنی مقدار خارج کرتے ہیں، اس کا مجموعی وزن 2016ء میں ایک ارب پچیس کروڑ ٹن تھا، جو 2050ء میں بڑھ کر دو ارب اٹھائیس کروڑ ٹن ہو جائے گا۔ گیسوں کے اخراج سے عالمی حرارت میں اضافہ ہو گا، جس کے نتیجے میں ایئرکنڈیشنروں کی طلب میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ اس وقت دنیا کے چند گنتی کے ملکوں میں ایئرکنڈیشنر زیادہ تعداد میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان ملکوں میں امریکا اور جاپان سرِ فہرست ہیں جب کہ چین میں ایئرکنڈیشنروں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ایگزیکٹِو ڈائریکٹر ڈاکٹر فاتح بیرول کہتے ہیں کہ امریکا کے 90 فی صد گھروں میں ایئرکنڈیشز نصب ہیں، جب کہ ’’ہم افریقا، ایشیا، لاطینی امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے گرم ملکوں کو دیکھتے ہیں تو ان ملکوں کی دو ارب اسّی کروڑ کی مجموعی آبادی میں سے صرف آٹھ فی صد کے لگ بھگ آبادی ایئرکنڈیشراستعمال کر رہی ہے۔‘‘ بہرحال ان ملکوں کے شہریوں کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے، اس باعث ان ملکوں کے زیادہ شہری اپنے گھروں میں ایئرکنڈیشنر نصب کروا رہے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے پیش گوئی کی ہے کہ آنے والے برسوں میں بھارت، چین اور انڈونیشیا میں ایئرکنڈیشنروں کے استعمال میں زیادہ اضافہ ہو گا۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایئرکنڈیشروں کی تعداد میں اضافے کا ایک سبب تو آرام و سکون کی خواہش ہے لیکن اس میں دوسرے عوامل بھی کارفرما ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ جب کسی ملک کے لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس ملک کے گھروں میں استعمال کیے جانے والے برقی آلات مثلاً ریفریجریٹروں اور ٹیلی ویژنوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ گھروں میں استعمال کیے جانے والے یہ برقی آلات حرارت پیدا کرتے ہیں، جس سے اُن گھروں کا اندرونی درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ جب گھروں کا اندرونی درجۂ حرارت کم کرنے کی غرض سے ایئرکنڈیشنر استعمال کیے جاتے ہیں تو ان سے خارج ہونے والی حرارت ان گھروں کے اردگرد درجۂ حرارت میں اضافہ کر دیتی ہے۔ محولہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض ماہرین کے تخمینے کے مطابق ایئرکنڈیشننگ کی وجہ سے بعض شہروں میں رات کے درجۂ حرارت میں ایک درجہ سیلسیئس (دو درجہ فارن ہائیٹ) کا اضافہ ہو جاتا ہے۔یہ بات بالخصوص قابلِ غور ہے کہ اگر آپ کے سارے پڑوسی اپنے اپنے گھر میں ائیرکنڈیشنر استعمال کرنا شروع کر دیں تو اس کے نتیجے میں آپ کے گھر کا درجۂ حرارت اس قدر بڑھ جائے گا کہ آپ کو بھی آخرِ کار اپنے گھر میں ائیرکنڈیشنر لگوانا پڑے گا۔ اس طرح بلا شبہ آب و ہوا میں تبدیلی وقوع پذیر ہو گی۔ بھارت ایک صدی پہلے  اوسطاً  جتنا گرم تھا، اُس سے ایک درجہ فارن ہائیٹ گرم ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارت میں ’’کولنگ ڈگری ڈیز‘‘ میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ’’کولنگ ڈگری ڈیز‘‘ ایسے دنوں کو کہا جاتا ہے جن کا اوسط درجۂ حرارت اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ایئرکنڈیشننگ ضروری ہو جاتی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، برکلے کے ہاس سکول آف بزنس کے انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر لوکس ڈیوس کہتے ہیں، ’’اگر آپ بھارت کے شہروں چنائی اور ممبئی کے ’’کولنگ ڈگری ڈیز‘‘ کا جائزہ لیں تو وہ امریکا کے گرم ترین شہر میامی کے ’’کولنگ ڈگری ڈیز‘‘ کی نسبت دو گنا زیادہ ہو چکے ہیں۔ اتنی گرمی ناقابلِ یقین ہے ۔۔۔ امریکا کا کوئی شہر ایسا نہیں جس کا گرمی کے حوالے سے بھارت کے ان دو شہروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہو۔‘‘ جب درجۂ حرارت بڑھتا ہے تو ایئرکنڈیشنروں سے استفادہ نہ کرنا زیادہ ہلاکت خیز ہو سکتا ہے۔ 1995ء میں امریکا کے شہر شکاگو کو لپیٹ میں لینے والی گرمی کی لہر سے سات سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح 2003ء میں یورپ میں آنے والی گرمی کی لہر دسیوں ہزار افراد کی ہلاکت کا سبب بنی تھی جب کہ 2010ء میں روس میں آنے والی گرمی کی لہر سے بھی دسیوں ہزار افرادلقمۂ اجل بن گئے تھے۔ ماہرین نے تحقیق سے پتا چلایا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی نے یورپ میں گرمی کی لہر کو زیادہ ہلاکت خیز بنا دیا تھا۔ اسی طرح آب و ہوا کی تبدیلی روس میں بھی گرمی کی لہر کے زیادہ ہلاکت خیز ہونے کا سبب تھی۔ ایک اور تحقیق کے مطابق امریکا میں 1960ء سے گھروں میں ایئرکنڈیشنروں کا استعمال شروع ہونے کے بعد سے گرمی کی وجہ سے قبل از وقت ہونے والی اموات میں 75فی صد کمی آ چکی ہے۔
اس باعث ڈاکٹر لوکس ڈیوس اور ڈاکٹر فاتح بیرول کہتے ہیں کہ درجۂ حرارت میں اضافے کے مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ملکوں کو قائل کیا جائے کہ وہ ایئرکنڈیشنروں کا استعمال تَرک کر دیں بلکہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ کم توانائی خرچ کرنے والے ایئرکنڈیشنر زیادہ استعمال کیے جائیں۔اس سے آنے والے برسوں میں فضا کو ٹھنڈا کرنے کے لیے درکار بجلی کی طلب گھٹ کر نصف رہ جائے گی۔ ڈاکٹر لوکس ڈیوس نے بتایا کہ بھارت میں آج کل جس قسم کے ایئرکنڈیشنر فروخت کیے جا رہے ہیں، وہ بجلی کم خرچ کرنے والے ایئرکنڈیشنروں جتنی ٹھنڈک مہیا کرنے کے لیے ان کی نسبت دگنی بجلی خرچ کرتے ہیں۔ دوسری طرف جاپان اور یورپی یونین میں فروخت کیے جانے والے ایئرکنڈیشنر توانائی کم خرچ کرنے کے اعتبار سے امریکا اور چین میں فروخت کیے جانے والے ایئرکنڈیشنروں سے 25فی صد زیادہ بہتر ہیں۔ ڈاکٹر فاتح ببیرول نے کہا کہ حکومتوں کو ایئرکنڈیشنرں میں توانائی کم خرچ ہونے کے حوالے سے معیارات کا تعین کرنا چاہیے جب کہ ایئرکنڈیشنر بنانے والوں کو ان معیارات کے مطابق ایئرکنڈیشنر بنانے اور صارفین کو ایسے ایئرکنڈیشنر خریدنے کی تحریک و ترغیب دینا چاہیے۔بعض ملک پہلے ہی ایئرکنڈیشنروں میں توانائی کے استعمال کے حوالے سے معیارات کا تعین کر رہے ہیں۔ مونٹریال پروٹوکول میں کی جانے والی ایک ترمیم ’’کِگالی ترمیم‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ اس کے تحت دوسرے ملک ایئرکنڈیشنروں میں استعمال کیے جانے والے اُن مادّوں کا استعمال بتدریج ختم کر رہے ہیں جو کمرے کی حرارت جذب کر کے باہر نکالتے ہیں۔ یہ بھی فضا کا درجۂ حرارت بڑھانے میں حصہ لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر لوکس ڈیوس نے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں میں بجلی کی قیمتوں کو بھی لازماً کردار ادا کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا، ’’بجلی کی زیادہ منطقی قیمتیں طے کیے بغیر ان میں سے کسی بھی شعبے میں پیش رفت دشوار ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ کرۂ ارض کا درجۂ حرارت بڑھانے والی حرارت کے اخراج کو بجلی کی قیمت میں شمار کیا جانا اور حکومتی رعایتوں کا خاتمہ کرنے سے توانائی کم خرچ کرنے والے ایئرکنڈیشنروں کے استعمال اور زیادہ ماحول دوست عمارتیں تعمیر کرنے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ محولہ بالا رپورٹ میں یہ تصور بھی پیش کیا گیا ہے کہ کوئلے، تیل اور قدرتی گیس کی بجائے دھوپ، ہوا، سمندری و دریائی پانی اور دوسرے ماحول دوست ذرائع سے حاصل کی جانے والی توانائی زیادہ استعمال کی جانا چاہیے ۔۔۔ خصوصاً دھوپ سے حاصل کی جانے والی توانائی زیادہ استعمال کی جانا چاہیے کیوں کہ دوپہر کے وقت دھوپ اپنے عروج پر ہوتی ہے اوراسی وقت ایئرکنڈیشنروں میں استعمال کے لیے توانائی کی طلب بھی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ چناں چہ دوپہر کے وقت دھوپ سے حاصل کی جانے والی توانائی کی مقدار ایئرکنڈیشنروں میں استعمال کی جانے والی توانائی کی طلب کے تقریباً برابر ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر فاتح بیرول نے کہا کہ کچھ بھی ہو آب و ہوا کی تبدیلی کا مقابلہ کرنے میں ایئرکنڈیشننگ ایک بڑا مسئلہ ہو گی۔ انھوں نے کہا، ’’جب میں آب و ہوا کی تبدیلی کے حوالے سے آنے والے چند برسوں پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے صنعتی شعبے کے بعد ایئرکنڈیشنر دوسرے نمبر پر نظر آتے ہیں۔ دنیا میں جتنی توانائی پیدا کی جا رہی ہے اس میں سے 21فی صد توانائی ایئرکنڈیشنروں میں استعمال ہونے والی بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے پیدا کی جا رہی ہے۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛  ترجمہ: محمد احسن بٹ)

Friday, May 25, 2018

امریکا: ایٹمی ہتھیاروں میں اضافے کا تشویش ناک فیصلہ

مصنف: ڈیوڈ ای سینگر اور ولیم جے براڈ

امریکا شمالی کوریا اور ایران پر تو دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اپنے اپنے ایٹمی پروگرام ختم کر دیں لیکن اس نے خود اپنے ایٹمی اسلحہ خانے میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایٹمی اسلحہ ختم کروانے کے حوالے سے یہ وائٹ ہاؤس کے لیے ڈرامائی دن ہیں۔ پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ مطالبہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ کیے جانے والے ایٹمی معاہدے سے نکل گئے کہ ایران کو ایک ایسے نئے معاہدے پر دستخط کرنا چاہئیں جس کے تحت ایٹم بم بنانے کا راستا اس پر ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔ پھر امریکی انتظامیہ نے شمالی کوریا کے راہنما کے ساتھ امریکا کے کسی صدر کی اوّلین ملاقات کا اعلان کیا، جس کا مقصد شمالی کوریا کو اس کے ایٹمی ہتھیاروں سے چھٹکارا دلانا ہو گا لیکن جہاں تک امریکا کے اپنے ایٹمی اسلحہ خانے کا تعلق ہے تو امریکی انتظامیہ ہر قدم مخالف سمت میں اٹھا رہی ہے اور امریکا کی ایٹمی صلاحیت بڑھانے کے لیے ضروری ایٹمی پلانٹ تعمیر کرنے پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں، جن پر بہت تھوڑی توجہ دی گئی ہے۔ یہ تضاد حیران و ششدر کر دینے والا ہے۔ جمعرات کی شام صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ ان کے ساتھ ان کی ملاقات 12جون کو سنگاپور میں ہو گی ۔۔۔ اس وقت سے ہی شمالی کوریا اس ملاقات کی منسوخی کی دھمکیاں دے رہا ہے۔اس اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعدپینٹاگان اور محکمۂ توانائی نے جنوبی کیلی فورنیا میں سواناہ رِیور سائٹ میں اگلی نسل کے ایٹمی ہتھیاروں کے اہم ترین اجزا بنانے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ منصوبہ یہ ہے کہ امریکا کے شہروں کوروشنی مہیا کرنے کے لیے پرانے ایٹمی ہتھیاروں کو ری ایکٹر کے ایندھن میں تبدیل کرنے کی غرض سے تعمیر کیے جانے والے ادھورے اور بے شمار مسائل سے دوچار ایٹمی پلانٹ کو ایک بار پھر ایٹمی اسلحہ بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اب اس ایٹمی پلانٹ کو امریکا کے پرانے ایٹمی ہتھیاروں کو کارآمد بنانے کے علاوہ مزید سینکڑوں ایٹم بم بنانے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔پینٹاگان نے فروری میں جاری ہونے والی اپنی بنیادی ایٹمی حکمتِ عملی میں ایٹمی اسلحہ بنانے کے امریکا کے تازہ اقدام کا سب سے بڑا جواز پیش کرتے ہوئے شمالی کوریا کی ایٹمی صلاحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ’’غیر قانونی طور سے ایٹم بم بنا رہا ہے۔‘‘ اس کے علاوہ پچھلے ہفتے ایوانِ نمائندگان کی ’’سٹریٹجک فورسز سب کمیٹی‘‘ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس منصوبے کی منظوری دی جس کے تحت روس کی ایٹمی پیش رفتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آب دوزوں سے داغے جا سکنے والے کم طاقت کے ایٹم بم بنائے جائیں گے۔ سب کمیٹی کے چیئرمین الاباما سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن مائیک ڈی روجرس نے کہا کہ یہ فیصلہ ماسکو کے ساتھ ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا ردِ عمل ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ میں کہا تھا کہ وہ ’’کنٹرول سے باہر ہوتی‘‘ ہتھیاروں کی دوڑ کے حوالے سے روس کے صدر ولادی میر وی پوٹن کے ساتھ ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ (حالاں کہ ایسی کوئی ملاقات طے ہی نہیں پائی۔) مائیک ڈی روجرس نے کہا، ’’یہ کمیٹی جانتی ہے کہ روس اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ امر خطرناک اور سنجیدگی کا متقاضی ہے۔‘‘ شمالی کوریا  نے  بدھ کے روز دھمکی دی کہ اگر امریکا نے’’ایٹمی اسلحہ خانہ یک طرفہ طور سے ختم کرنے پر‘‘ اصرار کیا تو اگلے مہینے سنگاپور میں ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی جائے گی۔ یہ بیان شمالی کوریا کے ایٹمی اسلحہ ختم کرنے کے موضوع پر مذاکرات کرنے والے حکومتی عہدہ دار نے دیا تھا۔ اس سے چند ہی گھنٹے پہلے ریاستی ذرائع ابلاغ سے انتباہ جاری کیا گیا تھا کہ جنوبی کوریا اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کی مشترکہ فوجی مشق پر احتجاج کرنے کے لیے ملاقات منسوخ کی جا سکتی ہے۔ وہ فوجی مشق اسی ہفتے شروع ہوئی تھی۔ اس انتباہ نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے افسران کو حواس باختہ کر دیا اور داخلی بحث چھڑ گئی کہ کم جونگ ان سنگاپور میں ہونے والی ملاقات سے پہلے محض ڈراوا دے رہے ہیں یا ایک نئی حقیقی رکاوٹ کھڑی کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز شمالی کوریا کے ایک نائب وزیرِ خارجہ کم کیے کوان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے نئے متعین کیے جانے والے مشیر جان بولٹن کی مذمت کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا کہ شمالی کوریا اُسی طرح اپنا ایٹمی پروگرام ختم کر دے جس طرح پندرہ سال پہلے لیبیا نے کیا تھا۔ محولہ بیان میں کہا گیا تھا، ’’اگر امریکا یک طرفہ طور سے ایٹمی پروگرام ختم کرنے کے لیے ہم پر دباؤ ڈال کر کونے میں دھکیلے گا تو ہم اس مکالمے میں مزید دل چسپی نہیں لیں گے اور ملاقات پر دوبارہ غور کرنے کے سوا کوئی راستا نہیں ہو گا۔‘‘ جب وائٹ ہاؤس سنبھلا اور شمالی کوریا کے بیان کا جائزہ لیا تو وزارتِ خارجہ نے کہا کہ 12جون والی ملاقات کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور نشان دہی کی کہ جنوبی کوریا کے حکام نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کو بتایا تھا کہ شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ ان کو فوجی مشقوں سے آگاہ کر دیا گیا تھا اور انھوں نے اسے قبول کر لیا تھا۔
جہاں یہ ممکن ہے کہ ایٹمی ہتھیار بڑی مقدار میں بنانے کا امریکا کا فیصلہ اس کی مذاکرات کی حکمتِ عملی کا حصہ ہو، وہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سودے بازی کے لیے ایسی چیز پیش کر کے، جو ابھی شروع ہی نہیں ہوئی، وائٹ ہاؤس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کو یک طرفہ معاملہ تصور کرتا ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ امریکا نے اس امر میں کوئی تضاد نہیں دیکھا ہو کہ وہ کم طاقتور ملکوں کو اپنی ایٹمی صلاحیتیں ختم کرنے پر قائل کرتے ہوئے خود اپنی ایٹمی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ’’ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے‘‘ میں ابتدا ہی سے عدم توازن موجود ہے۔ یہ معاہدہ 1970ء میں عمل میں آیا تھا۔ یہ معاہدہ اُن تمام ریاستوں کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکتا ہے، جن کے پاس پہلے سے ایٹم بم موجود نہیں۔ (اسرائیل، پاکستان اور بھارت نے کبھی اس معاہدے میں شمولیت نہیں جب کہ شمالی کوریا نے اس پر دستخط کیے تھے لیکن بعد میں وہ اس معاہدے سے نکل گیا تھا۔) بہرحال اس معاہدے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ تسلیم شدہ ایٹمی طاقتیں ۔۔۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس ۔۔۔ ’’ایٹمی دوڑ اور ایٹمی ہتھیار ختم کروانے‘‘ کے لیے کام کریں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا اور روس کہہ سکتے ہیں کہ دیوارِ برلن گرنے کے بعد کے بیس برسوں میں انھوں نے اپنے اپنے ایٹم بموں میں کمی کا وعدہ نبھایا ہے۔ دونوں ملکوں نے جتنے ایٹم بم نصب کر رکھے تھے ان کی تعداد ایٹمی ہتھیاروں پر کنٹرول کے معاہدوں کے تحت گھٹ کر اس سال 1,550رہ گئی ہے لیکن ان کے علاوہ ہزاروں ایٹم بم ذخیرہ گاہوں میں محفوظ ہیں۔ امریکا کے سابق صدر بارک اوباما نے کہا تھا کہ امریکا خود اپنے ایٹمی پروگرام کو وسعت دے رہا ہو تو وہ ایٹمی پروگرام ختم کروانے کے لیے دوسرے ملکوں پر دباؤ نہیں ڈال سکتا۔بہرحال ان کے بہت سے ماتحتوں نے بعد میں کہا، ان کی خواہش تھی کہ صدر بارک اوباما امریکا کے ایٹمی اسلحہ خانے میں کمی کے لیے مزید اقدامات کرتے۔ اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ بالکل مخالف سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ امریکا اپنے موجودہ ایٹمی اسلحہ خانے کو بہتر بنانے اور اس میں ایک بار پھر وسعت لانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہا ہے۔ ’’نیو سٹارٹ ٹریٹی‘‘ کی اگلے پانچ سال کے لیے تجدید نہ ہوئی تو فروری 2021ء میں امریکا اور روس کے اسلحہ خانوں پر عائد تحدید ختم ہو جائے گی ۔۔۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری میعادِ صدارت شروع ہونے سے محض چند دن بعد۔
اس اثنا میں امریکا کی حکومت واضح کر رہی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں میں اضافے کے ایک اور دور کے آغاز کی تیاریاں کر رہی ہے۔ سواناہ رِیور والے اعلان میں ان چھوٹے ایٹم بموں کی تیاری کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے جنھیں ایٹمی صنعت میں ’’جہنم‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ چھوٹے ایٹم بم جب کسی وارہیڈ کے اندر پھٹتے ہیں تو ایک انتہائی گرم دِیاسلائی کی طرح عمل کرتے ہوئے تھرمونیوکلیئر ایندھن کی بہت بڑی مقدار میں آگ بھڑکا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہیروشیما کو تباہ کر دینے والے ایٹم بم سے 1,000گنا زیادہ بڑا دھماکا ہوتا ہے ۔ اِن ’’جہنموں‘‘ کو چھوٹے سے چھوٹا اورزیادہ سے زیادہ مؤثر بنانے کا طریقہ ایٹمی دور کے سب سے خفیہ رکھے جانے والے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ اِن میں سے بیش تر کی جسامت گریپ فروٹ جتنی ہے۔ اس جسامت کی وجہ سے وارہیڈز کو لمبی مار والے میزائلوں پر نصب کیا جانا آسان ہوگیا ہے ۔۔۔ یہ ان ٹیکنالوجیوں میں سے ایک ہے جنھیں شمالی کوریا حاصل کرنے کی کوششیں کرتا آ رہا ہے اور شاید حاصل بھی کر چکا ہو۔ گذشتہ جمعرات کیے جانے والے اعلان کا مقصد ’’دو وفاقی لیمووں سے سکنجبین بنانا‘‘ تھا۔ اب تک ’’جہنم‘‘ نیو میکسیکو میں لاس الاموس میں واقع ایٹمی پلانٹ میں بنائے جا رہے تھے۔ یہ وہی ایٹمی پلانٹ ہے جہاں امریکا کا پہلا ایٹم بم بنایا گیا تھا۔ اس ایٹمی پلانٹ میں جاری کام اور اس کے تحفظ کے معاملے میں مسلسل مسائل رونما ہوئے، جو امریکا کے لیے ندامت کا باعث بنے۔ آخر 2015ء میں صدر بارک اوباما نے اس ایٹمی پلانٹ کی اُس وقت کی انتظامیہ کا ٹھیکا منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُس انتظامیہ کی ناکامیوں میں سے ایک ناکامی یہ تھی کہ وہ 80’’جہنم‘‘ سالانہ تیار کرنے کا قابلِ اعتبار منصوبہ بنانے میں ناکام رہی تھی۔
دوسری طرف سواناہ رِیور سائٹ میں ایٹم بم بنانے کے قابل کئی ٹن پلوٹونیم کو تجارتی بجلی گھروں کے ایندھن میں بدلنے کے پروجیکٹ کے اخراجات سترہ ارب ڈالر تک بڑھ گئے تھے۔ اب اس پروجیکٹ کو ختم کر دیا گیا ہے اور پچھلے ہفتے دو حصوں پر مشتمل جس منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے، وہ ’’جہنم‘‘ بنانے کا بوجھ بھی لاس الاموس والے ایٹمی پلانٹ پر سے کم کر دے گا۔ لاس الاموس والا ایٹمی پلانٹ ہر سال تیس ’’جہنم‘‘ بنائے گا جب کہ جنوبی کیرولینا والے ایٹمی پلانٹ میں ہر سال پچاس ’’جہنم‘‘ بنائے جائیں گے۔ امریکا کے محکمۂ توانائی اور محکمۂ دفاع نے کہا کہ اس نظام کے تحت’’ایک ایٹمی پلانٹ پر انحصار نہ کرنے سے ہمارے ایٹمی پلانٹوں اور ایٹمی اسلحہ خانوں کا تحفظ زیادہ بہتر ہو جائے گا۔‘‘ اس اقدام سے نشان دہی ہوتی ہے کہ امریکا نئے ایٹمی ہتھیار بھی بنائے گا حالاں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران ڈ یل سے نکل جانے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تہران ایٹم بم نہ بنانے کا معاہدہ بھی کرے۔ 80’’جہنم‘‘ سالانہ بنانے کے لیے امریکی وفاق کے جواز کو بہت خفیہ رکھا گیا ہے لیکن خدشہ یہ ہے کہ امریکا جس پلوٹونیم ایندھن سے ایٹم بم بنا رہا ہے، اس کا معیار وقت گزرنے کے ساتھ گر جائے گا جس سے آخرِ کار ’’جہنم‘‘ نامی یہ ایٹم بم بے کار ہو جائیں گے۔یہ خدشہ بجا تو ہے لیکن اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔ 2006ء میں ایک وفاقی نیوکلیئر پینل نے تحقیق کے بعد بتایا تھا کہ پلوٹونیم سے تیار کردہ ’’جہنم‘‘ توقع سے زیادہ بہتر ہیں اور انھیں ایک صدی یا اس سے زیادہ عرصہ تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تنقید کرنے والوں نے اس فیصلے پر کہا تھا کہ وفاقی حکومت نئی نسل کے ایٹمی ’’جہنم‘‘ قومی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ محض فوجی قوت دکھانے کی غرض سے بنانا چاہتی ہے۔ امریکا کے ایٹمی پلانٹوں اور ایٹمی اسلحہ خانوں کی نگرانی اور ان کے پھیلاؤ کی مخالفت کرنے والی البوقرق کی نجی تنظیم لاس الاموس سٹڈی گروپ کے ایگزیکٹو گریگ میلو نے حال ہی میں کہا، ’’کسی بھی وارہیڈ کے لیے نئے ’’جہنموں‘‘ کی ضرورت نہیں ہے۔ ہزاروں ’’جہنموں‘‘ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، جنھیں امکانی طور سے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘‘
پینٹاگان کا ’’نیوکلیئر پوسچر ریویو‘‘ فروری میں شائع ہوا۔ اس میں پلوٹونیم سے بنائے گئے ’’جہنموں‘‘ کی تیاری کے لیے نئی صلاحیت کا تقاضا کیا گیا ہے۔ اس میں کانگریس سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ کم طاقت والے نئے ایٹمی ہتھیار بنانے کی منظوری دے۔ پچھلے ہفتے ’’ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی‘‘ کے تمام ارکان پر مشتمل اجلاس میں ’’نیوکلیئر پوسچر ریویو‘‘ کی منظوری دی گئی لیکن تمام ڈیموکریٹ ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیے۔ واشنگٹن سے کانگریس کے رکن اور ’’ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی‘‘ میں ڈیموکریٹ ارکان کے راہنما ایڈم سمتھ نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے پاس ایک قابلِ اعتبار ڈیٹرنٹ ہونا چاہیے لیکن میرا خیال ہے کہ ’’نیوکلیئرپوسچر ریویو‘‘ قابلِ اعتبار ایٹمی ڈیٹرنٹ سے بڑھ گیا ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ایٹمی جنگ چھیڑ بیٹھیں۔‘‘

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛ ترجمہ: محمد احسن بٹ)

Thursday, May 24, 2018

کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم

کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم

مصنف: آرتھر سی بروکس (صدر ’’امریکن اینٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ)

میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتا ہوں۔ یہ نفرت میرے کھیل کے میدان کے برسوں سے نہیں پھوٹی بلکہ اس کی بجائے بیس بائیس سال کی عمر میں ایک پیشہ ورسمفنی آرکسٹرا میں کام کرنے کے میرے تجربے سے پھوٹی ہے۔ آرکسٹرا کے موسیقار جبر، ظلم اور ضرورت سے زیادہ کام لینے کی عادت کے باعث بدنام ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سازندوں کی فن کارانہ زندگی کو مکمل کنٹرول میں رکھنے کی وجہ سے بھی بدنام ہیں۔ وہ اپنی طاقت مستحکم کرنے کی غرض سے سازندوں کو ایک دوسرے کا مخالف بنا دیتے ہیں، ان کی کمزوریوں کی تاک میں رہتے ہیں اور ان کا اعتماد تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔جیسا کہ ہم کہا کرتے ہیں، موسیقار ’’ایول جینیئس‘‘ ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ سارے مجسم شر ہوتے ہیں۔
کئی عشرے گزرنے کے بعد موسیقاروں کے لیے میری رائے تھوڑی نرم ہو گئی ہے لیکن کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں کے متعلق میری رائے پہلے جیسی ہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ لوگوں کی اکثریت بھی کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتی ہے۔ ’’ہوریبل باسز‘‘ اور ’’ریوینج آف دی نرڈز‘‘ جیسی فلموں میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم اپنے مظالم کی سزا پاتے ہیں۔ فلموں کے شائقین کا بڑی تعداد میں یہ فلمیں دیکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جس طرح میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتا ہوں، اسی طرح لوگوں کی اکثریت بھی کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں سے نفرت کرتی ہے۔ کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں کے خلاف عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والوں کی کوششوں پر غور کیجیے۔خاتونِ اوّل یعنی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیوی میلانیا ٹرمپ کی ’’بہترین بنو‘‘ کے نعرے کے تحت شروع کی ہوئی مہم اس سلسلے کی تازہ ترین کوشش ہے۔
چناں چہ یہ ایک اَسرار آمیز امر ہے کہ ایک جمہوری معاشرے میں منڈی کی بنیاد پر استوار مظہر ۔۔۔ یعنی سیاسی مباحثے ۔۔۔ پر اِس وقت انسانی کردار کی اس نفرت انگیز خصوصیت کا غلبہ ہے۔ ٹیلی ویژن سے لے کر سوشل میڈیا اور اعلیٰ ترین سطح کی روزمرہ سیاست تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور لوگ اپنے سے کم تر رتبے کے حامل افراد اور کمزور لوگوں کی تحقیر، تذلیل اور تضحیک کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم موجود ہیں تو انھیں عوامی حلقوں میں شہرت و مقبولیت، توجہ اور حتیٰ کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں انعام و اکرام کیوں ملتا ہے؟ انھیں رد کیوں نہیں کر دیا جاتا؟
اس سوال کے تین جواب اور توضیحات ہیں۔ اوّل، لوگ اخلاقیات کے معاملے میں پسند ناپسند اور جانب داری و تعصب سے کام لیتے ہیں۔ دوسرے فریق کا کمزوروں پر دھونس جمانے والا بزدل ظالم شخص ایک ہولناک شخص ہوتا ہے جب کہ اپنی جانب کا کمزوروں پر دھونس جمانے والا بزدل ظالم شخص ’’سچ بولنے والا‘‘ ہوتا ہے۔ بلا شبہ ہم بعض اوقات اس بیانیے سے بھی ہٹ جاتے ہیں اور یہاں تک کہنے لگتے ہیں کہ ہماری جانب کا کمزوروں پر دھونس جمانے والا بزدل ظالم شخص تو اصل میں مظلوم انسان ہے جو کمزوروں پر دھونس جمانے والا بڑے بزدل ظالموں سے لڑ رہا ہے۔
دوم، صورتِ حال اُلٹ ہے، جو کچھ یوں ہے کہ عوام کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم اشخاص کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ سماجی سائنس داں ژاں لِپ مَین بلومن نے اپنی کتاب ’’دی الیور آف ٹوکسک لیڈرز‘‘ (The Allure of Toxic Leaders) میں دکھایا ہے کہ لوگ سیاسی ڈکٹیٹروں اور جابر منتظمین کے خلاف شکوے شکایت تو کرتے ہیں لیکن تقریباً ہمیشہ ہی ایک غیر یقینی دنیا میں طاقت کی قدیمی پسندیدگی و ستائش اور تحفظ کی ضرورت کے تحت ان کے وفادار رہتے ہیں۔
جہاں تک آرکسٹرا کے جہان کا تعلق ہے تو وہاں وائیولا بجانے والے ایک سازندے کا لطیفہ اکثر سنایا جاتا ہے جسے موسیقار نے برسوں سے گالم گلوچ اور اذیت کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ایک دن وہ ریہرسل کر کے گھر واپس آیا تو دیکھا کہ اس کا گھر جل کر راکھ ہو چکا ہے۔ وہاں موجود پولیس والوں نے اسے بتایا کہ یہ کام اس کے آرکسٹرا کے موسیقار نے کیا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کوئی سوال کرنا چاہتا ہے۔ اس نے لمحہ بھر سوچنے کے بعد نرم لہجے میں پوچھا، ’’کیا استاد جی میرے گھر تشریف لائے تھے؟‘‘
تیسری توضیح سادہ رضامندی ہے۔ 1999ء میں ’’جرنل آف ایڈولسینس‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بڑی معروف ہے۔ یہ تحقیق تین ماہرینِ نفسیات نے اس موضوع پر کی تھی کہ جب بچے کسی بزدل ظالم کو اپنے سے کمزور شخص پر دھونس جماتا دیکھتے ہیں تو وہ کس طرح کا ردِ عمل کرتے ہیں۔
کھیل کے میدان میں کھیلتے کودتے ہزاروں بچوں کی ویڈیوز بنائی گئیں۔ اس دوران کمزوروں پر دھونس جمانے کے 200واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم یہ بات بہت زیادہ پسند کرتے ہیں کہ جب وہ کسی کمزور پر دھونس جما رہے ہوں تو اس دوران ان کے ارد گرد تماشائی موجود ہوں۔ ریکارڈ کیے جانے والے 200واقعات میں سے 100واقعات ایسے تھے جن میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم اور مظلوم کے علاوہ دو یا دو سے زیادہ لوگ موجود تھے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات رونما ہونے کے وقت جو لوگ موجود ہوتے ہیں، وہ کیا کرتے ہیں؟ محولہ 200واقعات میں سے جن 100واقعات میں دوسرے جتنے بھی لوگ موجود تھے ان میں سے 21فی صد نے کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم کا ساتھ دیا تھا جب کہ 25فی صد نے مظلوم کا ساتھ دیا تھا۔ باقی 54فی صد لوگ غیر جانب دار رہے تھے۔ وہ بغیر کوئی ردِ عمل کیے ’’تماشا‘‘ دیکھتے رہے تھے۔ انھوں نے نہ تو کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم کا ساتھ دیا تھا اور نہ ہی مظلوم کی مدد کی تھی۔ جب سیاست کے میدان میں بزدل ظالم سیاست دان کمزوروں پر دھونس جماتے ہیں تو بالغ افراد کا ردِ عمل اُن بچوں سے مختلف نہیں ہوتاجن کی ویڈیوز محولہ تحقیق کے دوران بنائی گئی تھیں۔سیاسی تقریر ہو یا معمول کا مزاح کمزوروں پر دھونس جمانے کے بد ترین واقعے پر بھی بے نیازی سے کندھے جھٹک دیے جاتے ہیں۔
امریکا کے سابق صدر تھیوڈور روزویلٹ نے امن کا نوبل انعام حاصل کرتے وقت جو تقریر کی تھی، اس میں انھوں نے کہا تھا، ’’ہم نجی اور سرکاری زندگی میں کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالموں، عادی جھگڑا لو لوگوں اور جابروں سے نفرت اور حقارت کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے اپنی زندگی بخش تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا تھا، ’’لیکن ہم بزدلوں اور عیش و عشرت میں دل چسپی لینے والوں سے بھی کم نفرت نہیں کرتے ۔ اگر کوئی انسان حقوق سے محرومی اور ذلت و خواری کا مقابلہ نہیں کرتا یا ناانصافی کے شکار اپنے پیاروں کی خاطر نہیں لڑتا تو وہ انسان کہلائے جانے کا حق دار نہیں۔‘‘
امریکا کے سابق صدر تھیوڈور روزویلٹ نے یہ بات اجنبیوں کا دفاع کرنے کے بارے میں نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کے (’’اپنے پیاروں‘‘ کے) حق میں کھڑے ہونے کے بارے میں کی تھی۔ بالکل درست لیکن اپنے آپ سے پوچھیے کہ آپ کے حقیقی اتحادی کون کون ہیں؟ اگر کوئی ایسا شخص آپ کا دوست ہو جس سے آپ سیاسی اعتبار سے اتفاق رائے نہیں رکھتے ہوں تو کیا وہ شخص سیاسی اعتبار سے آپ کے ہم خیال کسی مسخرے، سیاست دان یا ٹوئٹر پر دوسروں کو دِق کرنے والے شخص کی نسبت آپ کا زیادہ اتحادی نہیں ہو گا؟ اگر ایسا ہو تو کیا آپ کو اس مرد یا عورت کو کمزوروں پر دھونس جمانے والے بزدل ظالم سے بچانے کے لیے کھڑا نہیں ہونا چاہیے، خواہ کمزوروں پر دھونس جمانے والا وہ بزدل ظالم شخص سیاسی اعتبار سے آپ کا ہم خیال ہو؟
بزدل ظالم اپنے سے کمزور افراد پر تب ہی دھونس جماتے ہیں جب اس طرزِ عمل کی طلب موجود ہو، اس کے علاوہ وہ تب ہی ایسا کرتے ہیں جب ان کے اس طرزِ عمل پر کوئی ردِ عمل نہ کیا جائے: انھیں دیکھنے والے شائقین اور تماش بین مطلوب ہوتے ہیں۔ چناں چہ وائٹ ہاؤس کے اخباری نمائندگان کے عشایئے کے میزبان یا ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر پر الزام مت دھریئے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم امریکی بزدلوں اور تعیش پرستوں کی قوم بن چکے ہیں۔ ہم غیر فعالیت سے بیٹھے ہیں جب کہ ہمارے سیاسی بیانیے پر گالم گلوچ اور تحقیر کا غلبہ ہو چکا ہے۔
اگر آپ اس صورتِ حال سے نفرت کرتے ہیں تو کھڑے ہو جائیے۔ میں نے آرکسٹرا میں ایسا صرف ایک مرتبہ ہوتے دیکھا تھا۔ ایک مہمان موسیقار ریہرسل کے دوران ہمیں ڈانٹ رہا تھا اور بعض سازندوں کو گالیاں دے رہا تھا۔ آخر ایک سازندہ کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا، ’’استادِ محترم میں اپنے تمام ساتھیوں کی طرف سے آپ کے کامل احترام کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ مسئلہ ہم نہیں، آپ ہیں۔‘‘
موسیقار نے اس سازندے کو ریہرسل سے نکال دیا تھا لیکن ہم سب کے لیے وہ ہیروتھا۔

(بشکریہ نیو یارک ٹائمز؛  ترجمہ: محمد احسن بٹ)

چوتھے صنعتی انقلاب کا زمانہ، میگا سٹی، یوٹوپیا اور ڈائریا

اپنے لایعنی خیالوں کی دنیا میں جینے والوں کی یوٹوپیا، میگا سِٹی، عظیم تاریخی شہر وغیرہ وغیرہ کی اس چوتھے صنعتی انقلاب کے زمانے میں، اکیسویں ...